المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
ميمونة بنت سعد خادمة النبي صلى الله عليه وسلم باب: سیدہ میمونہ بنت سعد رضی اللہ عنہا، نبی کریم ﷺ کی خادمہ
حدیث نمبر: 21532
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ زُرَيْقِ الرَّاسِبِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ آمِنَةَ بِنْتِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ سَعْدٍ، أَنَّهَا قَالَتْ: " أَفْتِنَا يَا رَسُولَ اللهِ مَنْ لَمْ يَغْزُ وَأَعْطَى مَالَهُ يُغْزَى عَلَيْهِ، فَلَهُ أَجْرٌ أَمْ لِلْمُنْطَلِقِ؟ قَالَ: لَهُ أَجْرُ مَالِهِ وَلِلْمُنْطَلِقِ أَجْرُ مَا احْتُسِبَ مِنْ ذَلِكَ "ترجمہ
سیدہ میمونہ بنت سعد رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: یا رسول اللہ! ہمیں فتویٰ دیجیے، جو خود جہاد میں نہ جائے بلکہ اپنا مال دے دے کہ اس سے جہاد کیا جائے، کیا اسے اجر ملے گا یا صرف جہاد پر جانے والے کو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے اپنے مال کا اجر ملے گا، اور جہاد پر جانے والے کو اس کے اخلاص کے مطابق اجر ملے گا۔“