المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
خولة بنت قيس بن قهيد بن قيس بن ثعلبة الأنصاري " امرأة حمزة بن عبد المطلب تكنى أم محمد " باب: سیدہ خولہ بنت قیس بن قہید بن قیس بن ثعلبہ انصاری رضی اللہ عنہا، سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی زوجہ، جن کی کنیت ام محمد تھی
حدیث نمبر: 20950
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ، عَنْ عُبَيْدِ سَنُوطَا، عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَذَاكَرَ هُوَ وَحَمْزَةُ الدُّنْيَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الدُّنْيَا حُلْوَةٌ خَضِرَةٌ فَمَنْ أَخَذَ عَفْوَها بُورِكَ لَهُ وَرُبَّ مُتَخَوِّضٍ فِي مَالِ اللهِ، وَمَالِ رَسُولِهِ لَهُ النَّارُ يَوْمَ يَلْقَاهُ»ترجمہ
سیدہ خولہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور حمزہ رضی اللہ عنہ نے دنیا کے بارے میں گفتگو کی، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”دنیا میٹھی اور شاداب ہے، تو جو اس کا حلال حصہ لے، اس میں اس کے لیے برکت ڈالی جاتی ہے، اور کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کے مال میں ہاتھ ڈالتے ہیں، ان کے لیے اس دن آگ ہے جس دن وہ اللہ سے ملاقات کرے گا۔“