کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: عامر شعبی کی سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا: ثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمِعْرَاضِ؟ فَقَالَ: «إِذَا أَصَابَ بِحَدِّهِ فَكُلْ، وَإِذَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَقَتَلَ، فَإِنَّهُ وَقِيذٌ فَلَا تَأْكُلْ» قُلْتُ: إِنِّي أُرْسِلُ كَلْبِي فَيَأْكُلُ، قَالَ: «إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللهِ فَكُلْ» قُلْتُ: فَإِنْ أَكَلَ؟ قَالَ: «فَلَا تَأْكُلْ، فَإِنَّمَا حَبَسَ عَلَى نَفْسِهِ، وَلَمْ يَحْبِسْ عَلَيْكَ» قُلْتُ: أُرْسِلُ كَلْبِي فَأَجِدُ مَعَهُ كَلْبًا آخَرَ قَالَ: «لَا تَأْكُلْ فَإِنَّمَا سَمَّيْتَ عَلَى كَلْبِكَ، وَلَمْ تُسَمِّ عَلَى الْآخَرِ» وَاللَّفْظُ لِحَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ
ترجمہ
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے معراض (کند تیر) کے بارے میں پوچھا؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر وہ اپنی دھار سے لگے تو کھاؤ، اور اگر وہ اپنی چوڑائی (کند جانب) سے لگ کر مار ڈالے تو یہ وقیذ (بغیر ذبح کے مرا ہوا جانور) ہے، اسے مت کھاؤ۔“ میں نے عرض کیا: میں اپنا کتا چھوڑتا ہوں تو وہ (شکار میں سے) کھا لیتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم اپنا کتا چھوڑو اور اللہ کا نام لو تو کھاؤ۔“ میں نے عرض کیا: اگر وہ کھا لے تو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر مت کھاؤ، کیونکہ اس نے وہ اپنے لیے روکا ہے، تمہارے لیے نہیں روکا۔“ میں نے عرض کیا: میں اپنا کتا چھوڑتا ہوں تو اس کے ساتھ ایک اور کتا بھی مل جاتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مت کھاؤ، کیونکہ تم نے صرف اپنے کتے پر (اللہ کا) نام لیا تھا، دوسرے پر نہیں لیا تھا۔“
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو، ثَنَا آدَمُ، ثَنَا شُعْبَةُ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي السَّفَرِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أُرْسِلُ كَلْبِي وأُسَمِّي وَأَجِدُ مَعَهُ كَلْبًا آخَرَ لَا أَدْرِي أَيُّهُمَا أَخَذَهُ، فَقَالَ: «لَا تَأْكُلْ فَإِنَّمَا سَمَّيْتَ عَلَى كَلْبِكَ، وَلَمْ تُسَمِّ عَلَى غَيْرِهِ»
ترجمہ
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں اپنا کتا چھوڑتا ہوں اور اللہ کا نام لیتا ہوں، پھر اس کے ساتھ ایک اور کتا مل جاتا ہے، مجھے معلوم نہیں ہوتا کہ شکار کس نے پکڑا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مت کھاؤ، کیونکہ تم نے صرف اپنے کتے پر نام لیا تھا، دوسرے پر نام نہیں لیا تھا۔“
حَدَّثَنَا أَبُو يُوسُفَ الْقَاضِي، وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، قَالَا: ثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَنَا شُعْبَةُ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ أَنَّهُ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أُرْسِلُ كَلْبِي فَأَجِدُ مَعَهُ كَلْبًا آخَرَ لَا أَدْرِي أَيُّهُمَا قَتَلَهُ؟ قَالَ: «لَا تَأْكُلْ فَإِنَّمَا سَمَّيْتَ عَلَى كَلْبِكَ وَلَمْ تُسَمِّ عَلَى غَيْرِهِ»
ترجمہ
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا: میں اپنا کتا چھوڑتا ہوں تو اس کے ساتھ ایک اور کتا بھی مل جاتا ہے، مجھے معلوم نہیں ہوتا کہ کس نے اسے مارا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مت کھاؤ، کیونکہ تم نے صرف اپنے کتے پر نام لیا تھا، دوسرے پر نام نہیں لیا تھا۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، ثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَيْدِ الْمِعْرَاضِ؟ فَقَالَ: «مَا أَصَابَ بِحَدِّهِ فَكُلْ وَمَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَهُوَ وَقِيذٌ» قَالَ: وَسَأَلْتُهُ عَنْ صَيْدِ الْكَلْبِ؟ فَقَالَ: «مَا أَمْسَكَ عَلَيْكَ فَكُلْ، فَإِنَّ أَخْذَ الْكَلْبِ ذَكَاتُهُ وَإِنْ وَجَدْتَ مَعَ كَلْبِكَ كَلْبًا غَيْرَهُ فَحَسِبْتَ أَنْ يَكُونَ قَدْ أَخَذَهُ مَعَهُ وَقَدْ قَتَلَهُ فَلَا تَأْكُلْ، فَإِنَّمَا ذَكَرْتَ اسْمَ اللهِ عَلَى كَلْبِكَ وَلَمْ تَذْكُرْ عَلَى غَيْرِهِ»
