حَدَّثَنَا علي بن عيسى الحِيرِي، حَدَّثَنَا محمد بن عمرو الحَرَشي، حَدَّثَنَا محمد بن يحيى، حَدَّثَنَا علي بن ظَبْيان، عن عُبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر، عن النَّبِيّ ﷺ قال: "التيمُّمُ ضربتانِ: ضربةٌ للوجه وضربةٌ لليدين إلى المِرفَقين" (2). قد اتَّفق الشيخان على حديث الحَكَم عن ذَرٍّ عن سعيد بن عبد الرحمن بن أَبْزَى عن عن أبيه عن عمر في التيمُّم، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ (1)، ولا أعلم أحدًا أسنده عن عُبيد الله غير علي بن ظَبْيان، وهو صدوق! وقد أَوقَفَه يحيى بن سعيد وهُشيم بن بَشِير وغيرهما، وقد أوقفه مالك بن أنس عن نافع في "الموطأ" بغير هذا اللفظ، غير أنَّ شَرْطي في سَنَد الصدوقِ الحديث إذا أَوقَفَه غيره (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تیمم دو ضربوں کے ساتھ ہے: ایک ضرب چہرے کے لیے اور ایک ضرب دونوں ہاتھوں کے لیے کہنیوں تک۔“
شیخین نے تیمم کے بارے میں سیدنا ابن ابزی کی روایت پر تو اتفاق کیا ہے لیکن اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا، اور علی بن ظبیان صدوق ہیں جنہوں نے اسے متصل روایت کیا ہے، جبکہ دیگر نے اسے موقوف روایت کیا ہے، مگر میرا اصول یہی ہے کہ ثقہ راوی کی متصل روایت ہی معتبر ہوتی ہے۔
شیخین نے تیمم کے بارے میں سیدنا ابن ابزی کی روایت پر تو اتفاق کیا ہے لیکن اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا، اور علی بن ظبیان صدوق ہیں جنہوں نے اسے متصل روایت کیا ہے، جبکہ دیگر نے اسے موقوف روایت کیا ہے، مگر میرا اصول یہی ہے کہ ثقہ راوی کی متصل روایت ہی معتبر ہوتی ہے۔
حَدَّثَنَا أبو جعفر عبد الله بن إسماعيل بن إبراهيم (3) بن منصورٍ أميرِ المؤمنين في دار المنصور ببغداد، حَدَّثَنَا الهيثم بن خالد، حَدَّثَنَا أبو نُعيم، حَدَّثَنَا سليمان بن أَرقَمَ، عن الزُّهْري، عن سالم، عن أبيه قال: تيمَّمنا مع رسول الله ﷺ فضَرَبْنا بأيدينا على الصعيد الطيِّب، ثم نَفَضنا أيدينا فمَسَحْنا بها وجوهَنا، ثم ضربنا ضربةً أخرى الصعيدَ الطيِّبَ ثم نَفَضْنا أيديَنا فمسحنا بأيدينا من المِرفَقِ إلى الكفِّ على مَنابتِ الشَّعر من ظاهرٍ وباطن (1).
هذا حديث مفسَّر، وإنما ذكرتُه شاهدًا لأنَّ سليمان بن أرقم ليس من شرط هذا الكتاب، وقد اشترطنا إخراجَ مثله في الشواهد.
