المستدرك على الصحيحين
كتاب الطب— طب کا بیان
خَيْرُ مَا أُعْطِيَ الْإِنْسَانُ خُلُقٌ حَسَنٌ باب: انسان کو عطا کی گئی بہترین چیز حسنِ اخلاق ہے
حدیث نمبر: 8420
أخبرَناه عبد الصمد بن علي بن مُكرَم البزّاز ببغداد، حَدَّثَنَا يعقوب بن يوسف القَزْويني، حدثني محمد بن سعيد بن سابق، حَدَّثَنَا عمرو بن أبي قيس، عن سِماك بن حَرْب (2). ومنهم محمد بن بِشْر بن بَشير الأسلميُّ، وهو من أعزِّ الثِّقات حديثًا:
حافظ طلحہ بابر
عمرو بن ابی قیس رازی نے بھی سماک بن حرب کے واسطے سے یہی حدیث روایت کی ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده حسن من أجل عمرو بن أبي قيس وسماك بن حرب. وسماك يرويه عن زياد بن علاقة كما في "إتحاف المهرة" لابن حجر (204).
درجۂ حدیث: عمرو بن ابی قیس اور سماک بن حرب کی وجہ سے اس کی سند "حسن" ہے۔
تفصیلِ روایت: سماک اسے زیاد بن علاقہ سے روایت کرتے ہیں جیسا کہ ابن حجر کی کتاب
حوالہ / مصدر: "إتحاف المهرة" (204) میں ہے۔
درجۂ حدیث: عمرو بن ابی قیس اور سماک بن حرب کی وجہ سے اس کی سند "حسن" ہے۔
تفصیلِ روایت: سماک اسے زیاد بن علاقہ سے روایت کرتے ہیں جیسا کہ ابن حجر کی کتاب
حوالہ / مصدر: "إتحاف المهرة" (204) میں ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8420 سے ماخوذ ہے۔