حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا الحسن بن علي بن عفَّان العامِريُّ، حَدَّثَنَا محمد بن عُبيد الطَّنَافسي، حَدَّثَنَا مِسعَر. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه وعلي بن حَمْشاذَ العَدْل ومحمد بن عبد الله الشافعي وعبد الله بن محمد بن موسى الصَّيدلاني، قالوا: حَدَّثَنَا محمد بن سليمان ابن الحارث، حَدَّثَنَا خلَّاد بن يحيى، حَدَّثَنَا مِسعَر. وأخبرني أبو بكر محمد بن عمرو البزّار ببغداد، حَدَّثَنَا محمد بن موسى القُرَشي، حَدَّثَنَا أبو بكر الحنفيُّ، حَدَّثَنَا مِسعَر بن كِدَام عن زياد بن عِلَاقة، عن أسامة بن شَريك قال: شَهِدتُ رسولَ الله ﷺ والأعرابُ يسألونه، قالوا: يا رسول الله، علينا حَرَجٌ في كذا؟ علينا حرج في كذا؟ لأشياءَ ليس بها بأس، فقال: "عبادَ الله، وَضَعَ الله الحَرَجَ إِلَّا من اقترفَ من عِرْضِ امْرِئٍ مُسْلم ظلمًا، فذلك الذي حَرِجَ وهَلَك". فقالوا: نَتَداوي يا رسول الله؟ قال: "نعم، تَداوَوْا عبادَ الله، فإِنَّ الله تعالى لم يَضَعْ داءً إلَّا وَضَعَ له دواءً غيرَ داءٍ واحد" قالوا: يا رسول الله، وما هو؟ قال: "الهَرَمُ". قالوا: يا رسول الله، ما خيرُ ما أُعطيَ الإنسانُ؟ قال: "خُلُقٌ حَسَن" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، فقد رواه عَشَرةٌ من أئمة المسلمين وثِقاتِهم عن زياد بن عِلاقةَ، فمنهم مِسعَر بن كِدام، كما تقدَّم ذكري له. ومنهم مالك بن مِغْوَل البَجَليُّ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8206 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، فقد رواه عَشَرةٌ من أئمة المسلمين وثِقاتِهم عن زياد بن عِلاقةَ، فمنهم مِسعَر بن كِدام، كما تقدَّم ذكري له. ومنهم مالك بن مِغْوَل البَجَليُّ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8206 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھا اور دیہاتی آپ ﷺ سے (مختلف امور کے متعلق) سوالات کر رہے تھے، وہ عرض کرتے تھے: اے اللہ کے رسول! کیا ہم پر فلاں کام میں کوئی حرج ہے؟ کیا ہم پر فلاں بات میں کوئی گناہ ہے؟ وہ ایسی چیزوں کے بارے میں دریافت کر رہے تھے جن میں کوئی حرج نہ تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کے بندو! اللہ تعالیٰ نے (معمولی لغزشوں سے) حرج کو اٹھا لیا ہے سوائے اس شخص کے جس نے اپنے کسی مسلمان بھائی کی عزت و آبرو پر ناحق دست درازی کر کے اس پر ظلم کیا ہو، پس وہی شخص ہے جو گناہ میں مبتلا ہوا اور ہلاک ہو گیا۔“ صحابہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا ہم (بیماری میں) دوا کا استعمال کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، اے اللہ کے بندو! دوا کیا کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسی بیماری پیدا نہیں کی جس کی دوا بھی پیدا نہ کی ہو، سوائے ایک بیماری کے۔“ انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! وہ کون سی بیماری ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بڑھاپا۔