کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: سیدہ خولہ بنت قیس بن قہید بن قیس بن ثعلبہ انصاری رضی اللہ عنہا، سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی زوجہ، جن کی کنیت ام محمد تھی
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَا: ثنا أَبُو مَعْشَرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ سَنُوطَا، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى خَوْلَةَ بِنْتِ قَيْسٍ وَهِيَ امْرَأَةُ النُّعْمَانِ بْنِ الْعَجْلَانِ يَوْمَئِذٍ وَهِيَ الَّتِي كَانَتْ عِنْدَ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقُلْنَا لَهَا: حَدِّثِينَا يَا أُمَّ مُحَمَّدٍ فَقَالَ لَهَا زَوْجُهَا: انْظُرِي يَا أُمَّ مُحَمَّدٍ مَا تُحَدِّثِينَ فَإِنَّ الْحَدِيثَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بِغَيْرِ ثَبَتٍ شَدِيدٌ فَقَالَتْ: بِئْسَ مَا لِي أَنْ أُحَدِّثَهُمْ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَنْفَعُهُمْ، وأَكْذِبُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الدُّنْيَا خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ فَمَنْ يَأْخُذُ مَالًا بِحُلَّةٍ يُبَارَكُ لَهُ فِيهِ، وَرُبَّ مُتَخَوِّضٍ فِي مَالِ اللهِ، وَمَالِ رَسُولِهِ فِيمَا شَاءَتْ نَفْسُهُ، وَلَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ النَّارُ»
ترجمہ
سیدہ خولہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: یہ میرے لیے بری بات ہو گی کہ میں انہیں رسول اللہ ﷺ کے بارے میں وہ بات بیان کروں جو ان کے لیے نفع بخش ہو اور رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ باندھوں، میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”دنیا شاداب اور میٹھی ہے، تو جو کوئی حلال طریقے سے مال حاصل کرے اس میں اس کے لیے برکت ڈالی جاتی ہے، اور کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کے مال میں اپنی خواہش کے مطابق ہاتھ ڈالتے ہیں، ان کے لیے قیامت کے دن آگ ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20947
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 227، حدیث 577
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ الْوَلِيدِ، قَالَ: سَمِعْتُ خَوْلَةَ بِنْتَ قَيْسِ بْنِ قَهْدٍ، وَكَانَتْ تَحْتَ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ تَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ فَمَنْ أَصَابَهُ بِحَقِّهِ بُورِكَ لَهُ فِيهِ، وَرُبَّ مُتَخَوِّضٍ فِيمَا شَاءَتْ نَفْسُهُ مِنْ مَالِ اللهِ وَرَسُولِهِ لَهُ النَّارُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»
ترجمہ
عبید بن ولید کہتے ہیں: میں نے خولہ بنت قیس بن قہد رضی اللہ عنہا کو، جو حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھیں، یہ کہتے سنا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”یہ مال شاداب اور میٹھا ہے، تو جو اسے اس کے حق کے ساتھ حاصل کرے، اس میں اس کے لیے برکت ڈالی جاتی ہے، اور کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کے مال میں اپنی خواہش کے مطابق ہاتھ ڈالتے ہیں، ان کے لیے قیامت کے دن آگ ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20948
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 228، حدیث 578
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ سَنُوطَا، قَالَ: كَانَتْ أُمُّ مُحَمَّدٍ امْرَأَةُ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ تُحَدِّثُ قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حَمْزَةَ فَذَكَرُوا الْأمَاراتِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الدُّنْيَا خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ فَمَنْ أَخَذَهَا بِحَقِّهَا بَارَكَ اللهُ لَهُ فِيهَا، وَرُبَّ مُتَخَوِّضٍ فِي مَالِ اللهِ وَرَسُولِهِ فِيمَا اشْتَهَتْ نَفْسُهُ لَهُ النَّارُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»
