حدیث نمبر: 646
حَدَّثَنَا أبو جعفر عبد الله بن إسماعيل بن إبراهيم (3) بن منصورٍ أميرِ المؤمنين في دار المنصور ببغداد، حَدَّثَنَا الهيثم بن خالد، حَدَّثَنَا أبو نُعيم، حَدَّثَنَا سليمان بن أَرقَمَ، عن الزُّهْري، عن سالم، عن أبيه قال: تيمَّمنا مع رسول الله ﷺ فضَرَبْنا بأيدينا على الصعيد الطيِّب، ثم نَفَضنا أيدينا فمَسَحْنا بها وجوهَنا، ثم ضربنا ضربةً أخرى الصعيدَ الطيِّبَ ثم نَفَضْنا أيديَنا فمسحنا بأيدينا من المِرفَقِ إلى الكفِّ على مَنابتِ الشَّعر من ظاهرٍ وباطن (1).
هذا حديث مفسَّر، وإنما ذكرتُه شاهدًا لأنَّ سليمان بن أرقم ليس من شرط هذا الكتاب، وقد اشترطنا إخراجَ مثله في الشواهد.
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تیمم کیا، ہم نے اپنے ہاتھ پاک مٹی پر مارے، پھر ہاتھ جھاڑ کر ان سے اپنے چہروں کا مسح کیا، پھر ہم نے پاک مٹی پر دوبارہ ضرب لگائی اور ہاتھ جھاڑ کر ان سے کہنیوں سے ہتھیلیوں تک ظاہر اور باطن کا مسح کیا۔
یہ حدیث مفسر ہے اور میں نے اسے بطور شاہد ذکر کیا ہے کیونکہ سلیمان بن ارقم اگرچہ اس کتاب کی شرط پر نہیں ہیں لیکن ہم نے شواہد میں ان جیسی روایات لینے کی شرط رکھی ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطهارة / حدیث: 646
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًّا
تخریج حدیث «إسناده ضعيف جدًّا، سليمان بن أرقم متروك الحديث» [ترقيم الرساله 646] [ترقيم الشركة 640]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) وقع في النسخ الخطية: إبراهيم بن إسماعيل، والصواب أنه إسماعيل بن إبراهيم، كما جاء في غير موضع من هذا الكتاب، وانظر ترجمته في "تاريخ بغداد" 11/ 63، و "سير أعلام النبلاء" 15/ 551.
فنی نکتہ / علّت: خطی نسخوں میں "ابراہیم بن اسماعیل" درج ہے، لیکن درست نام "اسماعیل بن ابراہیم" ہے جیسا کہ دیگر مقامات پر مذکور ہے۔
نوٹ / توضیح: ان کے حالات "تاریخ بغداد" 11/ 63 میں دیکھے جا سکتے ہیں۔
(1) إسناده ضعيف جدًّا، سليمان بن أرقم متروك الحديث. أبو نعيم: هو الفضل بن دكين.
درجۂ حدیث: اس کی سند سخت ضعیف ہے۔
فنی نکتہ / علّت: سلیمان بن ارقم متروک الحدیث ہے، اور ابو نعیم سے مراد الفضل بن دکین ہیں۔
وأخرجه الدارقطني (688) عن محمد بن علي بن إسماعيل الأُبُلي، عن الهيثم بن خالد، بهذا الإسناد. وضعَّفه بسليمان بن أرقم، وكذا ضعفه البيهقي في "سننه" 1/ 207 به وقال: لا يُحتجُّ بحديثه.
حوالہ / مصدر: اسے امام دارقطنی (688) نے ہیثم بن خالد کے واسطے سے روایت کیا اور سلیمان بن ارقم کی وجہ سے اسے ضعیف قرار دیا۔
درجۂ حدیث: امام بیہقی نے بھی (1/ 207) میں اسے ضعیف کہا ہے کہ اس کی حدیث سے احتجاج درست نہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 646 سے ماخوذ ہے۔