“ پھر انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! انسان کو عطا کی گئی تمام نعمتوں میں سب سے بہتر چیز کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اچھا اخلاق۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، اسے ائمہ مسلمین اور ان کے ثقہ راویوں میں سے دس افراد نے زیاد بن علاقہ سے روایت کیا ہے جن میں سے ایک مسعر بن کدام ہیں جن کا تذکرہ میں نے پہلے کیا، اور ان میں مالک بن مغول بجلی بھی شامل ہیں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، اسے ائمہ مسلمین اور ان کے ثقہ راویوں میں سے دس افراد نے زیاد بن علاقہ سے روایت کیا ہے جن میں سے ایک مسعر بن کدام ہیں جن کا تذکرہ میں نے پہلے کیا، اور ان میں مالک بن مغول بجلی بھی شامل ہیں۔
حدثني أبو أحمد محمد بن محمد الحافظ (2)، حَدَّثَنَا يحيى بن محمد بن صاعد، حَدَّثَنَا أحمد بن محمد بن أبي الخناجر بأطرابُلُسَ - وكان ثقةً مأمونًا - حَدَّثَنَا محمد بن مصعب القَرْقَساني، عن مالك بن مِغْول، عن زياد بن عِلاقة (3). ومنهم عمرو بن قيس المُلَائي:
حافظ طلحہ بابر
محمد بن مصعب قرقسانی، مالک بن مغول کے واسطے سے زیاد بن علاقہ سے وہی حدیث روایت کرتے ہیں جس کا متن نمبر 8406 میں گزر چکا ہے۔
أخبرَناه أبو بكر الشافعي، حَدَّثَنَا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حَدَّثَنَا محمد بن حرب النَّشَائي، حَدَّثَنَا عمر بن شَبيب، عن عمرو بن قيس المُلَائي، عن زياد بن عِلاقة (1). ومنهم سليمان بن مِهران الأعمش:
حافظ طلحہ بابر
عمرو بن قیس ملائی نے بھی زیاد بن علاقہ کے واسطے سے اسی مفہوم کی روایت بیان کی ہے۔
أخبرَناه أبو بكر الشافعي، حَدَّثَنَا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حَدَّثَنَا أبو بكر وعثمانُ ابنا أبي شَيْبة، قالا: حَدَّثَنَا جَرير، عن الأعمش (2). ومنهم شعبةُ بن الحَجّاج:
حافظ طلحہ بابر
سلیمان بن مہران اعمش نے زیاد بن علاقہ کے واسطے سے وہی حدیث روایت کی ہے۔
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا إبراهيم بن مرزوق البَصريّ بمصر، حَدَّثَنَا سعيد بن عامر، حَدَّثَنَا شُعبة. قال: وحدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن غالب، حَدَّثَنَا مسلم (3) بن إبراهيم، حَدَّثَنَا شعبة.
حافظ طلحہ بابر
شعبہ بن حجاج نے زیاد بن علاقہ کے واسطے سے یہی حدیث نقل کی ہے۔
وحدثني أبو بكر محمد بن علي المُؤدِّبُ، أخبرنا أبو خَليفة (4)، حَدَّثَنَا أبو الوليد الطَّيَالسي، حَدَّثَنَا شعبة. وأخبرني أبو عمرو محمد بن جعفر الزاهد العَدْل، حَدَّثَنَا يحيى بن محمد البَخْتريُّ، حَدَّثَنَا عُبيد الله بن معاذ بن معاذ العَنبريُّ، حَدَّثَنَا أبي، حَدَّثَنَا شعبة، عن زياد بن عِلاقة (5). ومنهم محمد بن جُحَادة الإياديُّ:
حافظ طلحہ بابر
اسی طرح کی ایک اور سند کے ساتھ امام شعبہ نے زیاد بن علاقہ کے واسطے سے یہی روایت کی ہے۔
حدَّثَناه أبو علي الحسين بن علي الحافظ، أخبرنا سَهْل بن أحمد الواسطي، حَدَّثَنَا عبدُ القُدّوس بن محمد بن عبد الكبير بن شعيب بن الحَبْحَاب، حَدَّثَنَا عَمرو بن عاصم الكِلابيُّ، حَدَّثَنَا عِمران القَطَّان، حَدَّثَنَا محمد بن جُحَادة (1). ومنهم أبو حمزة محمد بن ميمون السُّكَّري:
