حدیث نمبر: 20949
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ سَنُوطَا، قَالَ: كَانَتْ أُمُّ مُحَمَّدٍ امْرَأَةُ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ تُحَدِّثُ قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حَمْزَةَ فَذَكَرُوا الْأمَاراتِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الدُّنْيَا خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ فَمَنْ أَخَذَهَا بِحَقِّهَا بَارَكَ اللهُ لَهُ فِيهَا، وَرُبَّ مُتَخَوِّضٍ فِي مَالِ اللهِ وَرَسُولِهِ فِيمَا اشْتَهَتْ نَفْسُهُ لَهُ النَّارُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»
ترجمہ

ام محمد، حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی اہلیہ (خولہ رضی اللہ عنہا)، بیان کرتی تھیں: رسول اللہ ﷺ حمزہ کے پاس تشریف لائے تو انہوں نے امارت و قیادت کے امور کا ذکر کیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دنیا شاداب اور میٹھی ہے، تو جو اسے اس کے حق کے ساتھ حاصل کرے، اللہ اس میں اس کے لیے برکت ڈالتا ہے، اور کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کے مال میں اپنی خواہش کے مطابق ہاتھ ڈالتے ہیں، ان کے لیے قیامت کے دن آگ ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20949
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 228، حدیث 579