ترجمہ
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے معراض کے شکار کے بارے میں پوچھا؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو دھار سے لگے اسے کھاؤ، اور جو چوڑائی سے لگے وہ وقیذ ہے۔“ کہتے ہیں: میں نے آپ ﷺ سے کتے کے شکار کے بارے میں بھی پوچھا؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو کچھ وہ تمہارے لیے روک لے اسے کھاؤ، کیونکہ کتے کا پکڑنا ہی اس کا ذبح کرنا ہے۔ اور اگر تمہیں اپنے کتے کے ساتھ کوئی اور کتا بھی ملے اور تمہیں گمان ہو کہ اس نے بھی اس کے ساتھ مل کر اسے پکڑا اور مار ڈالا ہے تو مت کھاؤ، کیونکہ تم نے اللہ کا نام صرف اپنے کتے پر لیا تھا، دوسرے پر نہیں لیا تھا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثَنَا زَائِدَةُ، ثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ثَنَا عَامِرٌ قَالَ: سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ، يَقُولُ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَيْدِ الْمِعْرَاضِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أَصَبْتَ بِحَدِّهِ فَكُلْ، وَمَا أَصَبْتَ بِعَرْضِهِ فَهُوَ وَقِيذٌ» وَسَأَلْتُهُ عَنْ صَيْدِ الْكَلْبِ؟ فَقَالَ: «مَا أمْسَكَ عَلَيْكَ وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ فَكُلْهُ، فَإِنَّ أَخْذَهُ ذَكَاتُهُ وَإِنْ وَجَدْتَ مَعَ كَلْبِكَ كَلْبًا آخَرَ، فَحَسِبْتَ أَنْ يَكُونَ قَدْ أَخَذَهُ مَعَهُ، وَقَدْ قَتَلَهُ فَلَا تَأْكُلْهُ فَإِنَّمَا ذَكَرْتَ اسْمَ اللهِ عَلَى كَلْبِكَ وَلَمْ تَذْكُرْ عَلَى غَيْرِهِ»
ترجمہ
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے معراض کے شکار کے بارے میں پوچھا؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو دھار سے لگے اسے کھاؤ، اور جو چوڑائی سے لگے وہ وقیذ ہے۔“ اور میں نے آپ ﷺ سے کتے کے شکار کے بارے میں بھی پوچھا؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو وہ تمہارے لیے روک لے اور اس میں سے کچھ نہ کھائے اسے کھاؤ، کیونکہ اس کا پکڑنا ہی اس کا ذبح کرنا ہے۔ اور اگر تمہیں اپنے کتے کے ساتھ کوئی اور کتا بھی ملے اور تمہیں گمان ہو کہ اس نے بھی اسے پکڑنے میں شرکت کی اور مار ڈالا ہے تو مت کھاؤ، کیونکہ تم نے اللہ کا نام صرف اپنے کتے پر لیا تھا، دوسرے پر نہیں لیا تھا۔“
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، وَدَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيُّ قَالَا: ثَنَا أَبُو شِهَابٍ الْحَنَّاطُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ لَنَا كِلَابًا نَصِيدُ بِهَا قَالَ: «انْظُرُوا هَذِهِ الْجَوَارِحَ فَعَلِّمُوهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ اللهُ، فَكُلُوا مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ إِنْ قَتَلَ وَلَمْ يَأْكُلْ فَكُلْهُ، وَإِنْ أَكَلَ فَلَا تَأْكُلْهُ» قُلْتُ: أَرَأَيْتَ إِنْ خَالَطَتْ كِلَابِي كِلَابًا أَتَرَى أَنْ آكُلَ مِنْهُ؟ فَنَهَانَا عَنْهُ وَاللَّفْظُ لِحَدِيثِ دَاوُدَ
ترجمہ
