المستدرك على الصحيحين
كتاب الطب— طب کا بیان
خَيْرُ مَا أُعْطِيَ الْإِنْسَانُ خُلُقٌ حَسَنٌ باب: انسان کو عطا کی گئی بہترین چیز حسنِ اخلاق ہے
حدَّثَناه أبو جعفر محمد بن أحمد بن سعيد المُذكِّر، حَدَّثَنَا أبو زُرْعة عبيد الله بن عبد الكريم الرازي، حَدَّثَنَا إبراهيم بن موسى، حَدَّثَنَا عيسى بن يونس (5)، حَدَّثَنَا عثمان بن حَكِيم، عن زياد بن عِلاقة - واللفظُ لحديث أبي زُرعة الإمام (1) - حَدَّثَنَا أسامة بن شَريك، قال: كنّا جلوسًا عند النَّبِيّ ﷺ كأنما على رؤوسنا الطيرُ، لا يتكلّمُ مِنَّا مُتكلِّمٌ، إذ جاءه ناسٌ من الأعراب فقالوا: يا رسول الله، أفْتِنا في كذا، أفْتِنا في كذا، فقال: "يا أيها الناس، وَضَعَ الله الحَرَجَ إِلَّا مَن اقتَرَض لأخيه عِرْضًا، فذلك الذي حَرِجَ وهَلَك". قالوا: أفنَتَداوى يا رسول الله؟ قال: "نعم، إنَّ الله ﷿ لم يُنزِلْ داءً إِلَّا أَنزل له شفاءً، غيرَ داءٍ واحد" قالوا: وما هو يا رسول الله؟ قال: "الهَرَمُ". قالوا: فمن أحبُّ عبادِ الله إلى الله؟ قال: "أحسَنُهم خُلُقًا" (2). ومنهم شَيْبانُ بن عبد الرحمن النَّحْوي:
سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں اس طرح بانتہائی ادب و وقار کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ گویا ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں اور ہم میں سے کوئی بھی کلام نہیں کر رہا تھا، اسی دوران کچھ دیہاتی آپ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور مختلف امور کے بارے میں دریافت کرنے لگے: اے اللہ کے رسول! ہمیں فلاں کے بارے میں بتائیے، ہمیں فلاں کے بارے میں حکم دیجیے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے لوگو! اللہ تعالیٰ نے حرج کو اٹھا لیا ہے سوائے اس شخص کے جس نے اپنے بھائی کی عزت و آبرو پر ناحق زبان درازی کی ہو، پس وہی شخص گناہ میں پڑا اور ہلاک ہو گیا۔“ انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا ہم (بیماری میں) دوا کا استعمال کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، بیشک اللہ عزوجل نے کوئی ایسی بیماری نازل نہیں کی جس کے لیے شفاء نازل نہ کی ہو، سوائے ایک بیماری کے۔“ انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! وہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بڑھاپا۔“ انہوں نے پوچھا: اللہ کے نزدیک اس کے بندوں میں سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ جن کے اخلاق سب سے بہتر ہیں۔“
تشریح، فوائد و مسائل
نوٹ / توضیح: (5) "عبیداللہ بن عبدالکریم" سے لے کر یہاں تک نسخہ (ب) سے ساقط ہے۔
(1) من قوله: "عبيد الله بن عبد الكريم" إلى هنا سقط من (ب)، وأثبتناه من (ز) و (ك) و (م)، وفيها بعده زيادة: "حَدَّثَنَا عثمان بن حكيم، حَدَّثَنَا زياد بن علاقة" وهو خطأ.
نوٹ / توضیح: (1) "عبیداللہ بن عبدالکریم" سے لے کر یہاں تک نسخہ (ب) سے ساقط ہے، ہم نے اسے (ز)، (ک) اور (م) سے ثابت کیا ہے۔ ان نسخوں میں اس کے بعد: "حدثنا عثمان بن حکیم، حدثنا زیاد بن علاقہ" کا اضافہ ہے، جو کہ غلط ہے۔
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل أبي جعفر المذكّر شيخ المصنّف.
درجۂ حدیث: (2) یہ حدیث صحیح ہے، اور یہ سند مصنف کے شیخ "ابو جعفر المذکّر" کی وجہ سے متابعات اور شواہد میں "حسن" ہے۔