کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: ایک مرتبہ بچے کا اقرار کرنے کے بعد اس کا انکار نہیں کرسکتا
١٨٤٨٦ - (حدثنا أبو بكر) (١) قال: نا (هشيم) (٢) عن (مجالد) (٣) عن الشعبي عن (عمر) (٤) قال: إذا أقر بولده مرة واحدة فليس له أن ينفيه (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ بچے کا اقرار کرنے کے بعد اس کا انکار نہیں کرسکتا۔
١٨٤٨٧ - حدثنا حفص عن (مجالد) (١) عن الشعبي عن علي قال: إذا أقر (بولده) (٢) فليس له أن ينفيه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ بچے کا اقرار کرنے کے بعد اس کا انکار نہیں کرسکتا۔
١٨٤٨٨ - حدثنا حفص عن مجالد عن شريح قال: إذا أقر به أو هُنِئّ به أو أَوْلَم عليه فليس له أن ينتفي منه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ بچے کا اقرار کرنے کے بعد اس کا انکار نہیں کرسکتا۔
١٨٤٨٩ - حدثنا علي بن هاشم عن ابن أبي (ليلى) (١) عن الشعبي (وغيره) (٢) عن عمر قال: إذا أقر بالولد طرفة عين فليس له أن ينفيه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ پلک جھپکنے کے برابر بھی بچے کا اقرار کرنے کے بعد اس کا انکار نہیں کرسکتا۔
١٨٤٩٠ - حدثنا ابن أبي (١) زائدة عن (مجالد) (٢) عن الشعبي قال: جاء رجل ⦗٣٤⦘ بابن له قد أقر به ثم أراد أن ينفيه فشهدوا أنه ولد في بيته وأنهم هناوه به وأقر به فقال شريح: الزم ولدك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجالد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت شعبی رحمہ اللہ کے پاس ایک آدمی ایک بچہ لے کر آیا جس کا پہلے اقرار کرچکا تھا اب انکار کرنا چاہتا تھا۔ لوگوں نے گواہی دی کہ یہ بچہ اس کے گھر میں پیدا ہوا ہے اور لوگوں نے اس کی مبارک باد بھی دی تھی، آدمی نے اس بات کا اقرار کیا تو حضرت شریح رحمہ اللہ نے فیصلہ فرمایا کہ اپنے بچے کو اپنے پاس رکھو۔ حضرت عامر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی یہی فیصلہ فرمایا کرتے تھے۔
١٨٤٩٢ - حدثنا ابن إدريس عن هشام عن الحسن قال: إذا أقر الرجل بولده فليس له أن ينفيه على حال.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ بچے کا اقرار کرنے کے بعد اس کا کسی حال میں انکار نہیں کرسکتا۔
١٨٤٩٣ - حدثنا هشيم عن مغيرة و (عبيدة) (١) عن إبراهيم قال: إذا أقر بالولد فليس له أن ينتفي منه.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ بچے کا اقرار کرنے کے بعد اس کا انکار نہیں کرسکتا۔ حضرت حماد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر حمل کا اقرار کیا تو اس کے پاس انکار کی گنجائش نہیں ہے، وہ یہ کہہ سکتا ہے کہ مجھے عدت میں غلطی لگی تھی۔
١٨٤٩٥ - حدثنا جرير عن مغيرة عن حماد قال: إذا تبين (حمل) (١) (سريته) (٢) فله (إنكاره) (٣) ما لم يقو به بعد ما تضع، وإن كان قد أقر بالحمل ثم أنكره بعد ما تضع فله ذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کسی آدمی کی بیوی یاباندی کا حمل ظاہر ہوا تو وہ وضع حمل کے بعد اقرار سے پہلے انکار کرسکتا ہے، اور اگر اس نے حمل کا اقرار کیا اور پھر وضع حمل کے بعد اس کا انکار کرنا چاہے تو کرسکتا ہے۔
١٨٤٩٦ - حدثنا وكيع عن سفيان عن محمد بن عجلان بن عمر بن عبد العزيز قال: إذا أقر (بولده) (١) ثم نفاه لزمه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر اپنے بچے کا اقرار کیا پھر نفی کرے تو پھر بھی بچہ اسی کا ہوگا۔
