کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: سیدہ میمونہ بنت سعد رضی اللہ عنہا، نبی کریم ﷺ کی خادمہ
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي سَوْدَةَ، عَنْ مَيْمُونَةَ وَلَيْسَتْ، بِمَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَفْتِنَا عَنْ بَيْتِ الْمَقْدِسِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرْضُ الْمَحْشَرِ وَالْمَنْشَرِ، ائْتُوهُ فَصَلُّوا فِيهِ، فَإِنَّ الصَّلَاةَ فِيهِ كَأَلْفِ صَلَاةٍ، قَالَتْ: أَرَأَيْتَ مَنْ لَمْ يُطِقْ أَنْ يَتَحَمَّلَ أَنْ يَأْتِيَهُ؟ قَالَ: فَإِنْ لَمْ يُطِقْ ذَلِكَ فَلْيُهْدِ إِلَيْهِ زَيْتًا يُسْرَجُ فِيهِ، فَمَنْ أَهْدَى إِلَيْهِ كَانَ كَمَنْ صَلَّى فِيهِ "
ترجمہ
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا (نبی کریم ﷺ کی زوجہ سیدہ میمونہ سے الگ ایک اور خاتون) کہتی ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمیں بیت المقدس کے بارے میں فتویٰ دیجیے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ حشر اور نشر کی سرزمین ہے، وہاں جاؤ اور وہاں نماز پڑھو، کیونکہ وہاں کی نماز ہزار نمازوں کے برابر ہے۔“ انہوں نے عرض کیا: اگر کوئی وہاں جانے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو کیا خیال ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر وہ ایسا نہ کر سکے تو وہاں تیل بھیج دے جو وہاں جلایا جائے، جو کوئی وہاں تیل بھیجے وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے وہاں نماز پڑھی۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُطَيْرٍ الرَّمْلِيُّ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ الْعَسْقَلَانِيُّ، ثنا رَوَّادُ بْنُ الْجَرَّاحِ، ح وَحَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ الزُّبَيْرِ الْحَلَبِيُّ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي سَوْدَةَ، عَنْ أَخِيهِ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سَوْدَةَ، عَنْ مَيْمُونَةَ، مَوْلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ أَفْتِنَا فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ، فَقَالَ: «أَرْضُ الْمَنْشَرِ وَالْمَحْشَرِ، ائْتُوهُ فَصَلُّوا فِيهِ، فَإِنَّ صَلَاةً فِيهِ كَأَلْفِ صَلَاةٍ» . قَالَتْ: أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ نُطِقْ أَنْ تَتَحَمِّلَ إِلَيْهِ أَوْ نَأْتِيَهُ؟ قَالَ: «فَاهْدِينَ إِلَيْهِ زَيْتًا يُسْرَجُ فِيهِ، فَإِنَّهُ مَنْ أَهْدَى لَهُ كَانَ كَمَنْ صَلَّى فِيهِ»
ترجمہ
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا، نبی کریم ﷺ کی آزاد کردہ باندی، کہتی ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمیں بیت المقدس کے بارے میں فتویٰ دیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ حشر اور نشر کی سرزمین ہے، وہاں جاؤ اور وہاں نماز پڑھو، کیونکہ وہاں کی ایک نماز ہزار نمازوں کے برابر ہے۔“ انہوں نے عرض کیا: اگر ہم وہاں جانے یا پہنچنے کی طاقت نہ رکھیں تو کیا خیال ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو وہاں تیل ہدیہ کرو جو وہاں جلایا جائے، کیونکہ جو کوئی وہاں تیل ہدیہ کرے وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے وہاں نماز پڑھی۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُطَيْرٍ الرَّمْلِيُّ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ الْعَسْقَلَانِيُّ، ثنا رَوَّادُ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ صَدَقَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي سَوْدَةَ، عَنْ أَخِيهِ، عَنْ مَيْمُونَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ "
ترجمہ
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَلْطِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَا: ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي يَزِيدَ الضَّنِّيِّ، عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ سَعْدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ قَبَّلَ امْرَأَتَهُ وَهُمَا صَائِمَانِ، قَالَ: «قَدْ أَفْطَرَا»
ترجمہ
سیدہ میمونہ بنت سعد رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے ایک ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جس نے روزے کی حالت میں اپنی بیوی کو بوسہ دیا جبکہ وہ دونوں روزے سے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا۔“
حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَلْطِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا إِسْرَائِيلُ، ح وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي يَزِيدَ الضَّنِّيِّ، عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ سَعْدٍ، مَوْلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ وَلَدِ الزِّنَا، فَقَالَ: «لَا خَيْرَ فِيهِ نَعْلَانِ أُجَاهِدُ بِهِمَا، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُعْتِقَ وَلَدَ زِنًا»
ترجمہ
سیدہ میمونہ بنت سعد رضی اللہ عنہا، نبی کریم ﷺ کی آزاد کردہ باندی، سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ سے حرامی بچے کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس میں کوئی بھلائی نہیں، دو جوتے جن سے میں جہاد کروں وہ مجھے کسی حرامی بچے کو آزاد کرنے سے زیادہ محبوب ہیں۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ زُرَيْقٍ الرَّاسِبِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطَّرَائِفِيُّ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ آمِنَةَ بِنْتِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ سَعْدٍ، أَنَّهَا قَالَتْ: " أَفْتِنَا يَا رَسُولَ اللهِ عَنْ رَجُلٍ نَسِيَ الصَّلَاةَ، حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ، أَوْ غَرَبَتْ مَا كَفَّارَتُهَا؟ قَالَ: «إِذَا ذَكَرَهَا فَلْيُصَلِّهَا، وَلْيُحْسِنْ صَلَاتَهَا، وَلْيَتَوَضَّأْ، وَلْيُحْسِنْ وُضُوءَهُ، فَذَلِكَ كَفَّارَتُهُ»
ترجمہ
سیدہ میمونہ بنت سعد رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمیں اس آدمی کے بارے میں فتویٰ دیجیے جو نماز بھول گیا یہاں تک کہ سورج طلوع یا غروب ہو گیا، اس کا کفارہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب اسے یاد آئے تو وہ نماز پڑھے اور اچھی طرح پڑھے، اور وضو کرے اور اچھی طرح وضو کرے، یہی اس کا کفارہ ہے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ الْعَسْكَرِيُّ ثنا إِسْحَاقُ بْنُ زُرَيْقٍ الرَّاسِبِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطَّرَائِفِيُّ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ آمِنَةَ بِنْتِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ سَعْدٍ، أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ أَفْتِنَا عَنِ الصَّوْمِ، فَقَالَ: «مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ مَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ يَصُومَهُنَّ، فَإِنَّ كُلَّ يَوْمٍ يُكَفِّرُ عَشْرَ سَيِّئَاتٍ، وَإِنَّهُ يُنَقِّي مِنَ الْإِثْمِ، كَمَا يُنَقِّي الْمَاءُ الثَّوْبَ»
ترجمہ
سیدہ میمونہ بنت سعد رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: یا رسول اللہ! ہمیں روزے کے بارے میں فتویٰ دیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہر مہینے میں تین دن، جو اس کی طاقت رکھے وہ رکھے، کیونکہ ہر دن دس گناہ مٹا دیتا ہے، اور یہ گناہ سے اسی طرح پاک کرتا ہے جیسے پانی کپڑے کو پاک کرتا ہے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ زُرَيْقٍ الرَّاسِبِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ آمِنَةَ بِنْتِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ سَعْدٍ، أَنَّهَا، قَالَتْ: أَفْتِنَا يَا رَسُولَ اللهِ عَنِ السَّرِقَة، فَقَالَ: «مَنْ أَكَلَهَا وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهَا سَرَقَةٌ، فَقَدِ اشْتَرَكَ فِي إِثْمِ سَارِقِهَا»
ترجمہ
سیدہ میمونہ بنت سعد رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: یا رسول اللہ! ہمیں چوری کے بارے میں فتویٰ دیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو کوئی چوری کا مال جانتے بوجھتے کھائے، وہ چور کے گناہ میں شریک ہے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ زُرَيْقِ الرَّاسِبِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ آمِنَةَ بِنْتِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ سَعْدٍ، أَنَّهَا قَالَتْ: أَفْتِنَا عَنِ الصَّدَقَةِ، فَقَالَ: «إِنَّهَا حَاجِبٌ مِنَ النَّارِ، لِمَنْ أَحْسَنَهَا يَبْتَغِي بِهَا وَجْهَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ»
ترجمہ
