المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
خولة بنت قيس بن قهيد بن قيس بن ثعلبة الأنصاري " امرأة حمزة بن عبد المطلب تكنى أم محمد " باب: سیدہ خولہ بنت قیس بن قہید بن قیس بن ثعلبہ انصاری رضی اللہ عنہا، سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی زوجہ، جن کی کنیت ام محمد تھی
حدیث نمبر: 20948
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ الْوَلِيدِ، قَالَ: سَمِعْتُ خَوْلَةَ بِنْتَ قَيْسِ بْنِ قَهْدٍ، وَكَانَتْ تَحْتَ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ تَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ فَمَنْ أَصَابَهُ بِحَقِّهِ بُورِكَ لَهُ فِيهِ، وَرُبَّ مُتَخَوِّضٍ فِيمَا شَاءَتْ نَفْسُهُ مِنْ مَالِ اللهِ وَرَسُولِهِ لَهُ النَّارُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»ترجمہ
عبید بن ولید کہتے ہیں: میں نے خولہ بنت قیس بن قہد رضی اللہ عنہا کو، جو حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھیں، یہ کہتے سنا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”یہ مال شاداب اور میٹھا ہے، تو جو اسے اس کے حق کے ساتھ حاصل کرے، اس میں اس کے لیے برکت ڈالی جاتی ہے، اور کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کے مال میں اپنی خواہش کے مطابق ہاتھ ڈالتے ہیں، ان کے لیے قیامت کے دن آگ ہے۔“