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارے پاس ایسے کتے ہیں جن سے ہم شکار کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان شکاری جانوروں کو دیکھو، انہیں اس چیز کی تعلیم دو جو اللہ نے تمہیں سکھائی ہے، پھر جو وہ تمہارے لیے پکڑ رکھیں اسے کھاؤ، اگر مار ڈالے اور نہ کھائے تو کھاؤ، اور اگر خود کھا لے تو مت کھاؤ۔“ میں نے عرض کیا: اگر میرے کتوں کے ساتھ دوسرے کتے مل جائیں تو کیا آپ کی رائے میں میں اس میں سے کھاؤں؟ تو آپ ﷺ نے ہمیں اس سے منع فرما دیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْبَرَاءِ، ثَنَا مُعَافَى بْنُ سُلَيْمَانَ، ثَنَا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ لَنَا كِلَابًا نَصْطَادُ بِهَا، وَذَكَرَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارے پاس ایسے کتے ہیں جن سے ہم شکار کرتے ہیں، پھر (سابقہ حدیث کی طرح) اسی طرح کی روایت بیان کی۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ قَالَا: ثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا قَوْمٌ نَصِيدُ بِهَذِهِ الْكِلَابِ وَالطَّيْرِ فَمَا يَحِلُّ لَنَا مِنْهَا؟ قَالَ: " {الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِينَ تُعَلِّمُونَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ اللهُ} [المائدة: ٤] " إِلَى آخِرِ الْآيَةِ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَإِنْ قَتَلَ؟ قَالَ: وَإِنْ قَتَلَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَإِنْ خَالَطَهَا كِلَابٌ غَيْرُهَا؟ قَالَ: «لَا تَأْكُلْ إِلَّا مَا ذُكِرَ اسْمُ اللهِ عَلَيْهِ» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا نَرْمِي قَالَ: «كُلْ مَا خَزَقْتَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللهِ عَلَيْهِ» ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، الْمِعْرَاضُ؟ قَالَ: «لَا تَأْكُلْ مِنَ الْمِعْرَاضِ إِلَّا مَا ذَكَّيْتَ»
ترجمہ
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے (یہ آیت) ﴿جوارح مکلبین، جنہیں تم وہ سکھاتے ہو جو اللہ نے تمہیں سکھایا ہے﴾ آخر آیت تک پڑھی [سورۃ المائدہ: 4]۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگرچہ وہ مار ڈالے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگرچہ مار ڈالے۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر اس کے ساتھ دوسرے کتے بھی مل جائیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”صرف وہی کھاؤ جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم تیر بھی چلاتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جسے تم نے چھید ڈالا اور اس پر اللہ کا نام لیا اسے کھاؤ۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! معراض کا کیا حکم ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”معراض سے صرف وہی کھاؤ جسے تم نے ذبح کیا ہو۔“
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ، ثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسَ، ثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَيْدِ الْكَلْبِ؟ فَقَالَ: «إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ وَسَمَّيْتَ فَأَخَذَ فَقَتَلَ فَكُلْ، فَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ فَلَا تَأْكُلْ فَإِنَّمَا أمْسَكَ عَلَى نَفْسِهِ»
ترجمہ
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے کتے کے شکار کے بارے میں پوچھا؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم اپنا کتا چھوڑو اور اللہ کا نام لو، پھر وہ پکڑ کر مار ڈالے تو کھاؤ، اور اگر اس میں سے کچھ کھا لے تو مت کھاؤ، کیونکہ اس نے وہ اپنے لیے روکا ہے۔“