ترجمہ
ام محمد، حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی اہلیہ (خولہ رضی اللہ عنہا)، بیان کرتی تھیں: رسول اللہ ﷺ حمزہ کے پاس تشریف لائے تو انہوں نے امارت و قیادت کے امور کا ذکر کیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دنیا شاداب اور میٹھی ہے، تو جو اسے اس کے حق کے ساتھ حاصل کرے، اللہ اس میں اس کے لیے برکت ڈالتا ہے، اور کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کے مال میں اپنی خواہش کے مطابق ہاتھ ڈالتے ہیں، ان کے لیے قیامت کے دن آگ ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20949
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 228، حدیث 579
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ، عَنْ عُبَيْدِ سَنُوطَا، عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَذَاكَرَ هُوَ وَحَمْزَةُ الدُّنْيَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الدُّنْيَا حُلْوَةٌ خَضِرَةٌ فَمَنْ أَخَذَ عَفْوَها بُورِكَ لَهُ وَرُبَّ مُتَخَوِّضٍ فِي مَالِ اللهِ، وَمَالِ رَسُولِهِ لَهُ النَّارُ يَوْمَ يَلْقَاهُ»
ترجمہ
سیدہ خولہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور حمزہ رضی اللہ عنہ نے دنیا کے بارے میں گفتگو کی، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”دنیا میٹھی اور شاداب ہے، تو جو اس کا حلال حصہ لے، اس میں اس کے لیے برکت ڈالی جاتی ہے، اور کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کے مال میں ہاتھ ڈالتے ہیں، ان کے لیے اس دن آگ ہے جس دن وہ اللہ سے ملاقات کرے گا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20950
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 229، حدیث 580
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ، عَنْ عُبَيْدٍ، عَنْ خَوْلَةَ، امْرَأَةِ حَمْزَةَ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَمْزَةَ وَهُمَا يَذْكُرَانِ الدُّنْيَا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الدُّنْيَا خَضِرَةٌ مَنْ أَخَذَهَا بِحَقِّهَا بُورِكَ لَهُ فِيهَا، وَرُبَّ مُتَخَوِّضٍ فِي مَالِ اللهِ، وَمَالِ رَسُولِهِ لَهُ النَّارُ يَوْمَ يَلْقَى رَبَّهُ»
ترجمہ
سیدہ خولہ رضی اللہ عنہا، جو حمزہ رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھیں، کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ اور حمزہ رضی اللہ عنہ کو دنیا کا ذکر کرتے سنا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دنیا شاداب ہے، جو اسے اس کے حق کے ساتھ حاصل کرے، اس میں اس کے لیے برکت ڈالی جاتی ہے، اور کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کے مال میں ہاتھ ڈالتے ہیں، ان کے لیے اس دن آگ ہے جس دن وہ اپنے رب سے ملاقات کرے گا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20951
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 229، حدیث 581
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ الْمَكِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، قَالُوا: ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ، عَنْ عُبَيْدِ سَنُوطَا، عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ قَيْسِ بْنِ قَهْدٍ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُذَاكِرُ حَمْزَةَ الدُّنْيَا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الدُّنْيَا حُلْوَةٌ خَضِرَةٌ فَمَنْ أَخَذَ عَفْوَها بُورِكَ لَهُ فِيهَا، وَرُبَّ مُتَخَوِّضٍ فِي مَالِ اللهِ، وَمَالِ رَسُولِهِ لَهُ النَّارُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»
ترجمہ
سیدہ خولہ بنت قیس بن قہد رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو حمزہ رضی اللہ عنہ سے دنیا کے بارے میں گفتگو کرتے سنا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دنیا میٹھی اور شاداب ہے، تو جو اس کا حلال حصہ لے، اس میں اس کے لیے برکت ڈالی جاتی ہے، اور کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کے مال میں ہاتھ ڈالتے ہیں، ان کے لیے قیامت کے دن آگ ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20952