هذا حديث مفسَّر، وإنما ذكرتُه شاهدًا لأنَّ سليمان بن أرقم ليس من شرط هذا الكتاب، وقد اشترطنا إخراجَ مثله في الشواهد.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تیمم کیا، ہم نے اپنے ہاتھ پاک مٹی پر مارے، پھر ہاتھ جھاڑ کر ان سے اپنے چہروں کا مسح کیا، پھر ہم نے پاک مٹی پر دوبارہ ضرب لگائی اور ہاتھ جھاڑ کر ان سے کہنیوں سے ہتھیلیوں تک ظاہر اور باطن کا مسح کیا۔
یہ حدیث مفسر ہے اور میں نے اسے بطور شاہد ذکر کیا ہے کیونکہ سلیمان بن ارقم اگرچہ اس کتاب کی شرط پر نہیں ہیں لیکن ہم نے شواہد میں ان جیسی روایات لینے کی شرط رکھی ہے۔
یہ حدیث مفسر ہے اور میں نے اسے بطور شاہد ذکر کیا ہے کیونکہ سلیمان بن ارقم اگرچہ اس کتاب کی شرط پر نہیں ہیں لیکن ہم نے شواہد میں ان جیسی روایات لینے کی شرط رکھی ہے۔
أخبرنا حمزة بن العباس العَقَبي ببغداد، حَدَّثَنَا محمد بن عيسى المدائني، حَدَّثَنَا شَبَابِةُ بن سَوَّار. وحدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حَدَّثَنَا إبراهيم بن إسحاق، حَدَّثَنَا هارون بن عبد الله، حَدَّثَنَا شَبَابة، حَدَّثَنَا سليمان بن أبي داود الحرَّاني، عن سالم ونافع، عن ابن عمر، عن النَّبِيّ ﷺ أنه قال في التيمم: "ضَربتين (2): ضربةً للوجه، وضربةً لليدين إلى المِرفَقَينِ" (3). سليمان بن أبي داود أيضًا لم يُخرجاه، وإنما ذكرناه في الشواهد. وقد رُوِّينا معنى هذا الحديث عن جابر بن عبد الله عن النَّبِيّ ﷺ بإسناد صحيح:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے تیمم کے بارے میں فرمایا: ”دو ضربیں ہیں: ایک چہرے کے لیے اور ایک دونوں ہاتھوں کے لیے کہنیوں تک۔“
اس روایت کو بھی بطور شاہد ذکر کیا گیا ہے۔
اس روایت کو بھی بطور شاہد ذکر کیا گیا ہے۔
حدَّثَناه علي بن حَمْشاذَ العَدْل وأبو بكر بن بالَوَيهِ قالا: حَدَّثَنَا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حَدَّثَنَا أبو نُعيم، حَدَّثَنَا عَزْرة بن ثابت، عن أبي الزُّبير، عن جابر قال: جاء رجل فقال: أصابتني جَنابةٌ وإني تمعَّكتُ في التراب، فقال: اضرِبْ (1)، فضرب بيديه الأرضَ فَمَسَحَ وجهَه، ثم ضرب بيديه فمَسَحَ بهما يديه إلى المِرفقَينِ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 637 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 637 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص حاضر ہوا اور عرض کی: ”مجھے جنابت لاحق ہوئی تھی اور میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہوا،“ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”(ایسے) ضرب لگاؤ،“ پھر آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مار کر اپنے چہرے کا مسح کیا، پھر دوبارہ ہاتھ مارے اور کہنیوں تک اپنے دونوں ہاتھوں کا مسح کیا۔
وحدثنا علي بن حَمْشَاذ وأبو بكر بن بالَوَيهِ قالا: حَدَّثَنَا إبراهيم بن إسحاق، حَدَّثَنَا عثمان بن محمد الأَنماطي، حَدَّثَنَا حَرَميُّ بن عُمَارة، عن عَزْرة بن ثابت، عن أبي الزُّبير، عن جابر، عن النَّبِيّ ﷺ قال: "التيمُّمُ ضربةٌ للوجه، وضربةٌ لليدينِ إلى المرفَقَينِ" (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تیمم (میں) ایک ضرب چہرے کے لیے ہے اور ایک ضرب دونوں ہاتھوں کے لیے کہنیوں تک ہے۔“
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا محمد بن سِنان القَزاز، حَدَّثَنَا عمرو بن محمد بن أبي رَزِين، حَدَّثَنَا هشام بن حسَّان، عن عُبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر قال: رأيت النَّبِيّ ﷺ يتيمَّم بموضعٍ يقال له: مِربَدُ النَّعَم، وهو يرى بيوتَ المدينة (3).