حافظ طلحہ بابر
محمد بن جحادہ ایادی نے زیاد بن علاقہ کے واسطے سے اسی حدیث کی تائید میں روایت نقل کی ہے۔
أخبرنا أبو الحسن محمد بن عبد الله السُّنِّيُّ بمَرْو، حَدَّثَنَا أبو المُوجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا أبو حمزة، عن زِياد بن عِلاقة (2). ومنهم أبو عَوَانة الوَضَّاحُ:
حافظ طلحہ بابر
ابو حمزہ محمد بن میمون سکری نے زیاد بن علاقہ کے واسطے سے وہی حدیث بیان کی ہے۔
أخبرني أبو بكر الشافعيُّ، حَدَّثَنَا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حَدَّثَنَا عفّان بن مسلم، حَدَّثَنَا شُعبة وأبو عَوَانة، عن زياد بن عِلاقة (3). ومنهم سفيان بن عُيَينة الهِلاليُّ:
حافظ طلحہ بابر
ابو عوانہ وضاح نے زیاد بن علاقہ کے واسطے سے یہی حدیث روایت کی ہے۔
حَدَّثَنَا أبو بكر بن إسحاق وعلي بن حَمْشاذَ وأبو بكر الشافعي، قالوا: حَدَّثَنَا بِشْر بن موسى، حَدَّثَنَا الحُميديُّ، حَدَّثَنَا سفيان، عن زياد بن عِلاقة (4). ومنهم عثمان بن حَكِيم الأَوْدي:
حافظ طلحہ بابر
سفیان بن عیینہ ہلالی نے زیاد بن علاقہ کے واسطے سے وہی روایت بیان کی ہے۔
حدَّثَناه أبو جعفر محمد بن أحمد بن سعيد المُذكِّر، حَدَّثَنَا أبو زُرْعة عبيد الله بن عبد الكريم الرازي، حَدَّثَنَا إبراهيم بن موسى، حَدَّثَنَا عيسى بن يونس (5)، حَدَّثَنَا عثمان بن حَكِيم، عن زياد بن عِلاقة - واللفظُ لحديث أبي زُرعة الإمام (1) - حَدَّثَنَا أسامة بن شَريك، قال: كنّا جلوسًا عند النَّبِيّ ﷺ كأنما على رؤوسنا الطيرُ، لا يتكلّمُ مِنَّا مُتكلِّمٌ، إذ جاءه ناسٌ من الأعراب فقالوا: يا رسول الله، أفْتِنا في كذا، أفْتِنا في كذا، فقال: "يا أيها الناس، وَضَعَ الله الحَرَجَ إِلَّا مَن اقتَرَض لأخيه عِرْضًا، فذلك الذي حَرِجَ وهَلَك". قالوا: أفنَتَداوى يا رسول الله؟ قال: "نعم، إنَّ الله ﷿ لم يُنزِلْ داءً إِلَّا أَنزل له شفاءً، غيرَ داءٍ واحد" قالوا: وما هو يا رسول الله؟ قال: "الهَرَمُ". قالوا: فمن أحبُّ عبادِ الله إلى الله؟ قال: "أحسَنُهم خُلُقًا" (2). ومنهم شَيْبانُ بن عبد الرحمن النَّحْوي:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں اس طرح بانتہائی ادب و وقار کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ گویا ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں اور ہم میں سے کوئی بھی کلام نہیں کر رہا تھا، اسی دوران کچھ دیہاتی آپ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور مختلف امور کے بارے میں دریافت کرنے لگے: اے اللہ کے رسول! ہمیں فلاں کے بارے میں بتائیے، ہمیں فلاں کے بارے میں حکم دیجیے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے لوگو! اللہ تعالیٰ نے حرج کو اٹھا لیا ہے سوائے اس شخص کے جس نے اپنے بھائی کی عزت و آبرو پر ناحق زبان درازی کی ہو، پس وہی شخص گناہ میں پڑا اور ہلاک ہو گیا۔“ انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا ہم (بیماری میں) دوا کا استعمال کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، بیشک اللہ عزوجل نے کوئی ایسی بیماری نازل نہیں کی جس کے لیے شفاء نازل نہ کی ہو، سوائے ایک بیماری کے۔“ انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! وہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بڑھاپا۔“ انہوں نے پوچھا: اللہ کے نزدیک اس کے بندوں میں سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ جن کے اخلاق سب سے بہتر ہیں۔“
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حَدَّثَنَا أحمد بن مِهران، حَدَّثَنَا عبيد الله بن موسى، أخبرنا شَيْبان بن عبد الرحمن، عن زياد بن عِلاقة (3). ومنهم وَرْقاء بن عُمر (4) اليَشكُري:
حافظ طلحہ بابر
شیبان بن عبدالرحمٰن نحوی نے بھی زیاد بن علاقہ کے واسطے سے یہی حدیث روایت کی ہے۔
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا محمد بن عيسى بن حيّان المَدَائني، حَدَّثَنَا سلَّام بن سليمان المَدَائني، حَدَّثَنَا وَرْقاءُ، عن زياد بن عِلاقة (5). ومنهم زهير بن معاوية الجُعْفي:
حافظ طلحہ بابر
ورقاء بن عمر یشکری نے بھی زیاد بن علاقہ کے واسطے سے یہی حدیث بیان کی ہے۔
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا إسماعيل بن قُتيبة، حَدَّثَنَا يحيى ابن يحيى، أخبرنا أبو خَيثَمة زهير بن معاوية، عن زياد بن عِلاقةَ، عن أسامة بن شَريك (1). ومنهم عمرو بن أبي قيس الرازي:
حافظ طلحہ بابر
زہیر بن معاویہ جعفی نے بھی زیاد بن علاقہ کے واسطے سے سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث روایت کی ہے۔
أخبرَناه عبد الصمد بن علي بن مُكرَم البزّاز ببغداد، حَدَّثَنَا يعقوب بن يوسف القَزْويني، حدثني محمد بن سعيد بن سابق، حَدَّثَنَا عمرو بن أبي قيس، عن سِماك بن حَرْب (2). ومنهم محمد بن بِشْر بن بَشير الأسلميُّ، وهو من أعزِّ الثِّقات حديثًا:
حافظ طلحہ بابر
عمرو بن ابی قیس رازی نے بھی سماک بن حرب کے واسطے سے یہی حدیث روایت کی ہے۔
حدَّثَناه أبو الحسن محمد بن الحسن النَّصْراباذي، حَدَّثَنَا أبو محمد عبد الله بن إسحاق الدُّوريّ، حَدَّثَنَا أبو يعلى البَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا أبو عاصم. قال الحاكم ﵀: وقد أُخبرتُ عن سليمان بن سَيْف (3) الحرَّاني، عن أبي عاصم، حَدَّثَنَا محمد بن بِشر بن بَشير الأسلميّ، عن زياد بن عِلاقة (4). ومنهم إسرائيلُ بن يونس السَّبيعيُّ:
حافظ طلحہ بابر
محمد بن بشر بن بشیر اسلمی نے بھی زیاد بن علاقہ کے واسطے سے یہی حدیث روایت کی ہے اور وہ ثقہ راویوں میں سے ایک بلند پایہ راوی ہیں۔
امام حاکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے سلیمان بن سیف حرانی کے واسطے سے ابو عاصم سے یہ روایت پہنچی ہے کہ انہوں نے محمد بن بشر بن بشیر اسلمی سے اور انہوں نے زیاد بن علاقہ سے اسے روایت کیا ہے۔
امام حاکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے سلیمان بن سیف حرانی کے واسطے سے ابو عاصم سے یہ روایت پہنچی ہے کہ انہوں نے محمد بن بشر بن بشیر اسلمی سے اور انہوں نے زیاد بن علاقہ سے اسے روایت کیا ہے۔
