کتب حدیثصحیح الجامع الصغیرابوابباب: حرف طا سے شروع ہونے والی احادیث
«الطاعون بقية رجز أو عذاب أرسل على طائفة من بني إسرائيل فإذا وقع بأرض وأنتم بها فلا تخرجوا منها فرارا منه وإذا وقع بأرض ولستم بها فلا تهبطوا عليها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”طاعون اس عذاب کا بچا کھچا حصہ ہے جو بنی اسرائیل کی ایک جماعت پر بھیجا گیا تھا، پس اگر یہ کسی زمین میں پھیل جائے اور تم وہاں ہو تو اس سے بھاگتے ہوئے وہاں سے مت نکلو، اور اگر یہ کسی زمین میں پھیل جائے اور تم وہاں نہ ہو تو وہاں مت جاؤ۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الطاء / حدیث: 3945
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق ت] عن أسامة.
«الطاعون شهادة لأمتي ووخز أعدائكم من الجن غدة كغدة الإبل تخرج في الآباط والمراق من مات فيه مات شهيدا ومن أقام فيه كان كالمرابط في سبيل الله ومن فر منه كان كالفار من الزحف»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”طاعون میری امت کے لیے شہادت ہے، اور یہ تمہارے دشمن جنوں کی چبھن ہے، یہ اونٹ کی غدود جیسی ایک گلٹی ہے جو بغلوں اور پیٹ کے نچلے حصوں میں نکلتی ہے۔ جو اس میں مر گیا وہ شہید مرا، اور جو اس میں صبر کے ساتھ ٹھہرا رہا وہ اللہ کی راہ میں مورچہ سنبھالنے والے کی طرح ہے، اور جو اس سے بھاگا وہ میدانِ جنگ سے بھاگنے والے کی طرح ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الطاء / حدیث: 3946
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [طس أبو نعيم في فوائد أبي بكر بن خلاد] عن عائشة. الصحيحة ١٩٢٨.
«الطاعون شهادة لكل مسلم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”طاعون ہر مسلمان کے لیے شہادت ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الطاء / حدیث: 3947
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم ق ك] عن أنس. مختصر مسلم ١٠٨٣، أحكام الجنائز ٣٧: الطيالسي.
«الطاعون غدة كغدة البعير المقيم بها كالشهيد والفار منها كالفار من الزحف»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”طاعون اونٹ کی غدود جیسی ایک گلٹی ہے، اس میں ٹھہرنے والا شہید کی طرح ہے، اور اس سے بھاگنے والا میدانِ جنگ سے بھاگنے والے کی طرح ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الطاء / حدیث: 3948
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم] عن عائشة. الترغيب ٢/٢٠٤: ع، طس. الصحيحة ٦٥٥.
«الطاعون كان عذابا يبعثه الله على من يشاء وإن الله جعله رحمة للمؤمنين فليس من أحد يقع الطاعون فيمكث في بلده صابرا محتسبا يعلم أنه لا يصيبه إلا ما كتب الله له إلا كان له مثل أجر شهيد»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”طاعون ایک عذاب تھا جسے اللہ جس پر چاہتا بھیجتا تھا، لیکن اللہ نے اسے مومنوں کے لیے رحمت بنا دیا ہے، پس کوئی بھی ایسا شخص نہیں جس کے شہر میں طاعون واقع ہو اور وہ صبر و ثواب کی نیت سے وہیں ٹھہرا رہے، یہ جانتے ہوئے کہ اسے صرف وہی کچھ پہنچے گا جو اللہ نے اس کے لیے لکھ دیا ہے، مگر اسے شہید جیسا اجر ملے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الطاء / حدیث: 3949
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خ] عن عائشة. أحكام الجنائز ٣٧: هق.
«الطاعون والغرق والبطن والحرق والنفساء شهادة لأمتي»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”طاعون، ڈوبنا، پیٹ کی بیماری، آگ سے جلنا اور زچگی کی وجہ سے موت میری امت کے لیے شہادت ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الطاء / حدیث: 3950
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم طب الضياء] عن صفوان بن أمية. أحكام الجنائز ٣٨ - ٣٩: الدارمي، ن.
«الطاعون وخز أعدائكم من الجن وهو لكم شهادة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”طاعون تمہارے دشمن جنوں کی چبھن ہے، اور یہ تمہارے لیے شہادت ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الطاء / حدیث: 3951
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ك] عن أبي موسى. الضعيفة ١٨٦، الإرواء ١٦٣٧، ١٦٣٨.
