حدیث نمبر: 20962
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْوَلِيدِ الْكِنْدِيُّ، ثنا حِبَّانُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ سَعْدِ بْنِ طَرِيفٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ خَوْلَةَ، امْرَأَةِ حَمْزَةَ قَالَتْ: كَانَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسْقٌ مِنْ تَمْرٍ لِرَجُلٍ مِنْ بَنِي سَاعِدَةَ فَأَتَاهُ يَقْضِيَهُ فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَنْ يَقْضِيَهُ فَقَضَاهُ تَمْرًا دُونَ تَمْرِهِ فَأَبَى، أَنْ يَقْبَلَهُ فَقَالَ: أَتَرُدُّ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، فَقَالَ: نَعَمْ، وَمَنْ أَحَقُّ بِالْعَدْلِ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاكْتَحَلَتْ عَيْنُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِدُمُوعِهِ، ثُمَّ قَالَ: «صَدَقَ مَنْ أَحَقُّ بِالْعَدْلِ مِنِّي لَا قَدَّسَ اللهُ أُمَّةً لَا يَأْخُذُ ضَعِيفُها حَقَّهُ مِنْ شَدِيدِهَا وَهُوَ لَا يُتَعْتِعُهُ» ثُمَّ قَالَ: «يَا خَوْلَةُ عِدِيهِ وَاذْهِبِيهِ وَاقْضِيهِ فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْ غَرِيمٍ يَخْرُجُ مِنْ عِنْدِ غَرِيمِهِ رَاضِيًا إِلَّا صَلَّتَ عَلَيْهِ دَوَابَّ الْبَرِّ، وَنُونَ الْبِحَارِ، وَلَيْسَ مِنْ غَرِيمٍ يَلْوِي غَرِيمَهُ، وَهُوَ يَجِدُ إِلَّا كَتَبَ اللهُ عَلَيْهِ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ إِثْمًا»
ترجمہ

کسی نے کہا: جی ہاں، اور رسول اللہ ﷺ سے بڑھ کر انصاف کا حق دار کون ہو سکتا ہے، تو رسول اللہ ﷺ کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر آئیں، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا، مجھ سے بڑھ کر انصاف کا حق دار کون ہے؟ اللہ اس امت کو پاک نہیں کرتا جس میں کمزور اپنا حق طاقتور سے بلا رکاوٹ نہ لے سکے۔“ پھر فرمایا: ”اے خولہ! اس سے وعدہ کرو، اسے پورا کرو اور قرض ادا کرو، کیونکہ جو بھی قرض دار اپنے مقروض کے پاس سے راضی ہو کر نکلتا ہے، خشکی کے جانور اور سمندر کی مچھلیاں اس کے لیے دعائے رحمت کرتی ہیں، اور جو بھی قرض دار اپنے مقروض کو ٹالتا ہے جبکہ وہ ادائیگی کی طاقت رکھتا ہے، تو اللہ ہر دن اور رات اس پر ایک گناہ لکھتا ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20962
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 233، حدیث 592