أخبرَناه أبو بكر الشافعي، حدثني إسحاق بن الحسن الحَرْبيّ، حَدَّثَنَا عبد الله بن رَجَاء، حَدَّثَنَا إسرائيل، عن أبي إسحاق، فذكر الحديث (1). قال الحاكم ﵁: قد ذكرتُ من طُرق هذا الحديثِ أقلَّ من النصف، فإني تَتبَّعتُ من اتفق الشيخانِ ﵄ على الحُجَّة به في "الصحيحين"، وبقي في كتابي أكثرُ من النِّصف ليتأمّلَ طالبُ هذا العلم: أيُترَكُ مثل هذا الحديث على اشتهاره وكثرة رواته، بأن لا يوجد له عن الصحابي إلَّا تابعيٌّ واحد مقبول ثقة؟ قال لي أبو الحسن علي بن عمر الحافظ ﵀: لِمَ أسقطا حديثَ أسامة بن شريك من الكتابين؟ قلت: لأنهما لم يَجِدَا لأسامة بن شَريك راويًا غيرَ زياد بن علاقة. فحدَّثني أبو الحسن ﵁، وكتبه لي بخطِّه، قال: قد أخرج البخاري ﵀ عن يحيى بن حمَّاد، عن أبي عَوانة عن بَيَان بن بِشْر، عن قيس بن أبي حازم، عن مِرْداسٍ الأسلميّ، عن النَّبِيّ ﷺ أنه قال: "يذهبُ الصالحون أسلافًا" الحديث (2)، وليس لمِرداس راوٍ غيرُ قيس. وقد أخرج البخاري (3) حديثين عن زُهرة بن مَعبَد، عن جَدِّه عبد الله بن هشام بن زُهْرة، عن النَّبِيِّ ﷺ، وليس لعبد الله راوٍ غيرُ زُهْرة. وقد اتفقا جميعًا على إخراج حديث قيس بن أبي حازم، عن عَدِيّ بن عَميرة، عن النَّبِيّ ﷺ أنه قال: "مَن استعملناه على عمل" (4)، وليس لعَديّ بن عَميرة راوٍ غيرُ قيس (5). وقد اتفقا جميعًا على حديث مَجْزَأة بن زاهر الأسلميّ، عن أبيه، عن النَّبِيّ ﷺ في النهي عن لحوم الحُمُر الأهليّة (1)، وليس لزاهرٍ راوٍ غيرُ مَجْزأة. وأخرَج البخاري حديث الحسن عن عَمرو بن تَغلِبَ (2)، وليس لعمرو راوٍ غيرُ الحسن (3)، وأخرج أيضًا حديث الزُّهْري (4)، وأخرجا جميعًا حديث الحسن عن عمرو بن تَغلِب، وليس له راو غيرُ الحسن (5). وحديث زياد بن عِلاقة عن أسامة بن شَريك أصحُّ وأشهرُ وأكثرُ رواةً من هذه الأحاديث، قال أبو الحسن: وقد روى عليُّ بن الأقمر ومجاهد عن أسامة بن شَريك (6). وقد رُوي هذا الحديث عن جابر بن عبد الله وأبي سعيد الخُدْري عن رسول الله ﷺ. أما حديث جابر:
حافظ طلحہ بابر
اسرائیل نے ابواسحاق کے واسطے سے یہی حدیث بیان کی ہے۔ امام حاکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے اس حدیث کے جتنے طرق (سندیں) بیان کیے ہیں وہ نصف سے بھی کم ہیں، میں نے ان راویوں کو تلاش کیا ہے جن کی حجیت پر شیخین (امام بخاری و مسلم) نے اپنی صحیحین میں اتفاق کیا ہے، لیکن میری اس کتاب میں ابھی آدھے سے زیادہ حصے کا ذکر باقی ہے تاکہ اس علم کا طالب غور کر سکے کہ کیا ایسی حدیث کو اس کی شہرت اور کثیر راویوں کے باوجود اس بنا پر چھوڑ دیا جائے گا کہ صحابی سے روایت کرنے والا صرف ایک ثقہ و مقبول تابعی ہے؟ امام ابوالحسن علی بن عمر الحافظ (دارقطنی) رحمہ اللہ نے مجھ سے پوچھا: ان دونوں (امام بخاری و مسلم) نے اپنی کتابوں سے اسامہ بن شریک کی حدیث کو کیوں ساقط کیا؟ میں نے عرض کی: اس لیے کہ انہیں اسامہ بن شریک سے روایت کرنے والا زیاد بن علاقہ کے سوا کوئی اور راوی نہیں ملا۔ تب ابوالحسن رحمہ اللہ نے مجھ سے یہ بات کہی اور اسے اپنے ہاتھ سے لکھ کر دیا کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے یحییٰ بن حماد کی سند سے، ابوعوانہ، بیان بن بشر اور قیس بن ابی حازم کے واسطے سے مرداس اسلمی رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث نقل کی ہے: ”صالح لوگ یکے بعد دیگرے چلے جائیں گے“ حالانکہ مرداس کا قیس کے سوا کوئی راوی نہیں۔
