کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: ہر بیماری کی دوا ہے، جب دوا بیماری تک پہنچ جاتی ہے تو اللہ کے حکم سے شفا ہوتی ہے
فحدَّثَناه الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن أيوب، أخبرنا أحمد بن عيسى، حَدَّثَنَا عبد الله بن وَهْب، أخبرني عمرو بن الحارث، عن عبد رَبّه بن سعيد (1)، عن أبي الزُّبير، عن جابر، عن رسول الله ﷺ أنه قال: "لكلِّ داءٍ دواءٌ، فإذا أُصيبَ دواء الدّاء بَرَأَ بإذن الله ﷿" (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وأما حديث أبي سعيد الخُدْريّ:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہر بیماری کی ایک دوا ہے، پس جب بیماری کو اس کی دوا پہنچ جاتی ہے تو وہ اللہ عزوجل کے حکم سے شفاء یاب ہو جاتی ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطب / حدیث: 8423
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8423] [ترقيم الشركة 8321]
فحدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا العباس بن محمد الدُّوري، حَدَّثَنَا أبو النَّضر هاشم بن القاسم، حَدَّثَنَا شَبيبُ بن شَيْبة، حَدَّثَنَا عطاء بن أبي رَبَاح، حَدَّثَنَا أبو سعيد الخُدْري، أنَّ النَّبِيّ ﷺ قال: "إِنَّ الله لم يُنزِلُ (3) داءً - أولم يَخلُق داءً - إِلَّا أَنزَل - أو خَلَق - له دواءً، عَلِمَه من عَلِمَه، وجَهِلَه من جَهِلَه، إِلَّا السَّامَ" قالوا: يا رسول الله، وما السامُ؟ قال: "الموتُ" (4).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8220 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسی بیماری نازل نہیں کی — یا فرمایا کہ پیدا نہیں کی — جس کی شفاء نازل نہ کی ہو — یا فرمایا کہ اس کے لیے دوا پیدا نہ کی ہو، اسے جس نے جان لیا سو جان لیا، اور جو اس سے جاہل رہا سو جاہل رہا، سوائے ”سام“ کے۔“ صحابہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ”سام“کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”موت۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطب / حدیث: 8424
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، شبيب بن شيبة» [ترقيم الرساله 8424] [ترقيم الشركة 8322] [ترقيم العلميه 8220]