المستدرك على الصحيحين
كتاب الطب— طب کا بیان
خَيْرُ مَا أُعْطِيَ الْإِنْسَانُ خُلُقٌ حَسَنٌ باب: انسان کو عطا کی گئی بہترین چیز حسنِ اخلاق ہے
حدیث نمبر: 8413
أخبرنا أبو الحسن محمد بن عبد الله السُّنِّيُّ بمَرْو، حَدَّثَنَا أبو المُوجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا أبو حمزة، عن زِياد بن عِلاقة (2). ومنهم أبو عَوَانة الوَضَّاحُ:
حافظ طلحہ بابر
ابو حمزہ محمد بن میمون سکری نے زیاد بن علاقہ کے واسطے سے وہی حدیث بیان کی ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) حديث صحيح، شيخ المصنّف أبو الحسن السني متكلّم في عدالته، لكنه لم ينفرد به كما ترى، ومن فوقه ثقات. أبو الموجه: هو محمد بن عمرو الفزاري، وعبدان: هو عبد الله بن عثمان بن جَبَلة.
درجۂ حدیث: (2) یہ حدیث صحیح ہے۔ فنی نکتہ / علّت: مصنف کے شیخ "ابو الحسن السنی" کی عدالت میں کلام ہے، لیکن وہ اس میں متفرد نہیں ہیں جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں، اور ان سے اوپر کے راوی ثقہ ہیں۔ ابو الموَجِّہ سے مراد "محمد بن عمرو الفزاری"، اور عبدان سے مراد "عبداللہ بن عثمان بن جبلہ" ہیں۔
درجۂ حدیث: (2) یہ حدیث صحیح ہے۔ فنی نکتہ / علّت: مصنف کے شیخ "ابو الحسن السنی" کی عدالت میں کلام ہے، لیکن وہ اس میں متفرد نہیں ہیں جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں، اور ان سے اوپر کے راوی ثقہ ہیں۔ ابو الموَجِّہ سے مراد "محمد بن عمرو الفزاری"، اور عبدان سے مراد "عبداللہ بن عثمان بن جبلہ" ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8413 سے ماخوذ ہے۔