السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: الماء الكثير لا ينجس بنجاسة تحدث فيه ما لم يتغير باب: زیادہ پانی کا اس میں نجاست گرنے سے ناپاک نہ ہونے کا بیان جب تک اس کی حالت تبدیل نہ ہو
حدیث نمبر: 1222
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الِإسْفَرَايِينِيُّ، ثنا أَبُو بَحْرٍ الْبَرْبَهَارِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَمْرٌو، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَرَدَ حَوْضَ مِجَنَّةَ فَقِيلَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّمَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِيهِ آنِفًا فَقَالَ: " إِنَّمَا وَلَغَ الْكَلْبُ بِلِسَانِهِ " فَشَرِبَ وَتَوَضَّأَ وَرُوِيَ عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالَ: قَدْ ذَهَبَتْ بِمَا وَلَغَتْ يَعْنِي الْكِلَابَ فِي ⦗٣٩٢⦘ بُطُونِهَا وَهَذِهِ قِصَّةٌ مَشْهُورَةٌ عَنْ عُمَرَ وَإِنْ كَانَتْ مُرْسَلَةً وَقَدْ رُوِّينَا فِي مَعْنَاهَا عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، عَنْ عُمَرَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عکرمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مجنہ کے حوض کے پاس آئے، عرض کیا گیا: اے امیر المؤمنین! ابھی ابھی کتے نے اس میں منہ ڈالا ہے، تو انہوں نے کہا: کتا اپنی زبان سے پیتا ہے۔ پھر انہوں نے (پانی) پیا اور وضو کیا۔
(ب) سیدنا عکرمہ رحمہ اللہ سے یہی قصہ منقول ہے، اس میں ہے کہ وہ چلا گیا جس میں اس نے منہ ڈالا، یعنی کتے وہ پانی اپنے پیٹوں میں لے گئے۔