السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: الماء الكثير لا ينجس بنجاسة تحدث فيه ما لم يتغير باب: زیادہ پانی کا اس میں نجاست گرنے سے ناپاک نہ ہونے کا بیان جب تک اس کی حالت تبدیل نہ ہو
حدیث نمبر: 1224
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، يَقُولُ: " إِنَّمَا الْمَاءُ طَهُورٌ كُلُّهُ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ " وَزَادَ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ سَعِيدٍ: سَأَلْنَاهُ عَنِ الْحِيَاضِ تَلِغُ فِيهَا الْكِلَابُ، قَالَ: " أُنْزِلَ الْمَاءُ طَهُورًا لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ ".حافظ ثناء اللہ
(الف) داؤد بن ابی ہند رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے سنا کہ تمام پانی پاک ہے، اس کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔
(ب) سعید بن مسیب رحمہ اللہ ہی سے منقول ہے کہ ہم نے ان سے ان حوضوں کے متعلق پوچھا جن میں کتے پانی پیتے ہیں۔ انہوں نے کہا: پانی پاک اتارا گیا ہے اور اس کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