اسی طرح امام بخاری نے زہرہ بن معبد کی سند سے ان کے دادا عبداللہ بن ہشام بن زہرہ سے نبی کریم ﷺ کی دو احادیث نقل کی ہیں جبکہ عبداللہ کا زہرہ کے سوا کوئی راوی نہیں۔ نیز ان دونوں (بخاری و مسلم) نے قیس بن ابی حازم کی عدی بن عمیرہ سے مروی اس حدیث کی تخریج پر اتفاق کیا ہے جس میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جسے ہم کسی کام پر عامل مقرر کریں“ حالانکہ عدی بن عمیرہ کا قیس کے سوا کوئی راوی نہیں۔ اسی طرح ان دونوں نے مجزاہ بن زاہر اسلمی کی اپنے والد سے روایت کردہ اس حدیث پر اتفاق کیا ہے جس میں گھریلو گدھوں کے گوشت سے منع فرمایا گیا ہے جبکہ زاہر کا مجزاہ کے سوا کوئی راوی نہیں۔
امام بخاری نے حسن بصری کی عمرو بن تغلب سے مروی حدیث بھی نقل کی ہے جبکہ عمرو کا حسن کے سوا کوئی راوی نہیں ہے۔ حالانکہ زیاد بن علاقہ کی اسامہ بن شریک سے مروی یہ حدیث ان تمام احادیث سے زیادہ صحیح، مشہور اور کثیر راویوں والی ہے۔ ابوالحسن (دارقطنی) فرماتے ہیں: (یہ کہنا درست نہیں کہ اسامہ سے صرف ایک راوی ہے کیونکہ) علی بن اقمر اور مجاہد نے بھی اسامہ بن شریک سے روایت کی ہے۔ اس حدیث کی تائید میں سیدنا جابر بن عبداللہ اور سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہم سے بھی رسول اللہ ﷺ کی احادیث مروی ہیں۔
اسی طرح امام بخاری نے زہرہ بن معبد کی سند سے ان کے دادا عبداللہ بن ہشام بن زہرہ سے نبی کریم ﷺ کی دو احادیث نقل کی ہیں جبکہ عبداللہ کا زہرہ کے سوا کوئی راوی نہیں۔ نیز ان دونوں (بخاری و مسلم) نے قیس بن ابی حازم کی عدی بن عمیرہ سے مروی اس حدیث کی تخریج پر اتفاق کیا ہے جس میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جسے ہم کسی کام پر عامل مقرر کریں“ حالانکہ عدی بن عمیرہ کا قیس کے سوا کوئی راوی نہیں۔ اسی طرح ان دونوں نے مجزاہ بن زاہر اسلمی کی اپنے والد سے روایت کردہ اس حدیث پر اتفاق کیا ہے جس میں گھریلو گدھوں کے گوشت سے منع فرمایا گیا ہے جبکہ زاہر کا مجزاہ کے سوا کوئی راوی نہیں۔
امام بخاری نے حسن بصری کی عمرو بن تغلب سے مروی حدیث بھی نقل کی ہے جبکہ عمرو کا حسن کے سوا کوئی راوی نہیں ہے۔ حالانکہ زیاد بن علاقہ کی اسامہ بن شریک سے مروی یہ حدیث ان تمام احادیث سے زیادہ صحیح، مشہور اور کثیر راویوں والی ہے۔ ابوالحسن (دارقطنی) فرماتے ہیں: (یہ کہنا درست نہیں کہ اسامہ سے صرف ایک راوی ہے کیونکہ) علی بن اقمر اور مجاہد نے بھی اسامہ بن شریک سے روایت کی ہے۔ اس حدیث کی تائید میں سیدنا جابر بن عبداللہ اور سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہم سے بھی رسول اللہ ﷺ کی احادیث مروی ہیں۔