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ مُوسَى شيران الرامهرمزي، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، ثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى الْفُضَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ أَبِي جَرِيرٍ، أَنَّ عَامِرًا الشَّعْبِيَّ، قَالَ: انْطَلَقْنَا إِلَى عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ نَسْأَلُهُ عَنِ الصَّيْدِ وَفِينَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ؟ فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّكُمْ أَهْلُ الصَّيْدِ فَحَدِّثْنَا عَنِ الصَّيْدِ فَقَالَ عَدِيٌّ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: إِنَّا أَهْلُ جَبَلَيْنِ وَعَامَّةُ طَعَامِنَا الصَّيْدُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بِمَ تَصِيدُونَهُ؟» فَقُلْتُ: بِالْكِلَابِ والنَّبْلِ، فَقَالَ: «إِذَا أَمْسَكَتْ كِلَابُكَ فَسَمِّهِ فَمَا أَمْسَكْنَ فَكُلْ، فَإِنْ دَخَلَ فِيهَا كَلْبٌ غَيْرُهُ مُعَلَّمٌ، فَلَا تَأْكُلْ حَتَّى تُذَكِّيَهُ، فَإِنْ أَخْرَجْتَهُ مِنْ مَاءٍ فَلَا تَأْكُلْهُ حَتَّى تُذَكِّيَهُ فَإِنَّهُ وَقِيذٌ»
ترجمہ
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: (شکار کے بارے میں لوگوں کے استفسار پر) میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: ہم دو پہاڑوں کے رہنے والے ہیں اور ہماری اکثر غذا شکار ہی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم اسے کس چیز سے شکار کرتے ہو؟“ میں نے عرض کیا: کتوں اور تیروں سے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تمہارے کتے (شکار کو) پکڑ لیں تو اس پر اللہ کا نام لو، پھر جو وہ روک لیں اسے کھاؤ۔ اور اگر اس میں کوئی اور سدھایا ہوا کتا بھی شامل ہو جائے تو اسے ذبح کیے بغیر مت کھاؤ۔ اور اگر تم اسے پانی سے نکالو تو ذبح کیے بغیر مت کھاؤ، کیونکہ وہ وقیذ ہے۔“
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ: أُرْسِلُ كَلْبِي وَآخُذُ مَعَ كَلْبِي كَلْبًا آخَرَ لَا أَدْرِي أَيُّهُمَا أَخَذَ؟ قَالَ: «لَا تَأْكُلْ فَإِنَّمَا قَدْ سَمَّيْتَ عَلَى كَلْبِكَ وَلَمْ تُسَمِّ عَلَى غَيْرِهِ»
ترجمہ
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: میں اپنا کتا چھوڑتا ہوں اور اس کے ساتھ ایک اور کتا بھی مل جاتا ہے، مجھے معلوم نہیں ہوتا کہ کس نے پکڑا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مت کھاؤ، کیونکہ تم نے صرف اپنے کتے پر نام لیا تھا، دوسرے پر نام نہیں لیا تھا۔“
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ، ثَنَا آدَمُ، ثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّيْدِ؟ فَقُلْتُ: أُرْسِلُ كَلْبِي وأُسَمِّي فَأَجِدُ مَعَ كَلْبِي كَلْبًا آخَرَ وَلَا أَدْرِي أَيُّهُمَا أَخَذَهُ؟ قَالَ: «لَا تَأْكُلْ فَإِنَّمَا سَمَّيْتَ عَلَى كَلْبِكَ وَلَمْ تُسَمِّ عَلَى غَيْرِهِ»
ترجمہ
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے شکار کے بارے میں پوچھا؟ میں نے عرض کیا: میں اپنا کتا چھوڑتا ہوں اور نام لیتا ہوں، پھر اس کے ساتھ ایک اور کتا بھی مل جاتا ہے، مجھے معلوم نہیں ہوتا کہ کس نے پکڑا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مت کھاؤ، کیونکہ تم نے صرف اپنے کتے پر نام لیا تھا، دوسرے پر نام نہیں لیا تھا۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ بَيَانٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ: إِنَّا قَوْمٌ نَصِيدُ بِهَذِهِ الْكِلَابِ؟ قَالَ: «إِذَا أَرْسَلْتَ كِلَابَكَ المُكَلَّبَةَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللهِ عَلَيْهَا فَكُلْ مَا أَمْسَكْنَ عَلَيْكَ، وَإِنْ قَتَلْنَ إِلَّا أَنْ يَأْكُلَ الْكَلْبُ فَإِنْ أَكَلَ فَلَا تَأْكُلْ، فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَكُونَ إِنَّمَا أمْسَكَ عَلَى نَفْسِهِ، فَإِنْ خَالَطَهَا كِلَابٌ مِنْ غَيْرِهَا فَلَا تَأْكُلْ»
ترجمہ
