حدیث نمبر: 652
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا بَحْر بن نَصْر بن سابق الخَوْلاني، حَدَّثَنَا بِشْر بن بكر، حَدَّثَنَا موسى بن عُليّ بن رَبَاحٍ، عن أبيه، عن عُقْبة بن عامر الجُهَني قال: خرجتُ من الشام إلى المدينة يومَ الجمعة، فدخلتُ المدينة يومَ الجمعة، فدخلتُ على عمر بن الخطَّاب، فقال لي: متى أَولجْتَ خُفَّيكَ في رِجلَيك؟ قلت: يومَ الجمعة، قال: فهل نَزَعتهما؟ قلت: لا، فقال: أصبتَ السُّنةَ (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ آخر عن عُقْبة بن عامر:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 641 - على شرط مسلم وله شاهد
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں جمعہ کے دن شام سے مدینہ کے لیے نکلا اور اگلے جمعہ کو مدینہ پہنچا، میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس گیا تو انہوں نے مجھ سے پوچھا: ”تم نے یہ موزے کب پہنے تھے؟“ میں نے کہا: ”جمعہ کے دن،“ انہوں نے پوچھا: ”کیا تم نے انہیں اتارا ہے؟“ میں نے کہا: ”نہیں،“ تو انہوں نے فرمایا: ”تم نے سنت کے مطابق کام کیا ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطهارة / حدیث: 652
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، وصحَّحه الدارقطني في "سننه" برقم (757)، وانظر ما بعده» [ترقيم الرساله 652] [ترقيم الشركة 646] [ترقيم العلميه 641]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح، وصحَّحه الدارقطني في "سننه" برقم (757)، وانظر ما بعده.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے اور امام دارقطنی نے بھی اپنی "سنن" (757) میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔
نوٹ / توضیح: اس کے بعد والی روایت بھی ملاحظہ فرمائیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 652 سے ماخوذ ہے۔