«الطعام بالطعام مثلا بمثل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کھانا کھانے کے بدلے، برابر برابر۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الطاء / حدیث: 3952
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م] عن معمر بن عبد الله. مختصر مسلم ٩٠٨، الموسوعة.
«الطعن والطاعون والهدم وأكل السبع والغرق والحرق والبطن وذات الجنب شهادة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”نیزے کا زخم لگ کر مرنا، طاعون، عمارت کے نیچے دب کر مرنا، درندے کا کھا جانا، ڈوب جانا، جل جانا، پیٹ کی بیماری اور ذات الجنب شہادت ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الطاء / حدیث: 3953
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ابن قانع] عن ربيع الأنصاري١". مجمع الزوائد ١/٣٠٠، ٣٠١. قلت: والحديث جاء مفرقا في أحاديث خرجتها في أحكام الجنائز ص ٣٦، ٤٣. إلا فقرة السبع، فلم أجد لها شاهدا إلا من قول ابن مسعود موقوفا عليه، ولذلك لم أو ردها في [الجنائز] والله أعلم.
«الطواف بالبيت صلاة ولكن الله أحل فيه المنطق فمن نطق فلا ينطق إلا بخير»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بیت اللہ کا طواف نماز ہے، لیکن اللہ نے اس میں بات چیت کو حلال کیا ہے، پس جو بات کرے وہ اچھی بات ہی کرے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الطاء / حدیث: 3954
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب حل ك هق] عن ابن عباس. الإرواء ١٢١.
«الطواف حول البيت مثل الصلاة إلا أنكم تتكلمون فيه فمن تكلم فيه فلا يتكلم إلا بخير»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بیت اللہ کے گرد طواف نماز کی طرح ہے، سوائے اس کے کہ تم اس میں بات کر سکتے ہو، پس جو اس میں بات کرے وہ اچھی بات ہی کرے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الطاء / حدیث: 3955
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت ك هق] عن ابن عباس. الإرواء ١٢١.
«الطواف صلاة فأقلوا فيه الكلام»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”طواف نماز ہے، پس اس میں کم بات کیا کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الطاء / حدیث: 3956
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن ابن عباس. الإرواء ١٢١.
«الطهور شطر الإيمان والحمد لله تملأ الميزان وسبحان الله والحمد لله تملآن ما بين السماء والأرض والصلاة نور والصدقة برهان والصبر ضياء والقرآن حجة لك أو عليك كل الناس يغدوا فبائع نفسه فمعتقها أو موبقها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”پاکیزگی آدھا ایمان ہے، اور «الْحَمْدُ لِلَّهِ» (تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں) کہنا میزان کو بھر دیتا ہے، اور «سُبْحَانَ اللَّهِ» (اللہ پاک ہے) اور «الْحَمْدُ لِلَّهِ» آسمان اور زمین کے درمیان کی جگہ کو بھر دیتے ہیں، اور نماز نور ہے، اور صدقہ دلیل ہے، اور صبر روشنی ہے، اور قرآن تیرے حق میں یا تیرے خلاف دلیل ہے۔ ہر انسان صبح اٹھتا ہے اور اپنے نفس کو بیچنے نکلتا ہے، پس یا تو اسے آزاد کروا لیتا ہے یا اسے ہلاک کر دیتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الطاء / حدیث: 3957
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث مختصر مسلم ١٢٠، تخريج مشكلة الفقر ٥٩.
«الطلاق بيد من أخذ بالساق»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”طلاق کا اختیار اس کے ہاتھ میں ہے جو پنڈلی پکڑے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الطاء / حدیث: 3958
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [طب] عن ابن عباس. الإرواء ٢٠٤١: ابن ماجه، قط، هق.
«الطير تجري بقدر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”پرندے بھی تقدیر کے مطابق اڑتے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الطاء / حدیث: 3959
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ك] عن عائشة. الصحيحة ٨٦٠: حم، ابن أبي عاصم، البزار، عد، السهمي.
«الطيرة شرك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بدشگونی لینا شرک ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الطاء / حدیث: 3960
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث غاية المرام ٣٠٣، الصحيحة ٤٣٠: الطحاوي، حب.