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 229، حدیث 582
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ، عَنْ عُبَيْدِ سَنُوطَا، عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الدُّنْيَا خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ فَمَنْ أَخَذَهَا بِحَقِّهَا بَارِكَ اللهُ لَهُ فِيهَا وَرُبَّ مُتَخَوِّضٍ فِي مَالِ اللهِ وَرَسُولِهِ لَهُ النَّارُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»
ترجمہ
سیدہ خولہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”دنیا شاداب اور میٹھی ہے، تو جو اسے اس کے حق کے ساتھ حاصل کرے، اللہ اس میں اس کے لیے برکت ڈالے، اور کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کے مال میں ہاتھ ڈالتے ہیں، ان کے لیے قیامت کے دن آگ ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20953
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 230، حدیث 583
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ، عَنْ عُبَيْدِ سَنُوطَا، عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ هَذَا الْمَالَ حُلْوَةٌ خَضِرَةٌ فَمَنْ أَخَذَهُ بِحَقِّهِ بُورِكَ لَهُ فِيهِ وَرُبَّ مُتَخَوِّضٍ فِي مَالِ اللهِ وَرَسُولِهِ لَهُ النَّارُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»
ترجمہ
سیدہ خولہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ مال میٹھا اور شاداب ہے، تو جو اسے اس کے حق کے ساتھ حاصل کرے، اس میں اس کے لیے برکت ڈالی جاتی ہے، اور کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کے مال میں ہاتھ ڈالتے ہیں، ان کے لیے قیامت کے دن آگ ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20954
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 230، حدیث 584
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ، عَنْ عُبَيْدِ سَنُوطَا، عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى حَمْزَةَ وَكَانَتْ خَوْلَةُ امْرَأَةُ حَمْزَةَ فَتَذَاكَرُوا الدُّنْيَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الدُّنْيَا حُلْوَةٌ خَضِرَةٌ فَمَنْ أَخَذَهَا بِحَقِّهَا بَارِكَ اللهُ فِيهَا وَرَبَّ مُتَخَوِّضٍ فِي مَالِ اللهِ وَرَسُولِهِ لَهُ النَّارُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»
ترجمہ
سیدہ خولہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ حمزہ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے - اور خولہ حمزہ کی اہلیہ تھیں - تو انہوں نے دنیا کا ذکر کیا، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”دنیا میٹھی اور شاداب ہے، تو جو اسے اس کے حق کے ساتھ حاصل کرے، اللہ اس میں برکت ڈالے، اور کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کے مال میں ہاتھ ڈالتے ہیں، ان کے لیے قیامت کے دن آگ ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20955
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 230، حدیث 585
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ السَّرِيِّ بْنِ مِهْرَانَ النَّاقِدُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عِيسَى الْعَطَّارُ، ثنا خَلْفُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ أَبَانَ الْمُكَاتَبِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ، عَنْ عُبَيْدِ سَنُوطَا، عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، أَنَّ حَمْزَةَ، وَالنَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَذَاكَرَا الدُّنْيَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الدُّنْيَا خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ فَمَنْ أَخَذَهَا بِحَقِّهَا بُورِكَ لَهُ فِيهَا وَرَبَّ مُتَخَوِّضٍ فِي مَالِ اللهِ وَمَالِ رَسُولِهِ لَهُ النَّارُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» ،
