المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
خولة بنت قيس بن قهيد بن قيس بن ثعلبة الأنصاري " امرأة حمزة بن عبد المطلب تكنى أم محمد " باب: سیدہ خولہ بنت قیس بن قہید بن قیس بن ثعلبہ انصاری رضی اللہ عنہا، سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی زوجہ، جن کی کنیت ام محمد تھی
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَا: ثنا أَبُو مَعْشَرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ سَنُوطَا، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى خَوْلَةَ بِنْتِ قَيْسٍ وَهِيَ امْرَأَةُ النُّعْمَانِ بْنِ الْعَجْلَانِ يَوْمَئِذٍ وَهِيَ الَّتِي كَانَتْ عِنْدَ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقُلْنَا لَهَا: حَدِّثِينَا يَا أُمَّ مُحَمَّدٍ فَقَالَ لَهَا زَوْجُهَا: انْظُرِي يَا أُمَّ مُحَمَّدٍ مَا تُحَدِّثِينَ فَإِنَّ الْحَدِيثَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بِغَيْرِ ثَبَتٍ شَدِيدٌ فَقَالَتْ: بِئْسَ مَا لِي أَنْ أُحَدِّثَهُمْ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَنْفَعُهُمْ، وأَكْذِبُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الدُّنْيَا خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ فَمَنْ يَأْخُذُ مَالًا بِحُلَّةٍ يُبَارَكُ لَهُ فِيهِ، وَرُبَّ مُتَخَوِّضٍ فِي مَالِ اللهِ، وَمَالِ رَسُولِهِ فِيمَا شَاءَتْ نَفْسُهُ، وَلَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ النَّارُ»عبید سنوطا کہتے ہیں: ہم سیدہ خولہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، وہ اس وقت نعمان بن عجلان کی اہلیہ تھیں اور یہی وہ خاتون ہیں جو (پہلے) سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں، ہم نے ان سے کہا: اے ام محمد! ہمیں کوئی حدیث سنائیے، تو ان کے شوہر نے ان سے کہا: اے ام محمد! دیکھ لو کیا بیان کر رہی ہو، کیونکہ رسول اللہ ﷺ سے پختگی کے بغیر حدیث بیان کرنا سنگین بات ہے، تو انہوں نے کہا: یہ میرے لیے بری بات ہو گی کہ میں انہیں رسول اللہ ﷺ کے بارے میں وہ بات بیان کروں جو ان کے لیے نفع بخش ہو اور رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ باندھوں، میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”دنیا شاداب اور میٹھی ہے، تو جو کوئی حلال طریقے سے مال حاصل کرے اس میں اس کے لیے برکت ڈالی جاتی ہے، اور کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کے مال میں اپنی خواہش کے مطابق ہاتھ ڈالتے ہیں، ان کے لیے قیامت کے دن آگ ہے۔“