سیدہ میمونہ بنت سعد رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ہمیں صدقے کے بارے میں فتویٰ دیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ جہنم کی آگ سے بچاؤ ہے، اس شخص کے لیے جو اسے اچھے طریقے سے دے اور اس سے اللہ عزوجل کی رضا چاہے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ زُرَيْقِ الرَّاسِبِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ آمِنَةَ بِنْتِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ سَعْدٍ، أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ أَفْتِنَا عَنِ الْكَلْبِ، فَقَالَ: «طُعْمَةٌ جَاهِلِيَّةٌ وَقَدْ أَغْنَى الله عَنْهَا»
ترجمہ
سیدہ میمونہ بنت سعد رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: یا رسول اللہ! ہمیں کتے کے بارے میں فتویٰ دیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ جاہلیت کی خوراک ہے، اور اللہ نے اس سے بے نیاز کر دیا ہے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ زُرَيْقِ الرَّاسِبِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ آمِنَةَ بِنْتِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ سَعْدٍ، أَنَّهَا قَالَتْ: أَفْتِنَا يَا رَسُولَ اللهِ عَنِ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ، فَقَالَ: " تَبُلِّي أُصُولَ الشَّعْرِ، وَتُنَقِّي الْبَشَرَ، فَإِنَّ مَثَلَ الَّذِينَ لَا يُحْسِنُونَ الْغُسْلَ، كَمَثَلِ شَجَرَةٍ أَصَابَهَا مَاءٌ، فَلَا وَرَقُهَا يُنْبِتُ، وَلَا أَصْلُهَا يُرْوَى، فَاتَّقُوا اللهَ وَأَحْسِنُوا الْغُسْلَ، فَإِنَّهَا مِنَ الْأَمَانَةِ الَّتِي حُمِّلْتُمْ وَالسَّرَائِرِ الَّتِي اسْتُودِعْتُمْ، قَالَتْ: قُلْتُ: كَمْ يَكْفِي الرَّأْسَ مِنَ الْمَاءِ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: ثَلَاثُ حَفَنَاتٍ "
ترجمہ
سیدہ میمونہ بنت سعد رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: یا رسول اللہ! ہمیں غسل جنابت کے بارے میں فتویٰ دیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بالوں کی جڑوں کو تر کرو اور جسم کو خوب صاف کرو، بےشک جو لوگ اچھی طرح غسل نہیں کرتے ان کی مثال اس درخت جیسی ہے جس پر پانی پڑا مگر نہ اس کے پتے اگے اور نہ اس کی جڑ سیراب ہوئی، پس اللہ سے ڈرو اور اچھی طرح غسل کرو، کیونکہ یہ اس امانت میں سے ہے جو تمہیں سونپی گئی ہے اور ان رازوں میں سے ہے جو تمہارے سپرد کیے گئے ہیں۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! سر کے لیے کتنا پانی کافی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تین چلو۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ زُرَيْقِ الرَّاسِبِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ آمِنَةَ بِنْتِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ سَعْدٍ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ هَلْ يَأْكُلُ أَحَدُنَا وَهُوَ جُنُبٌ؟ قَالَ: لَا يَأْكُلُ حَتَّى يَتَوَضَّأَ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ هَلْ يَرْقُدُ الْجُنُبُ؟ قَالَ: «مَا أُحِبُّ أَنْ يَرْقُدَ وَهُوَ جُنُبٌ حَتَّى يَتَوَضَّأَ، وَيُحْسِنَ وُضُوءَهُ، وَإِنِّي أَخْشَى أَنْ يُتَوَفَّى، فَلَا يَحْضُرُهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ»
ترجمہ
سیدہ میمونہ بنت سعد رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہم میں سے کوئی جنابت کی حالت میں کھا سکتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہ کھائے یہاں تک کہ وضو کر لے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا جنبی سو سکتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے پسند نہیں کہ وہ جنابت کی حالت میں سوئے یہاں تک کہ وضو کر لے اور اچھی طرح وضو کرے، کیونکہ مجھے خدشہ ہے کہ اسے موت آ جائے تو جبریل علیہ السلام اس کے پاس حاضر نہ ہوں۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ زُرَيْقِ الرَّاسِبِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ آمِنَةَ بِنْتِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ سَعْدٍ، أَنَّهَا قَالَتْ: أَفْتِنَا يَا رَسُولَ اللهِ عَنْ صَلَاةِ الْجُمُعَةِ، قَالَ: «فِيهَا سَاعَةٌ لَا يَدْعُو الْعَبْدُ فِيهَا رَبَّهُ إِلَّا اسْتَجَابَ لَهُ» ، قُلْتُ: أَيَّةُ سَاعَةٍ هِيَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «ذَلِكَ حِينَ يَقُومُ الْإِمَامُ»
ترجمہ