هذا حديثٌ تفرَّد به عمرو بن محمد بن أبي رَزِين، وهو صَدُوق (1)، ولم يُخرجاه، وقد أوقفه يحيى بن سعيد الأنصاري وغيرُه عن نافع عن ابن عمر:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 639 - تفرد به عمرو وهو صدوق ووقفه يحيى بن سعيد الأنصاري وغيره
هذا حديثٌ تفرَّد به عمرو بن محمد بن أبي رَزِين، وهو صَدُوق (1)، ولم يُخرجاه، وقد أوقفه يحيى بن سعيد الأنصاري وغيرُه عن نافع عن ابن عمر:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 639 - تفرد به عمرو وهو صدوق ووقفه يحيى بن سعيد الأنصاري وغيره
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو ”مربد النعم“ نامی مقام پر تیمم کرتے ہوئے دیکھا جبکہ آپ ﷺ کو مدینہ کے گھر نظر آ رہے تھے۔
اس حدیث کو نقل کرنے میں عمرو بن محمد منفرد ہیں اور وہ صدوق ہیں، جبکہ یحییٰ بن سعید انصاری وغیرہ نے اسے ابن عمر پر موقوف روایت کیا ہے۔
اس حدیث کو نقل کرنے میں عمرو بن محمد منفرد ہیں اور وہ صدوق ہیں، جبکہ یحییٰ بن سعید انصاری وغیرہ نے اسے ابن عمر پر موقوف روایت کیا ہے۔
أخبرَناه أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن حاتم الزاهد، حَدَّثَنَا محمد بن إسحاق الصَّنْعاني (2)، حَدَّثَنَا محمد بن جعشُم، عن سفيان الثَّوري، عن يحيى بن سعيد، عن نافع قال: تيمَّمَ ابن عمر على رأس مِيلٍ أو مِيلَينِ من المدينة فصلَّى العصر، فقَدِمَ والشمسُ مرتفعةٌ ولم يُعِدِ الصلاة (3).
حافظ طلحہ بابر
نافع سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے مدینہ منورہ سے ایک یا دو میل کے فاصلے پر تیمم کیا اور عصر کی نماز پڑھی، پھر وہ مدینہ آئے تو ابھی سورج بلند تھا اور انہوں نے نماز کا اعادہ نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا بَحْر بن نَصْر بن سابق الخَوْلاني، حَدَّثَنَا بِشْر بن بكر، حَدَّثَنَا موسى بن عُليّ بن رَبَاحٍ، عن أبيه، عن عُقْبة بن عامر الجُهَني قال: خرجتُ من الشام إلى المدينة يومَ الجمعة، فدخلتُ المدينة يومَ الجمعة، فدخلتُ على عمر بن الخطَّاب، فقال لي: متى أَولجْتَ خُفَّيكَ في رِجلَيك؟ قلت: يومَ الجمعة، قال: فهل نَزَعتهما؟ قلت: لا، فقال: أصبتَ السُّنةَ (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ آخر عن عُقْبة بن عامر:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 641 - على شرط مسلم وله شاهد
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ آخر عن عُقْبة بن عامر:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 641 - على شرط مسلم وله شاهد
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں جمعہ کے دن شام سے مدینہ کے لیے نکلا اور اگلے جمعہ کو مدینہ پہنچا، میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس گیا تو انہوں نے مجھ سے پوچھا: ”تم نے یہ موزے کب پہنے تھے؟“ میں نے کہا: ”جمعہ کے دن،“ انہوں نے پوچھا: ”کیا تم نے انہیں اتارا ہے؟