ترجمہ
سیدہ خولہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حمزہ رضی اللہ عنہ اور نبی کریم ﷺ نے دنیا کے بارے میں گفتگو کی، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”دنیا شاداب اور میٹھی ہے، تو جو اسے اس کے حق کے ساتھ حاصل کرے، اس میں اس کے لیے برکت ڈالی جاتی ہے، اور کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کے مال میں ہاتھ ڈالتے ہیں، ان کے لیے قیامت کے دن آگ ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20956
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 230، حدیث 586
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ الْوَكِيعِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ، عَنْ عُبَيْدِ سَنُوطَا، عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، أَنَّ حَمْزَةَ، وَالنَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَذَاكَرَا الدُّنْيَا فَذَكَرَ نَحْوَهُ
ترجمہ
سیدہ خولہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے کہ حمزہ رضی اللہ عنہ اور نبی کریم ﷺ نے دنیا کے بارے میں گفتگو کی۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20957
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 230، حدیث 587
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، قَالَا: ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ النُّعْمَانِ، مِنْ وَلَدِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُعَاذُ بْنُ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، وَكَانَتْ تَحْتَ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَتْ: دَخَلَ عَلِيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلْتُ لَهُ خَرِيزَةً فَقَدَّمْتُهَا إِلَيْهِ فَوَضَعَ يَدَهُ فِيهَا فَوَجَدَ حَرَّهَا فَقَبَضَهَا فَقَالَ: «يَا خَوْلَةُ، لَا نَصْبِرُ عَلَى حَرٍّ، وَلَا بَرْدٍ، يَا خَوْلَةُ، إِنَّ اللهَ أَعْطَانِيَ الْكَوْثَرَ، وَهُوَ نَهَرٌ فِي الْجَنَّةِ، وَمَا خَلْقٌ أَحَبُّ إِلَيَّ مَنْ يَرِدُهُ مِنْ قَوْمِكِ، يَا خَوْلَةُ رَبَّ مُتَخَوِّضٍ فِي مَالِ اللهِ وَمَالِ رَسُولِهِ فِيمَا اشْتَهَتْ نَفْسُهُ لَهُ النَّارُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»
ترجمہ
سیدہ خولہ رضی اللہ عنہا، جو حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھیں، کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے تو میں نے آپ ﷺ کے لیے ایک دلیہ تیار کیا اور اسے آپ ﷺ کے سامنے پیش کیا، آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ اس میں ڈالا تو اس کی گرمی محسوس کی اور ہاتھ کھینچ لیا، پھر فرمایا: ”اے خولہ! ہم نہ گرمی پر صبر کر سکتے ہیں اور نہ سردی پر۔ اے خولہ! اللہ نے مجھے کوثر عطا فرمایا ہے، جو جنت کی ایک نہر ہے، اور تیری قوم میں سے جو بھی اس پر آئے گا، مجھے اس سے زیادہ محبوب کوئی مخلوق نہیں۔ اے خولہ! کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کے مال میں اپنی خواہش کے مطابق ہاتھ ڈالتے ہیں، ان کے لیے قیامت کے دن آگ ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20958
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 231، حدیث 588
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ قَيْسِ بْنِ قُهْدٍ، وَكَانَتِ امْرَأَةَ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَقُتِلَ عَنْهَا فَجَاءَتْ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَزُورُهُ قَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللهِ قَدْ كُنْتُ أُحِبُّ أَنْ أَلْقَاكَ فَأَسْأَلُكَ عَنْ شَيْءٍ ذُكِرَ لِي إِنَّكَ تَذْكُرُ أَنَّ لَكَ حَوْضًا مَا بَيْنَ كَذَا إِلَى كَذَا، فَقَالَ لَهَا: «أَجَلْ وَأَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ أَوْ أَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ أَنْ يَرِدُهُ قَوْمَكِ» فَقَالَتْ: فَقَرَّبْتُ لَهُ عَصِيدَةً فِي تَوْرٍ فَلَمَّا وَضَعَ يَدَهُ فِيهَا احْتَرَقَتْ، فَقَالَ: «حَسِّ» ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ ابْنَ آدَمَ إِنْ أَصَابَهُ حَرٌّ، قَالَ حَسِّ وَإِنْ أَصَابَهُ بَرْدٌ قَالَ: حَسِّ "