١٨٤٩٧ - حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن الشعبي قال: إذا انتفى الرجل من ولده لاعن أمه إن كانت حية، وإن كانت قد ماتت جلد الحد وألزق به الولد (فإن) (١) كان ابن (سرية) (٢) صار عبدًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر آدمی نے اپنے بچے کا انکار کیا تو بیوی اگر زندہ ہو تو لعان کرے گا اور اگر مرچکی ہو تو اس پر حد جاری ہوگی اور بچہ اسی کا ہوگا، اگر وہ بچہ باندی کا بچہ ہو تو غلام ہوگا۔
١٨٤٩٨ - حدثنا وكيع عن سفيان عن حماد والحكم قالا؛ إذا أقر بولده ثم نفاه قال الحكم: يضرب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد اور حضرت حکم d سے سوال کیا گیا کہ اگر آدمی بچے کا اقرار کرنے کے بعد پھر انکار کردے تو کیا حکم ہے ؟ حضرت حکم رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اس پر حد جاری ہوگی۔ حضرت حماد رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اقرار سے بچہ لازم ہوگیا اور وہ لعان کرے گا، انہوں نے ذکر کیا کہ حضرت سفیان رحمہ اللہ بھی یہی فرمایا کرتے تھے۔
١٨٥٠١ - حدثنا عبدة عن (سعيد) (١) عن أبي معشر عن إبراهيم في الرجل يقر بولده ثم ينتفي منه قال: يلاعن بكتاب اللَّه، ويلزم الولد بقضاء رسول اللَّه ﷺ (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے بچے کا اقرار کیا پھر اس کا انکار کیا تو وہ اللہ کی کتاب کے مطابق لعان کرے گا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کے مطابق بچہ اسی کا ہوگا۔
١٨٥٠٢ - حدثنا جرير عن مغيرة عن حماد في رجل أقر (بولده) (١) من (جاريته) (٢) حتى صار رجلًا وزوّجه ثم أنكره قال: ليس إنكاره (بشيء) (٣) يلزق به.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنی باندی سے اپنے کسی بچے کا اقرار کیا۔ پھر وہ مرد بن گیا اور اس نے اس کی شادی کرادی پھر اس نے انکار کردیا تو یہ انکار کوئی حیثیت نہیں رکھتا، اور وہ بچہ اسی کا ہوگا۔
١٨٥٠٣ - حدثنا يحيى بن يمان عن سفيان عن منصور عن مجاهد قال: له أن (ينفيه) (١) وإن كان رجلًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ بچے کا انکار کرسکتا ہے خواہ وہ مرد بن چکاہو۔
١٨٥٠٤ - حدثنا عبدة عن عاصم قال: جاءت امرأة إلى أبي موسى، وأبوها وزوجها وأمها وهي (حبلى) (١) يقول زوجها: (هي) (٢) جارية، وإنما كنت ألعب معها فكلَّم الجارية فقالت: زوجنيه أبي وأمي وكان يدخل علي فيصنع بي ما يصنع الرجل بامرأته قال: فضرب رأسه بالدرة وقال: هي امرأتك والولد ولدك (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عاصم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت اپنے خاوند، اپنے باپ اور اپنی ماں کے ساتھ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئی، وہ حاملہ تھی، اس کے خاوند نے کہا کہ یہ ایک باندی تھی، میں اس کے ساتھ دل لگی کرتا تھا، جب کہ عورت کا کہنا تھا کہ میرے ماں باپ نے اس سے میری شادی کی ہے اور یہ میرے پاس آتا تھا، اور وہ سب کرتا تھا جو ایک آدمی اپنی بیوی کے ساتھ کرتا ہے۔ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے اپنا کوڑا اس آدمی کے سر پر مارا اور فرمایا کہ یہ تیری بیوی ہے اور بچہ تیرا ہی ہے۔