المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
ميمونة بنت سعد خادمة النبي صلى الله عليه وسلم باب: سیدہ میمونہ بنت سعد رضی اللہ عنہا، نبی کریم ﷺ کی خادمہ
حدیث نمبر: 21527
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ زُرَيْقِ الرَّاسِبِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ آمِنَةَ بِنْتِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ سَعْدٍ، أَنَّهَا قَالَتْ: أَفْتِنَا يَا رَسُولَ اللهِ عَنِ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ، فَقَالَ: " تَبُلِّي أُصُولَ الشَّعْرِ، وَتُنَقِّي الْبَشَرَ، فَإِنَّ مَثَلَ الَّذِينَ لَا يُحْسِنُونَ الْغُسْلَ، كَمَثَلِ شَجَرَةٍ أَصَابَهَا مَاءٌ، فَلَا وَرَقُهَا يُنْبِتُ، وَلَا أَصْلُهَا يُرْوَى، فَاتَّقُوا اللهَ وَأَحْسِنُوا الْغُسْلَ، فَإِنَّهَا مِنَ الْأَمَانَةِ الَّتِي حُمِّلْتُمْ وَالسَّرَائِرِ الَّتِي اسْتُودِعْتُمْ، قَالَتْ: قُلْتُ: كَمْ يَكْفِي الرَّأْسَ مِنَ الْمَاءِ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: ثَلَاثُ حَفَنَاتٍ "ترجمہ
سیدہ میمونہ بنت سعد رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: یا رسول اللہ! ہمیں غسل جنابت کے بارے میں فتویٰ دیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بالوں کی جڑوں کو تر کرو اور جسم کو خوب صاف کرو، بےشک جو لوگ اچھی طرح غسل نہیں کرتے ان کی مثال اس درخت جیسی ہے جس پر پانی پڑا مگر نہ اس کے پتے اگے اور نہ اس کی جڑ سیراب ہوئی، پس اللہ سے ڈرو اور اچھی طرح غسل کرو، کیونکہ یہ اس امانت میں سے ہے جو تمہیں سونپی گئی ہے اور ان رازوں میں سے ہے جو تمہارے سپرد کیے گئے ہیں۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! سر کے لیے کتنا پانی کافی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تین چلو۔“