المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
ميمونة بنت سعد خادمة النبي صلى الله عليه وسلم باب: سیدہ میمونہ بنت سعد رضی اللہ عنہا، نبی کریم ﷺ کی خادمہ
حدیث نمبر: 21517
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي سَوْدَةَ، عَنْ مَيْمُونَةَ وَلَيْسَتْ، بِمَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَفْتِنَا عَنْ بَيْتِ الْمَقْدِسِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرْضُ الْمَحْشَرِ وَالْمَنْشَرِ، ائْتُوهُ فَصَلُّوا فِيهِ، فَإِنَّ الصَّلَاةَ فِيهِ كَأَلْفِ صَلَاةٍ، قَالَتْ: أَرَأَيْتَ مَنْ لَمْ يُطِقْ أَنْ يَتَحَمَّلَ أَنْ يَأْتِيَهُ؟ قَالَ: فَإِنْ لَمْ يُطِقْ ذَلِكَ فَلْيُهْدِ إِلَيْهِ زَيْتًا يُسْرَجُ فِيهِ، فَمَنْ أَهْدَى إِلَيْهِ كَانَ كَمَنْ صَلَّى فِيهِ "ترجمہ
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا (نبی کریم ﷺ کی زوجہ سیدہ میمونہ سے الگ ایک اور خاتون) کہتی ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمیں بیت المقدس کے بارے میں فتویٰ دیجیے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ حشر اور نشر کی سرزمین ہے، وہاں جاؤ اور وہاں نماز پڑھو، کیونکہ وہاں کی نماز ہزار نمازوں کے برابر ہے۔“ انہوں نے عرض کیا: اگر کوئی وہاں جانے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو کیا خیال ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر وہ ایسا نہ کر سکے تو وہاں تیل بھیج دے جو وہاں جلایا جائے، جو کوئی وہاں تیل بھیجے وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے وہاں نماز پڑھی۔“