ترجمہ
سیدہ خولہ رضی اللہ عنہا آپ ﷺ کی زیارت کے لیے آئیں اور کہا: اے اللہ کے نبی! مجھے آپ سے ملنے کی خواہش تھی تاکہ میں آپ سے ایک ایسی بات پوچھوں جو مجھے بتائی گئی ہے، کہ آپ فرماتے ہیں کہ آپ کا ایک حوض ہے جو اتنے اور اتنے فاصلے کے درمیان ہے، تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”ہاں، اور مجھے سب سے زیادہ محبوب یہ بات ہے کہ اس پر تیری قوم آئے۔“ وہ کہتی ہیں: تو میں نے آپ ﷺ کے لیے ایک برتن میں عصیدہ (آٹے اور گھی کی ایک ڈش) پیش کیا، جب آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ اس میں ڈالا تو وہ جل گیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہائے!“ پھر فرمایا: ”ابن آدم کو جب گرمی پہنچتی ہے تو وہ کہتا ہے: ہائے! اور جب سردی پہنچتی ہے تو وہ کہتا ہے: ہائے!“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20959
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 231، حدیث 589
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمٍ، قَالَتْ: قُلْتُ بَلَغَنِي أَنَّ لَكَ حَوْضًا، قَالَ: «نَعَمْ وَأَحَبُّ مَنْ وَرَدَ عَلِيَّ قَوْمُكِ» هَكَذَا رَوَاهُ أَبُو خَالِدٍ، عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمٍ، وَالصَّوَابُ حَدِيثُ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ
ترجمہ
سیدہ خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے عرض کیا: مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ کا ایک حوض ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، اور مجھے سب سے زیادہ محبوب یہ ہے کہ اس پر تیری قوم آئے۔“
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اسی طرح ابوخالد نے اسے خولہ بنت حکیم سے روایت کیا ہے، جبکہ صحیح روایت حماد بن زید کی روایت کردہ ہے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20960
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 233، حدیث 590
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ السَّمَيْدَعِ الْأَنْطَاكِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ أَيُّوبَ النَّصِيبِيُّ، ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنِ ابْنِ أَبِي الْجَوْنِ، عَنْ أَبِي سَعْدٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ خَوْلَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا قَدَّسَ اللهُ أُمَّةً لَا يَأْخُذُ ضَعِيفُه‍َا الْحَقَّ مِنْ قَوِيِّها غَيْرَ مُتَعْتَعٍ، ثُمَّ قَالَ: «مَنِ انْصَرَفَ غَرِيمُهُ مِنْ حَقِّهِ هَذِهِ وَهُوَ رَاضٍ عَنْهُ صَلَّتَ عَلَيْهِ دَوَابَّ الْأَرْضِ، وَنُونَ الْمَاءِ، وَمَنِ انْصَرَفَ غَرِيمُهُ، وَهُوَ سَاخِطٌ كُتِبَ عَلَيْهِ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ وَجَمْعُةٍ وَشَهْرٍ ظَلَمَ»
ترجمہ
سیدہ خولہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ اس امت کو پاک نہیں کرتا جس میں کمزور اپنا حق طاقتور سے بلا رکاوٹ نہ لے سکے۔“ پھر فرمایا: ”جس شخص کا قرض دار اس سے اپنا حق لے کر اس حال میں لوٹے کہ وہ اس سے راضی ہو، تو زمین کے جانور اور پانی کی مچھلیاں اس کے لیے دعائے رحمت کرتی ہیں، اور جس کا قرض دار ناراض ہو کر لوٹے، تو اس پر ہر دن، رات، ہفتے اور مہینے کے حساب سے ظلم لکھا جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20961
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 233، حدیث 591
