کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: جس شخص کو احتلام ہو اور اس کے جسم پر زخم ہو وہ کیا کرے۔
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا أبو عثمان سعيد بن عثمان التَّنُوخي، حَدَّثَنَا بِشْر بن بكر، حدَّثني الأوزاعي، حَدَّثَنَا عطاء بن أبي رَبَاح، أنه سمع عبدَ الله بن عباس يُخبِر: أنَّ رجلًا أصابه جرحٌ على عهد رسول الله ﷺ، ثم أصابه احتلامٌ، فاغتسل فمات، فبَلَغَ ذلك النَّبِيَّ ﷺ، فقال: "قَتَلوه قَتَلهم الله، ألم يكن شِفاءَ العِيِّ السؤالُ" (1). بِشْر بن بكر ثقة مأمون، وقد أقام إسنادَه، وهو صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 630 - على شرطهما
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 630 - على شرطهما
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے عہدِ مبارک میں ایک شخص زخمی ہو گیا، پھر اسے احتلام ہو گیا، اس نے غسل کیا تو وہ مر گیا، یہ خبر نبی کریم ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”انہوں نے اسے قتل کر دیا، اللہ انہیں ہلاک کرے، کیا جہالت کا علاج سوال کرنا نہ تھا؟“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ بشر بن بکر ثقہ اور مامون ہیں اور یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ بشر بن بکر ثقہ اور مامون ہیں اور یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔
فحدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا العباس بن الوليد بن مَزْيد، أخبرنا أبي، قال: سمعتُ الأوزاعي يقول: بلغني عن عطاء بن أبي رباح، أنه سمع ابن عباس يُخبر: أنَّ رجلًا أصابه جرحٌ في عهد رسول الله ﷺ ثم أصابه احتلام، فأُمر بالاغتسال، فاغتسل فمات، فبلغ ذلك رسولَ الله ﷺ، فقال: "قَتَلُوه قَتَلَهم الله، ألم يكن شفاءَ العِيِّ السؤالُ" (2). فبَلَغَنا: أنَّ رسول الله ﷺ سُئِلَ عن ذلك فقال: "لو غَسَلَ جسده وترك رأسَه حيث أصابه الجرحُ" (3). وقد رواه الهِقْل بن زياد، وهو من أثبت أصحاب الأوزاعي، ولم يَذكُر سماعَ الأوزاعي من عطاء:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے دور میں ایک شخص زخمی ہوا، پھر اسے احتلام ہو گیا، اسے غسل کرنے کا حکم دیا گیا، اس نے غسل کیا تو وہ مر گیا۔ جب یہ خبر رسول اللہ ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”انہوں نے اسے قتل کر دیا، اللہ انہیں ہلاک کرے، کیا جہالت کا علاج سوال کرنا نہ تھا؟“ پھر ہمیں یہ خبر پہنچی کہ رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کاش وہ اپنے بدن کو دھو لیتا اور اپنے سر کو چھوڑ دیتا جہاں اسے زخم لگا تھا۔“
أخبرنا [أبو] عبد الله محمد (1) أحمد بن بن علي بن مَخلَد الجوهري ببغداد، حَدَّثَنَا إبراهيم بن الهيثم البَلَدي، حَدَّثَنَا عبد الله بن صالح، حَدَّثَنَا هِقْل بن زياد. وأخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا الحسن بن سفيان، حَدَّثَنَا الحَكَم بن موسى، حَدَّثَنَا هِقْل قال: سمعتُ الأوزاعيَّ قال: قال عطاء عن ابن عباس: إنَّ رجلًا أصابته جِراحةٌ على عهد رسول الله ﷺ فأصابته جَنابةٌ، فاستفتى فأُمِرَ بالغُسْل، فاغتسل فمات، فبلغ ذلك رسولَ الله ﷺ، فقال: "قَتَلُوه قَتَلهم الله، ألم يكن شِفاءَ العِيِّ السؤالُ؟! ". قال عطاء: فبَلَغَني: أنَّ رسول الله ﷺ سُئِلَ بعد ذلك فقال: "لو غَسَلَ جسدَه وتركَ حيث أصابه الجِراحُ أجزأَه" (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد میں ایک شخص زخمی ہوا، پھر اسے جنابت لاحق ہوئی، اس نے فتویٰ پوچھا تو اسے غسل کا حکم دیا گیا، اس نے غسل کیا تو وہ مر گیا، یہ خبر رسول اللہ ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”انہوں نے اسے قتل کر دیا، اللہ انہیں ہلاک کرے، کیا جہالت کا علاج سوال کرنا نہ تھا؟! “ عطاء کہتے ہیں کہ مجھے یہ خبر پہنچی کہ رسول اللہ ﷺ سے اس کے بعد پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر وہ اپنے جسم کو دھو لیتا اور جہاں زخم لگا تھا اسے چھوڑ دیتا تو یہ اسے کافی ہوتا۔“
حَدَّثَنَا أبو القاسم عبد الرحمن بن حسن بن أحمد بن محمد بن عُبيد الأسَدي بهَمَذان، حَدَّثَنَا عُمير بن مِرْداس، حَدَّثَنَا عبد الله بن نافع، حَدَّثَنَا الليث بن سعد، عن بكر بن سَوَادة، عن عطاء بن يَسَار، عن أبي سعيد الخُدْري قال: خَرَجَ رجلانِ في سفرٍ فحضَرت الصلاةُ وليس معهما ماءٌ، فتيمَّما صعيدًا طيبًا، فصلَّيا، ثم وَجَدَا الماءَ في الوقت، فأعاد أحدُهما الصلاةَ والوضوءَ ولم يُعِدِ الآخرُ، ثم أتَيا رسولَ الله ﷺ فذكرا ذلك له، فقال للذي لم يُعِدْ: "أصبتَ السُّنةَ وأجزَأَتْك صلاتُك" وقال للذي توضأَ وعادَ: "لك الأجرُ مرَّتين" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، فإنَّ عبد الله بن نافع ثقة، وقد وَصَلَ هذا الإسناد عن الليث وقد أرسله غيرُه:
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، فإنَّ عبد الله بن نافع ثقة، وقد وَصَلَ هذا الإسناد عن الليث وقد أرسله غيرُه:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ دو آدمی سفر پر نکلے، نماز کا وقت ہوا اور ان کے پاس پانی نہیں تھا، انہوں نے پاک مٹی سے تیمم کیا اور نماز پڑھ لی، پھر وقت کے اندر ہی انہیں پانی مل گیا، تو ان میں سے ایک نے وضو اور نماز کا اعادہ کر لیا جبکہ دوسرے نے نہیں کیا، پھر وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہ واقعہ سنایا، تو آپ ﷺ نے اس شخص سے فرمایا جس نے اعادہ نہیں کیا تھا: ”تم نے سنت کے مطابق کام کیا اور تمہاری نماز تمہیں کافی ہے،“ اور جس نے وضو کر کے اعادہ کیا تھا اس سے فرمایا: ”تمہارے لیے دوگنا اجر ہے۔“
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، کیونکہ عبداللہ بن نافع ثقہ ہیں اور انہوں نے اس سند کو لیث سے متصل بیان کیا ہے جبکہ دیگر نے اسے مرسل روایت کیا ہے۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، کیونکہ عبداللہ بن نافع ثقہ ہیں اور انہوں نے اس سند کو لیث سے متصل بیان کیا ہے جبکہ دیگر نے اسے مرسل روایت کیا ہے۔
أخبرَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أحمد بن إبراهيم بن مِلْحان، حَدَّثَنَا يحيى بن بُكَير، حَدَّثَنَا الليث، عن عَمِيرة بن أبي ناجية، عن بَكْر بن سَوَادة، عن عطاء بن يَسَار، عن النَّبِيّ ﷺ نحوه. والله أعلم.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 632 - على شرطهما وابن نافع ثقة تفرد بوصله
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 632 - على شرطهما وابن نافع ثقة تفرد بوصله
حافظ طلحہ بابر
اسی طرح کی روایت نبی کریم ﷺ سے مروی ہے۔