“ میں نے کہا: ”نہیں،“ تو انہوں نے فرمایا: ”تم نے سنت کے مطابق کام کیا ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا أبو محمد الحسن بن محمد بن إسحاق الإسفراييني، حَدَّثَنَا الحسين بن إسحاق التُّستَري، حَدَّثَنَا يحيى بن عبد الله بن بُكَير، حَدَّثَنَا المفضَّل بن فَضَالة قال: سألتُ يزيد بن أبي حَبيب عن المسح على الخفَّين، فقال (2): أخبرني عبد الله بن الحَكَم البَلَوي، عن عُلي بن رَبَاح، عن عُقبة بن عامر أنه أخبره: أنه وَفَدَ إلى عمر بن الخطَّاب عامًا، قال عقبة: وعليَّ خُفَّانِ من تلك الخِفَافِ الغِلَاظ، فقال لي عمر: متى عهدُك بلباسِهما؟ فقلت: لَبِستُهما يومَ الجمعة، وهذا يومُ الجمعة، فقال لي عمر: أصبتَ السُّنةَ (3). وقد صحَّت الرواية عن عبد الله بن عمر أنه أَفتى به، ولم يُسنِده، وإليه ذهب مالك بن أنس الإمام.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ ایک سال سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس وفد لے کر آئے، عقبہ کہتے ہیں کہ میں نے موٹے چمڑے کے موزے پہن رکھے تھے، تو سیدنا عمر نے مجھ سے پوچھا: ”تمہیں انہیں پہنے ہوئے کتنا عرصہ ہوا ہے؟“ میں نے عرض کیا: ”میں نے انہیں جمعہ کے دن پہنا تھا اور آج (پھر) جمعہ ہے،“ تو سیدنا عمر نے مجھ سے فرمایا: ”تم نے سنت کے مطابق کام کیا ہے۔“
امام حاکم فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی یہی فتویٰ ثابت ہے اور امام مالک بن انس کا یہی مسلک ہے۔
امام حاکم فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی یہی فتویٰ ثابت ہے اور امام مالک بن انس کا یہی مسلک ہے۔
أخبرني عبد الله بن الحسين القاضي بمَرْو، حَدَّثَنَا الحارث بن أبي أُسامة، حَدَّثَنَا رَوْح بن عُبادة، حَدَّثَنَا هشام بن حسّان، عن عُبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر: أنه كان لا يُوقِّت في المسح على الخفَّين وقتًا (1). وقد رُوِيَ هذا الحديث عن أنس بن مالك عن رسول الله ﷺ بإسناد صحيح، رواتُه عن آخرهم ثقات (2) إلا أنه شاد بمَرَّة:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ موزوں پر مسح کے لیے وقت کی کوئی حد مقرر نہیں کرتے تھے۔
حدَّثَناه أبو جعفر محمد بن محمد بن عبد الله البغدادي، حَدَّثَنَا المقدام بن داود بن تَلِيد الرُّعَيني، حَدَّثَنَا عبد الغفار بن داود الحرَّاني، حَدَّثَنَا حمَّاد بن سَلَمة، عن عُبيد الله بن أبي بكر وثابت، عن أنس، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "إذا توضَّأَ أحدُكم ولَبِسَ خُفَّيهِ، فليُصلِّ فيهما وليَمسَحْ عليها، ثم لا يخلَعُهما إن شاء إلّا من جَنَابة" (3). هذا إسناد صحيح على شرط مسلم وعبد الغفار بن داود ثقةٌ غيرَ أنه ليس عند أهل البصرة عن حمّاد.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 643 - على شرط مسلم تفرد به عبد الغفار وهو ثقة والحديث شاذ
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 643 - على شرط مسلم تفرد به عبد الغفار وهو ثقة والحديث شاذ
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی وضو کرے اور موزے پہن لے، تو اسے چاہیے کہ ان میں نماز پڑھے اور ان پر مسح کرے، پھر اگر چاہے تو انہیں نہ اتارے سوائے جنابت کے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ راوی عبد الغفار بن داؤد ثقہ ہیں اگرچہ اہل بصرہ کے پاس حماد سے ان کی روایت نہیں ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ راوی عبد الغفار بن داؤد ثقہ ہیں اگرچہ اہل بصرہ کے پاس حماد سے ان کی روایت نہیں ہے۔