المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
خولة بنت قيس بن قهيد بن قيس بن ثعلبة الأنصاري " امرأة حمزة بن عبد المطلب تكنى أم محمد " باب: سیدہ خولہ بنت قیس بن قہید بن قیس بن ثعلبہ انصاری رضی اللہ عنہا، سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی زوجہ، جن کی کنیت ام محمد تھی
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ قَيْسِ بْنِ قُهْدٍ، وَكَانَتِ امْرَأَةَ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَقُتِلَ عَنْهَا فَجَاءَتْ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَزُورُهُ قَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللهِ قَدْ كُنْتُ أُحِبُّ أَنْ أَلْقَاكَ فَأَسْأَلُكَ عَنْ شَيْءٍ ذُكِرَ لِي إِنَّكَ تَذْكُرُ أَنَّ لَكَ حَوْضًا مَا بَيْنَ كَذَا إِلَى كَذَا، فَقَالَ لَهَا: «أَجَلْ وَأَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ أَوْ أَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ أَنْ يَرِدُهُ قَوْمَكِ» فَقَالَتْ: فَقَرَّبْتُ لَهُ عَصِيدَةً فِي تَوْرٍ فَلَمَّا وَضَعَ يَدَهُ فِيهَا احْتَرَقَتْ، فَقَالَ: «حَسِّ» ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ ابْنَ آدَمَ إِنْ أَصَابَهُ حَرٌّ، قَالَ حَسِّ وَإِنْ أَصَابَهُ بَرْدٌ قَالَ: حَسِّ "سیدہ خولہ رضی اللہ عنہا آپ ﷺ کی زیارت کے لیے آئیں اور کہا: اے اللہ کے نبی! مجھے آپ سے ملنے کی خواہش تھی تاکہ میں آپ سے ایک ایسی بات پوچھوں جو مجھے بتائی گئی ہے، کہ آپ فرماتے ہیں کہ آپ کا ایک حوض ہے جو اتنے اور اتنے فاصلے کے درمیان ہے، تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”ہاں، اور مجھے سب سے زیادہ محبوب یہ بات ہے کہ اس پر تیری قوم آئے۔“ وہ کہتی ہیں: تو میں نے آپ ﷺ کے لیے ایک برتن میں عصیدہ (آٹے اور گھی کی ایک ڈش) پیش کیا، جب آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ اس میں ڈالا تو وہ جل گیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہائے!“ پھر فرمایا: ”ابن آدم کو جب گرمی پہنچتی ہے تو وہ کہتا ہے: ہائے! اور جب سردی پہنچتی ہے تو وہ کہتا ہے: ہائے!“