المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
خولة بنت قيس بن قهيد بن قيس بن ثعلبة الأنصاري " امرأة حمزة بن عبد المطلب تكنى أم محمد " باب: سیدہ خولہ بنت قیس بن قہید بن قیس بن ثعلبہ انصاری رضی اللہ عنہا، سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی زوجہ، جن کی کنیت ام محمد تھی
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْوَلِيدِ الْكِنْدِيُّ، ثنا حِبَّانُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ سَعْدِ بْنِ طَرِيفٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ خَوْلَةَ، امْرَأَةِ حَمْزَةَ قَالَتْ: كَانَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسْقٌ مِنْ تَمْرٍ لِرَجُلٍ مِنْ بَنِي سَاعِدَةَ فَأَتَاهُ يَقْضِيَهُ فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَنْ يَقْضِيَهُ فَقَضَاهُ تَمْرًا دُونَ تَمْرِهِ فَأَبَى، أَنْ يَقْبَلَهُ فَقَالَ: أَتَرُدُّ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، فَقَالَ: نَعَمْ، وَمَنْ أَحَقُّ بِالْعَدْلِ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاكْتَحَلَتْ عَيْنُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِدُمُوعِهِ، ثُمَّ قَالَ: «صَدَقَ مَنْ أَحَقُّ بِالْعَدْلِ مِنِّي لَا قَدَّسَ اللهُ أُمَّةً لَا يَأْخُذُ ضَعِيفُها حَقَّهُ مِنْ شَدِيدِهَا وَهُوَ لَا يُتَعْتِعُهُ» ثُمَّ قَالَ: «يَا خَوْلَةُ عِدِيهِ وَاذْهِبِيهِ وَاقْضِيهِ فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْ غَرِيمٍ يَخْرُجُ مِنْ عِنْدِ غَرِيمِهِ رَاضِيًا إِلَّا صَلَّتَ عَلَيْهِ دَوَابَّ الْبَرِّ، وَنُونَ الْبِحَارِ، وَلَيْسَ مِنْ غَرِيمٍ يَلْوِي غَرِيمَهُ، وَهُوَ يَجِدُ إِلَّا كَتَبَ اللهُ عَلَيْهِ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ إِثْمًا»سیدہ خولہ رضی اللہ عنہا، جو حمزہ رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھیں، کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ کے ذمے بنو ساعدہ کے ایک آدمی کا ایک وسق کھجور (قرض) تھا، وہ آپ ﷺ کے پاس اس کا تقاضا کرنے آیا، تو رسول اللہ ﷺ نے انصار کے ایک آدمی کو حکم دیا کہ وہ اس کا قرض ادا کر دے، اس نے اسے اس کی کھجور سے کم تر کھجور دی تو اس نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ انصاری نے کہا: کیا تم رسول اللہ ﷺ (کی ادائیگی) کو رد کرتے ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں، اور رسول اللہ ﷺ سے بڑھ کر انصاف کا حق دار کون ہو سکتا ہے، تو رسول اللہ ﷺ کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر آئیں، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا، مجھ سے بڑھ کر انصاف کا حق دار کون ہے؟ اللہ اس امت کو پاک نہیں کرتا جس میں کمزور اپنا حق طاقتور سے بلا رکاوٹ نہ لے سکے۔“ پھر فرمایا: ”اے خولہ! اس سے وعدہ کرو، اسے (ساتھ) لے جاؤ اور اس کا قرض ادا کرو، کیونکہ جو بھی قرض خواہ اپنے مقروض کے پاس سے راضی ہو کر نکلتا ہے، خشکی کے جانور اور سمندر کی مچھلیاں اس کے لیے دعائے رحمت کرتی ہیں، اور جو بھی مقروض اپنے قرض خواہ کو ٹالتا ہے جبکہ وہ ادائیگی کی طاقت رکھتا ہے، تو اللہ ہر دن اور رات اس پر ایک گناہ لکھتا ہے۔“