المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
ميمونة بنت أبي عسيب مولاة رسول الله صلى الله عليه وسلم باب: سیدہ میمونہ بنت ابی عسیب رضی اللہ عنہا، رسول اللہ ﷺ کی آزاد کردہ لونڈی
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَيَّانَ الْمَازِنِيُّ، ثنا الْمُنْتَجِعُ بْنُ مُصْعَبٍ الْمَازِنِيُّ، حَدَّثَتْنِي رَبِيعَةُ بِنْتُ يَزِيدَ، حَدَّثتني مُنَيَّةُ، عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ عَسِيبٍ، مَوْلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ حَرِيشٍ أَتَتِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَعِيرٍ فَنَادَتْ: يَا عَائِشَةُ أَعِينِينِي بِدَعْوَةٍ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُسَكِّنِينِي أَوْ تُطَمِّنِينِي وَأَنَّهُ قَالَ لَهَا: «ضَعِي يَدَكَ الْيُمْنَى عَلَى فُؤَادَكِ، وَقُولِي بِسْمِ اللهِ اللهُمَّ دَاوِنِي بِدَوَائِكَ، وَاشْفِنِي بِشِفَائِكَ، وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَنْ مَنْ سِوَاكَ وَاحْذِرْ عَنِّي أَذَاكَ» ، قَالَتْ رَبِيعَةُ: فَدَعَوْتُ بِهِ فَوَجَدْتُهُ جَيِّدًا، قَالَ الْمُنْتَجِعُ وَأَرَى أَنَّ رَبِيعَةَ قَالَتْ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: إِنَّ الْمَرْأَةَ كَانَتْ غَيْرَىمنیہ رحمہا اللہ سیدہ میمونہ بنت عسیب رضی اللہ عنہا، رسول اللہ ﷺ کی آزاد کردہ باندی، سے روایت کرتی ہیں کہ بنو حریش کی ایک عورت رسول اللہ ﷺ کے پاس اونٹ پر سوار ہو کر آئی اور پکاری: اے عائشہ! رسول اللہ ﷺ سے کوئی دعا لے کر میری مدد کیجیے جو مجھے سکون دے یا اطمینان بخشے۔ آپ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”اپنا دایاں ہاتھ اپنے دل پر رکھو اور کہو: بسم اللہ، اے اللہ! اپنی دوا سے میرا علاج کر، اور اپنی شفا سے مجھے شفا یاب کر، اور اپنے فضل سے مجھے اپنے سوا سب سے بے نیاز کر دے، اور اپنی (طرف سے آنے والی) تکلیف مجھ سے دور رکھ۔“ ربیعہ کہتی ہیں: میں نے یہ دعا مانگی تو اسے اچھا پایا۔ منتجع کہتے ہیں: میرا خیال ہے ربیعہ نے اس حدیث میں کہا کہ وہ عورت غیرت مند (رشک کرنے والی) تھی۔