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْوَلِيدِ الْكِنْدِيُّ، ثنا حِبَّانُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ سَعْدِ بْنِ طَرِيفٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ خَوْلَةَ، امْرَأَةِ حَمْزَةَ قَالَتْ: كَانَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسْقٌ مِنْ تَمْرٍ لِرَجُلٍ مِنْ بَنِي سَاعِدَةَ فَأَتَاهُ يَقْضِيَهُ فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَنْ يَقْضِيَهُ فَقَضَاهُ تَمْرًا دُونَ تَمْرِهِ فَأَبَى، أَنْ يَقْبَلَهُ فَقَالَ: أَتَرُدُّ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، فَقَالَ: نَعَمْ، وَمَنْ أَحَقُّ بِالْعَدْلِ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاكْتَحَلَتْ عَيْنُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِدُمُوعِهِ، ثُمَّ قَالَ: «صَدَقَ مَنْ أَحَقُّ بِالْعَدْلِ مِنِّي لَا قَدَّسَ اللهُ أُمَّةً لَا يَأْخُذُ ضَعِيفُها حَقَّهُ مِنْ شَدِيدِهَا وَهُوَ لَا يُتَعْتِعُهُ» ثُمَّ قَالَ: «يَا خَوْلَةُ عِدِيهِ وَاذْهِبِيهِ وَاقْضِيهِ فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْ غَرِيمٍ يَخْرُجُ مِنْ عِنْدِ غَرِيمِهِ رَاضِيًا إِلَّا صَلَّتَ عَلَيْهِ دَوَابَّ الْبَرِّ، وَنُونَ الْبِحَارِ، وَلَيْسَ مِنْ غَرِيمٍ يَلْوِي غَرِيمَهُ، وَهُوَ يَجِدُ إِلَّا كَتَبَ اللهُ عَلَيْهِ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ إِثْمًا»
ترجمہ
کسی نے کہا: جی ہاں، اور رسول اللہ ﷺ سے بڑھ کر انصاف کا حق دار کون ہو سکتا ہے، تو رسول اللہ ﷺ کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر آئیں، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا، مجھ سے بڑھ کر انصاف کا حق دار کون ہے؟ اللہ اس امت کو پاک نہیں کرتا جس میں کمزور اپنا حق طاقتور سے بلا رکاوٹ نہ لے سکے۔“ پھر فرمایا: ”اے خولہ! اس سے وعدہ کرو، اسے پورا کرو اور قرض ادا کرو، کیونکہ جو بھی قرض دار اپنے مقروض کے پاس سے راضی ہو کر نکلتا ہے، خشکی کے جانور اور سمندر کی مچھلیاں اس کے لیے دعائے رحمت کرتی ہیں، اور جو بھی قرض دار اپنے مقروض کو ٹالتا ہے جبکہ وہ ادائیگی کی طاقت رکھتا ہے، تو اللہ ہر دن اور رات اس پر ایک گناہ لکھتا ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20962
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 233، حدیث 592
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَشَجِّ، أَنَّ الضَّحَّاكَ بْنَ عَبْدِ اللهِ الْقُرَشِيَّ، حَدَّثَهُ: أَنَّ مَحْمُودَ بْنَ لَبِيدٍ، حَدَّثَهُ، عَنِ ابْنِهِ قَهْدٍ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِتَكْفِيرِ الْخَطَايَا؟، إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عِنْدَ الْمَكَارِهِ، وَالْخُطَا إِلَى الصَّلَوَاتِ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ»
ترجمہ
سیدہ خولہ بنت قیس بن قہد رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں ایسی باتیں نہ بتاؤں جو گناہوں کا کفارہ بنتی ہیں؟ ناگواری کے باوجود مکمل وضو کرنا، نمازوں کی طرف زیادہ قدم اٹھانا، اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20963
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 234، حدیث 593
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا أَبُو الْأَسْوَدِ النَّضْرُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْقُرَشِيِّ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، أَنَّ خَوْلَةَ بِنْتَ قَيْسِ بْنِ قَهْدٍ، حَدَّثَتْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِكَفَّارَاتِ الْخَطَايَا؟، قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عِنْدَ الْمَكَارِهِ، وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ»
ترجمہ
سیدہ خولہ بنت قیس بن قہد رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں گناہوں کے کفاروں کی خبر نہ دوں؟“ لوگوں نے کہا: کیوں نہیں، یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے فرمایا: ”ناگواری کے باوجود مکمل وضو کرنا، مسجدوں کی طرف کثرت سے قدم اٹھانا، اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20964
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 234، حدیث 594