سیدہ میمونہ بنت سعد رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: یا رسول اللہ! ہمیں نماز جمعہ کے بارے میں فتویٰ دیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ جو بندہ اس میں اپنے رب سے دعا مانگے اللہ اسے قبول فرماتا ہے۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ کون سی گھڑی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ اس وقت ہے جب امام کھڑا ہوتا ہے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ زُرَيْقِ الرَّاسِبِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ آمِنَةَ بِنْتِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ سَعْدٍ، أَنَّهَا قَالَتْ: " أَفْتِنَا يَا رَسُولَ اللهِ فِي رَجُلٍ سَهَا فِي صَلَاتِهِ، فَلَا يَدْرِي كَمْ صَلَّى؟ قَالَ: يَنْصَرِفُ ثُمَّ يَقُومُ فِي صَلَاتِهِ حَتَّى يَعْلَمَ كَمْ صَلَّى، فَإِنَّمَا ذَلِكَ الْوَسْوَاسُ يَعْرِضُ لَهُ فَيُسَهِّيهِ عَنْ صَلَاتِهِ "
ترجمہ
سیدہ میمونہ بنت سعد رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: یا رسول اللہ! ہمیں اس آدمی کے بارے میں فتویٰ دیجیے جو اپنی نماز میں بھول جائے اور اسے معلوم نہ ہو کہ کتنی رکعتیں پڑھی ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ لوٹے پھر اپنی نماز میں کھڑا ہو یہاں تک کہ اسے معلوم ہو جائے کہ کتنی پڑھی ہے، کیونکہ یہ وسوسہ ہے جو اسے پیش آتا ہے اور اسے اس کی نماز کے بارے میں بھلا دیتا ہے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ زُرَيْقِ الرَّاسِبِيّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ آمِنَةَ بِنْتِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ سَعْدٍ، أَنَّهَا قَالَتْ: أَفْتِنَا يَا رَسُولَ اللهِ مِمَّ عَذَابُ الْقَبْرِ؟ قَالَ: «مِنْ أَثَرِ الْبَوْلِ، فَمَنْ أَصَابَهُ بَوْلٌ فَلْيَغْسِلْهُ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ مَاءً فَلْيَمْسَحْهُ بِتُرَابٍ طَيِّبٍ»
ترجمہ
سیدہ میمونہ بنت سعد رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: یا رسول اللہ! ہمیں فتویٰ دیجیے، قبر کا عذاب کس چیز سے ہوتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پیشاب کے اثر سے، تو جسے پیشاب لگے وہ اسے دھو لے، اور اگر پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے صاف کر لے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ زُرَيْقِ الرَّاسِبِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ آمِنَةَ بِنْتِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ سَعْدٍ، أَنَّهَا قَالَتْ: " أَفْتِنَا يَا رَسُولَ اللهِ مَنْ لَمْ يَغْزُ وَأَعْطَى مَالَهُ يُغْزَى عَلَيْهِ، فَلَهُ أَجْرٌ أَمْ لِلْمُنْطَلِقِ؟ قَالَ: لَهُ أَجْرُ مَالِهِ وَلِلْمُنْطَلِقِ أَجْرُ مَا احْتُسِبَ مِنْ ذَلِكَ "
ترجمہ
سیدہ میمونہ بنت سعد رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: یا رسول اللہ! ہمیں فتویٰ دیجیے، جو خود جہاد میں نہ جائے بلکہ اپنا مال دے دے کہ اس سے جہاد کیا جائے، کیا اسے اجر ملے گا یا صرف جہاد پر جانے والے کو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے اپنے مال کا اجر ملے گا، اور جہاد پر جانے والے کو اس کے اخلاص کے مطابق اجر ملے گا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا الْمُحَارِبِيُّ، كِلَاهُمَا عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ سَعْدٍ، وَكَانَتْ خَادِمًا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَثَلُ الرَّافِلَةِ فِي الزِّينَةِ، فِي غَيْرِ أَهْلِهَا، كَمَثَلِ الظُّلْمَةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، لَا نُورَ لَهَا»
ترجمہ
سیدہ میمونہ بنت سعد رضی اللہ عنہا، جو نبی کریم ﷺ کی خادمہ تھیں، کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو عورت اپنے گھر والوں کے بغیر بناؤ سنگھار میں اتراتی ہوئی نکلے، اس کی مثال قیامت کے دن ایسی تاریکی جیسی ہے جس میں کوئی روشنی نہ ہو۔“
حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ سَعْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَا مِنِ امْرَأَةٍ تَخْرُجُ فِي شُهْرَةٍ مِنَ الطِّيبِ، فَيَنْظُرُ الرِّجَالُ إِلَيْهَا، إِلَّا لَمْ تَزَلْ فِي سَخَطِ اللهِ حَتَّى تَرْجِعَ إِلَى بَيْتِهَا»
ترجمہ
سیدہ میمونہ بنت سعد رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو عورت شہرت کی خاطر خوشبو لگا کر نکلتی ہے اور مرد اسے دیکھتے ہیں، وہ اس وقت تک اللہ کی ناراضی میں رہتی ہے جب تک اپنے گھر واپس نہ لوٹ آئے۔“