حدیث نمبر: 20958
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، قَالَا: ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ النُّعْمَانِ، مِنْ وَلَدِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُعَاذُ بْنُ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، وَكَانَتْ تَحْتَ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَتْ: دَخَلَ عَلِيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلْتُ لَهُ خَرِيزَةً فَقَدَّمْتُهَا إِلَيْهِ فَوَضَعَ يَدَهُ فِيهَا فَوَجَدَ حَرَّهَا فَقَبَضَهَا فَقَالَ: «يَا خَوْلَةُ، لَا نَصْبِرُ عَلَى حَرٍّ، وَلَا بَرْدٍ، يَا خَوْلَةُ، إِنَّ اللهَ أَعْطَانِيَ الْكَوْثَرَ، وَهُوَ نَهَرٌ فِي الْجَنَّةِ، وَمَا خَلْقٌ أَحَبُّ إِلَيَّ مَنْ يَرِدُهُ مِنْ قَوْمِكِ، يَا خَوْلَةُ رَبَّ مُتَخَوِّضٍ فِي مَالِ اللهِ وَمَالِ رَسُولِهِ فِيمَا اشْتَهَتْ نَفْسُهُ لَهُ النَّارُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»
ترجمہ

سیدہ خولہ رضی اللہ عنہا، جو حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھیں، کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے تو میں نے آپ ﷺ کے لیے ایک دلیہ تیار کیا اور اسے آپ ﷺ کے سامنے پیش کیا، آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ اس میں ڈالا تو اس کی گرمی محسوس کی اور ہاتھ کھینچ لیا، پھر فرمایا: ”اے خولہ! ہم نہ گرمی پر صبر کر سکتے ہیں اور نہ سردی پر۔ اے خولہ! اللہ نے مجھے کوثر عطا فرمایا ہے، جو جنت کی ایک نہر ہے، اور تیری قوم میں سے جو بھی اس پر آئے گا، مجھے اس سے زیادہ محبوب کوئی مخلوق نہیں۔ اے خولہ! کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کے مال میں اپنی خواہش کے مطابق ہاتھ ڈالتے ہیں، ان کے لیے قیامت کے دن آگ ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20958
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 231، حدیث 588