حدیث نمبر: 653
حَدَّثَنَا أبو محمد الحسن بن محمد بن إسحاق الإسفراييني، حَدَّثَنَا الحسين بن إسحاق التُّستَري، حَدَّثَنَا يحيى بن عبد الله بن بُكَير، حَدَّثَنَا المفضَّل بن فَضَالة قال: سألتُ يزيد بن أبي حَبيب عن المسح على الخفَّين، فقال (2): أخبرني عبد الله بن الحَكَم البَلَوي، عن عُلي بن رَبَاح، عن عُقبة بن عامر أنه أخبره: أنه وَفَدَ إلى عمر بن الخطَّاب عامًا، قال عقبة: وعليَّ خُفَّانِ من تلك الخِفَافِ الغِلَاظ، فقال لي عمر: متى عهدُك بلباسِهما؟ فقلت: لَبِستُهما يومَ الجمعة، وهذا يومُ الجمعة، فقال لي عمر: أصبتَ السُّنةَ (3). وقد صحَّت الرواية عن عبد الله بن عمر أنه أَفتى به، ولم يُسنِده، وإليه ذهب مالك بن أنس الإمام.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ ایک سال سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس وفد لے کر آئے، عقبہ کہتے ہیں کہ میں نے موٹے چمڑے کے موزے پہن رکھے تھے، تو سیدنا عمر نے مجھ سے پوچھا: ”تمہیں انہیں پہنے ہوئے کتنا عرصہ ہوا ہے؟“ میں نے عرض کیا: ”میں نے انہیں جمعہ کے دن پہنا تھا اور آج (پھر) جمعہ ہے،“ تو سیدنا عمر نے مجھ سے فرمایا: ”تم نے سنت کے مطابق کام کیا ہے۔“
امام حاکم فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی یہی فتویٰ ثابت ہے اور امام مالک بن انس کا یہی مسلک ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) في (ز) و (ص): فقال المفضل، وهو خطأ، فإنَّ الذي روى هذا الحديث عن عبد الله بن الحكم البلوي هو يزيد بن أبي حبيب.
فنی نکتہ / علّت: نسخہ (ز) اور (ص) میں "فقال المفضل" لکھا ہے جو کہ غلط ہے، درست یہ ہے کہ عبداللہ بن حکم البلوی سے روایت کرنے والے راوی "یزید بن ابی حبیب" ہیں۔
(3) خبر صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عبد الله بن الحكم البلوي.
درجۂ حدیث: یہ ایک "صحیح خبر" ہے اور عبداللہ بن حکم البلوی کی موجودگی کی بنا پر یہ سند "حسن" کے درجے کی ہے۔
وأخرجه ابن ماجه (558) من طريق حيوة بن شريح، عن يزيد بن أبي حبيب، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام ابن ماجہ نے (558) میں حیوہ بن شریح عن یزید بن ابی حبیب کی سند سے روایت کیا ہے۔
وفي مَسْألَة التوقيت في المسح على الخفين انظر التعليق على حديث خزيمة بن ثابت في "مسند أحمد" 36/ (21851).
نوٹ / توضیح: موزوں پر مسح کی مدت (توقیت) کے مسئلے پر تفصیلی کلام کے لیے "مسند احمد" (36/ 21851) میں خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کی حدیث پر ہمارے حواشی ملاحظہ فرمائیں۔
فنی نکتہ / علّت: نسخہ (ز) اور (ص) میں "فقال المفضل" لکھا ہے جو کہ غلط ہے، درست یہ ہے کہ عبداللہ بن حکم البلوی سے روایت کرنے والے راوی "یزید بن ابی حبیب" ہیں۔
(3) خبر صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عبد الله بن الحكم البلوي.
درجۂ حدیث: یہ ایک "صحیح خبر" ہے اور عبداللہ بن حکم البلوی کی موجودگی کی بنا پر یہ سند "حسن" کے درجے کی ہے۔
وأخرجه ابن ماجه (558) من طريق حيوة بن شريح، عن يزيد بن أبي حبيب، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام ابن ماجہ نے (558) میں حیوہ بن شریح عن یزید بن ابی حبیب کی سند سے روایت کیا ہے۔
وفي مَسْألَة التوقيت في المسح على الخفين انظر التعليق على حديث خزيمة بن ثابت في "مسند أحمد" 36/ (21851).
نوٹ / توضیح: موزوں پر مسح کی مدت (توقیت) کے مسئلے پر تفصیلی کلام کے لیے "مسند احمد" (36/ 21851) میں خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کی حدیث پر ہمارے حواشی ملاحظہ فرمائیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 653 سے ماخوذ ہے۔