«الظلم ثلاثة فظلم لا يغفره الله وظلم يغفره وظلم لا يتركه فأما الظلم الذي لا يغفره الله فالشرك قال الله: {إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ} , وأما الظلم الذي يغفره فظلم العباد أنفسهم فيما بينهم وبين ربهم وأما الظلم الذي لا يتركه الله فظلم العباد بعضهم بعضا حتى يدبر لبعضهم من بعض»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ظلم تین قسم کا ہے: ایک ظلم وہ ہے جسے اللہ معاف نہیں کرے گا، ایک ظلم وہ ہے جسے وہ معاف کر دے گا، اور ایک ظلم وہ ہے جسے وہ نہیں چھوڑے گا۔ رہا وہ ظلم جسے اللہ معاف نہیں کرے گا تو وہ شرک ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: بے شک شرک بہت بڑا ظلم ہے۔ اور رہا وہ ظلم جسے وہ معاف کر دے گا تو وہ بندوں کا اپنے اور اپنے رب کے درمیان اپنی جانوں پر ظلم ہے، اور رہا وہ ظلم جسے اللہ نہیں چھوڑے گا تو وہ بندوں کا ایک دوسرے پر ظلم ہے، یہاں تک کہ وہ ان کے درمیان بدلہ دلوائے گا۔“
”ظلم تین قسم کا ہے: ایک ظلم وہ ہے جسے اللہ معاف نہیں کرے گا، ایک ظلم وہ ہے جسے وہ معاف کر دے گا، اور ایک ظلم وہ ہے جسے وہ نہیں چھوڑے گا۔ رہا وہ ظلم جسے اللہ معاف نہیں کرے گا تو وہ شرک ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: بے شک شرک بہت بڑا ظلم ہے۔ اور رہا وہ ظلم جسے وہ معاف کر دے گا تو وہ بندوں کا اپنے اور اپنے رب کے درمیان اپنی جانوں پر ظلم ہے، اور رہا وہ ظلم جسے اللہ نہیں چھوڑے گا تو وہ بندوں کا ایک دوسرے پر ظلم ہے، یہاں تک کہ وہ ان کے درمیان بدلہ دلوائے گا۔“
«الظهر يركب بنفقته إذا كان مرهونا ولبن الدر يشرب بنفقته إذا كان مرهونا وعلى الذي يركب ويشرب النفقة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”گروی رکھا ہوا جانور اگر سواری کے لیے ہو تو اس پر خرچ کرنے کے بدلے اس پر سوار ہوا جا سکتا ہے، اور گروی رکھا ہوا دودھ والا جانور اگر ہو تو اس پر خرچ کرنے کے بدلے اس کا دودھ پیا جا سکتا ہے، اور سوار ہونے اور دودھ پینے والے پر ہی اس کا خرچہ لازم ہے۔“
”گروی رکھا ہوا جانور اگر سواری کے لیے ہو تو اس پر خرچ کرنے کے بدلے اس پر سوار ہوا جا سکتا ہے، اور گروی رکھا ہوا دودھ والا جانور اگر ہو تو اس پر خرچ کرنے کے بدلے اس کا دودھ پیا جا سکتا ہے، اور سوار ہونے اور دودھ پینے والے پر ہی اس کا خرچہ لازم ہے۔“