حدیث نمبر: 654
أخبرني عبد الله بن الحسين القاضي بمَرْو، حَدَّثَنَا الحارث بن أبي أُسامة، حَدَّثَنَا رَوْح بن عُبادة، حَدَّثَنَا هشام بن حسّان، عن عُبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر: أنه كان لا يُوقِّت في المسح على الخفَّين وقتًا (1). وقد رُوِيَ هذا الحديث عن أنس بن مالك عن رسول الله ﷺ بإسناد صحيح، رواتُه عن آخرهم ثقات (2) إلا أنه شاد بمَرَّة:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ موزوں پر مسح کے لیے وقت کی کوئی حد مقرر نہیں کرتے تھے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه البيهقي في "السنن" 1/ 280 عن محمد بن عبد الله الحافظ - وهو الحاكم - بهذا الإسناد. وأخرجه الدارقطني (758) من طريق أبي الأزهر، عن روح بن عبادة، به. وتابع روحًا عنده عبدُ الله بن بكر السهمي عن هشام بن حسان.
حوالہ / مصدر: اسے امام بیہقی نے (1/ 280) میں امام حاکم کی سند سے روایت کیا ہے، جبکہ امام دارقطنی (758) نے اسے ابو الازہر عن روح بن عبادہ کے طریق سے نقل کیا ہے۔
متابعات و شواہد: روح بن عبادہ کی متابعت عبداللہ بن بكر السہمی نے ہشام بن حسان کے واسطے سے کی ہے۔
وأخرجه أيضًا بنحوه (759) و (760) من طريق عبد الله بن رجاء، عن عبيد الله بن عمر، به.
حوالہ / مصدر: اسی طرح کی روایت دارقطنی نے (759، 760) میں عبداللہ بن رجاء عن عبیداللہ بن عمر العمری کی سند سے بھی روایت کی ہے۔
(2) هذه مجازفة من المصنّف ﵀، فإنَّ في الإسناد المقدام بن داود بن تَلِيد وهو لم يؤثر توثيقه عن أحدٍ، وضعَّفه النسائيّ والدارقطني وغيرهما، وقال ابن أبي حاتم وابن يونس: تكلموا فيه، وانظر ترجمته في "سير أعلام النبلاء" للذهبي 13/ 345 و "لسان الميزان" للحافظ ابن حجر.
فنی نکتہ / علّت: مصنف (امام حاکم) کا اس سند کو صحیح کہنا "مجازفہ" (بے احتیاطی) ہے، کیونکہ اس میں مقدام بن داود بن تلید ہے جس کی کسی معتبر امام سے توثیق ثابت نہیں ہے۔
اہم نکتہ: امام نسائی اور دارقطنی نے اسے ضعیف کہا ہے، جبکہ ابن ابی حاتم اور ابن یونس کے مطابق اس پر کلام کیا گیا ہے۔ اس کے حالات "سیر اعلام النبلاء" (13/ 345) اور "لسان المیزان" میں دیکھے جا سکتے ہیں۔
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه البيهقي في "السنن" 1/ 280 عن محمد بن عبد الله الحافظ - وهو الحاكم - بهذا الإسناد. وأخرجه الدارقطني (758) من طريق أبي الأزهر، عن روح بن عبادة، به. وتابع روحًا عنده عبدُ الله بن بكر السهمي عن هشام بن حسان.
حوالہ / مصدر: اسے امام بیہقی نے (1/ 280) میں امام حاکم کی سند سے روایت کیا ہے، جبکہ امام دارقطنی (758) نے اسے ابو الازہر عن روح بن عبادہ کے طریق سے نقل کیا ہے۔
متابعات و شواہد: روح بن عبادہ کی متابعت عبداللہ بن بكر السہمی نے ہشام بن حسان کے واسطے سے کی ہے۔
وأخرجه أيضًا بنحوه (759) و (760) من طريق عبد الله بن رجاء، عن عبيد الله بن عمر، به.
حوالہ / مصدر: اسی طرح کی روایت دارقطنی نے (759، 760) میں عبداللہ بن رجاء عن عبیداللہ بن عمر العمری کی سند سے بھی روایت کی ہے۔
(2) هذه مجازفة من المصنّف ﵀، فإنَّ في الإسناد المقدام بن داود بن تَلِيد وهو لم يؤثر توثيقه عن أحدٍ، وضعَّفه النسائيّ والدارقطني وغيرهما، وقال ابن أبي حاتم وابن يونس: تكلموا فيه، وانظر ترجمته في "سير أعلام النبلاء" للذهبي 13/ 345 و "لسان الميزان" للحافظ ابن حجر.
فنی نکتہ / علّت: مصنف (امام حاکم) کا اس سند کو صحیح کہنا "مجازفہ" (بے احتیاطی) ہے، کیونکہ اس میں مقدام بن داود بن تلید ہے جس کی کسی معتبر امام سے توثیق ثابت نہیں ہے۔
اہم نکتہ: امام نسائی اور دارقطنی نے اسے ضعیف کہا ہے، جبکہ ابن ابی حاتم اور ابن یونس کے مطابق اس پر کلام کیا گیا ہے۔ اس کے حالات "سیر اعلام النبلاء" (13/ 345) اور "لسان المیزان" میں دیکھے جا سکتے ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 654 سے ماخوذ ہے۔