السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: الماء الكثير لا ينجس بنجاسة تحدث فيه ما لم يتغير باب: زیادہ پانی کا اس میں نجاست گرنے سے ناپاک نہ ہونے کا بیان جب تک اس کی حالت تبدیل نہ ہو
حدیث نمبر: 1223
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، أنا أَبُو بَحْرٍ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا مَنْبُوذٌ، عَنْ أُمِّهِ، قَالَتْ: " كُنَّا نُسَافِرُ مَعَ مَيْمُونَةَ فَتَمُرُّ بِالْغَدِيرِ فِيهِ الْبَعْرُ وَالْجُعْلَانُ فَتَشْرَبُ مِنْهُ أَوْ تَتَوَضَّأُ بِهِ وَقَالَ سُفْيَانُ: وَهَذَا لَيْسَ بِشَكٍّ إِنَّمَا أَرَادَتْ تَشْرَبُ إِنْ أَرَادَتْ أَوْ تَتَوَضَّأُ إِنْ أَرَادَتْ ".حافظ ثناء اللہ
منبوذ اپنی والدہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم میمونہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ سفر کر رہے تھے، وہ کنویں کے پاس سے گزریں، اس میں اونٹ کا گوبر اور کیڑے تھے تو انہوں نے اس سے پیا اور وضو کیا۔ سفیان کہتے ہیں: اس میں شک نہیں ہے انہوں نے پینے کا ارادہ کیا تو پیا اور جب وضو کا ارادہ کیا تو وضو کیا۔