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: ہم ایسی قوم ہیں جو انہی کتوں سے شکار کرتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم اپنے سدھائے ہوئے کتے چھوڑو اور ان پر اللہ کا نام لو تو جو وہ تمہارے لیے پکڑ رکھیں کھاؤ، خواہ مار ہی کیوں نہ ڈالیں، سوائے اس کے کہ کتا خود کھا لے۔ اگر وہ کھا لے تو مت کھاؤ، کیونکہ مجھے خدشہ ہے کہ اس نے وہ اپنے لیے روکا ہو۔ اور اگر ان کے ساتھ دوسرے کتے مل جائیں تو مت کھاؤ۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، وَحِبَّانُ بْنُ مُوسَى قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّيْدِ؟ فَقَالَ: «إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ فَسَمِّ اللهَ، فَإِنْ أَدْرَكْتَهُ قَدْ قَتَلَ وَلَمْ يَأْكُلْ فَكُلْ، فَإِنَّهُ إِنَّمَا أمْسَكَ عَلَيْكَ» وَذَكَرَ الْحَدِيثَ نَحْوَ حَدِيثِ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ
ترجمہ
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ سے شکار کے بارے میں پوچھا؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم اپنا کتا چھوڑو تو اللہ کا نام لو، پھر اگر تم اسے مار ڈالے ہوئے پاؤ اور اس نے کچھ نہ کھایا ہو تو کھاؤ، کیونکہ اس نے وہ تمہارے لیے روکا ہے۔“ باقی حدیث اسی مضمون کی سابقہ روایات جیسی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، وَحِبَّانُ بْنُ مُوسَى قَالَا: ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّيْدِ؟ فَقَالَ: " إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ فَسَمِّ اللهَ، فَإِنْ أَدْرَكْتَهُ قَدْ قَتَلَ وَلَمْ يَأْكُلْ فَكُلْ، فَإِنَّهُ إِنَّمَا أمْسَكَ عَلَيْكَ، وَإِنْ أَدْرَكْتَهُ قَدْ قَتَلَ وَأَكَلَ مِنْهُ فَلَا تَأْكُلْ مِنْهُ شَيْئًا، فَإِنَّمَا أَمْسَكَهُ عَلَى نَفْسِهِ، وَإِنْ خَالَطَ كَلْبُكَ كَلْبًا غَيْرَهُ فَقَتَلَ وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ فَلَا تَأْكُلْ مِنْهُ شَيْئًا، فَإِنَّكَ إِنَّمَا سَمَّيْتَ عَلَى كَلْبِكَ وَلَمْ تُسَمِّ عَلَى غَيْرِهِ، وَإِذَا رَمَيْتَ بِسَهْمِكَ فَاذْكُرِ اسْمَ اللهِ، فَإِنْ وَجَدْتَهُ قَدْ وَقَعَ فِي مَاءٍ فَمَاتَ فَلَا تَأْكُلْهُ؛ فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي: الْمَاءُ قَتَلَهُ أَوْ سَهْمُكَ، وَإِنْ وَجَدْتَهُ بَعْدَ لَيْلَةٍٍ أَوْ لَيْلَتَيْنِ وَلَمْ تَرَ فِيهِ أَثَرًا غَيْرَ سَهْمِكَ فَشِئْتَ أَنْ تَأْكُلَ فَكُلْ "
ترجمہ
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ سے شکار کے بارے میں پوچھا؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم اپنا کتا چھوڑو تو اللہ کا نام لو، پھر اگر تم اسے مار ڈالے ہوئے پاؤ اور اس نے کچھ نہ کھایا ہو تو کھاؤ، کیونکہ اس نے وہ تمہارے لیے روکا ہے۔ اور اگر تم اسے مار کر اس میں سے کھایا ہوا پاؤ تو اس میں سے کچھ نہ کھاؤ، کیونکہ اس نے وہ اپنے لیے روکا ہے۔ اور اگر تمہارے کتے کے ساتھ کوئی اور کتا مل جائے، وہ (شکار کو) مار ڈالے اور اس میں سے نہ کھائے تو پھر بھی اس میں سے کچھ نہ کھاؤ، کیونکہ تم نے صرف اپنے کتے پر نام لیا تھا، دوسرے پر نام نہیں لیا تھا۔ اور جب تم تیر چلاؤ تو اللہ کا نام لو، پھر اگر تم اسے پانی میں گر کر مرا ہوا پاؤ تو اسے مت کھاؤ، کیونکہ تمہیں معلوم نہیں کہ اسے پانی نے مارا یا تمہارے تیر نے۔ اور اگر تم اسے ایک یا دو راتوں کے بعد پاؤ اور اس میں اپنے تیر کے نشان کے سوا کوئی اور نشان نہ دیکھو تو چاہو تو اسے کھا لو۔“
حَدَّثَنَا أَبُو حُصَيْنٍ الْقَاضِي، ثَنَا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ فَاذْكُرِ اسْمَ اللهِ، فَإِنْ أمْسَكَ عَلَيْكَ فَأَدْرَكْتَهُ حَيًّا فَاذْبَحْهُ، وَإِنْ أَدْرَكْتَهُ قَدْ قَتَلَ وَلَمْ يَأْكُلْ فَكُلْ، وَإِنْ وَجَدْتَ مَعَهُ كِلَابًا غَيْرَهُ فَلَا تَأْكُلْ فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي أَيُّهَا قَتَلَهُ، وَإِنْ رَمَيْتَ بِسَهْمِكَ فَاذْكُرِ اسْمَ اللهِ عَلَيْهِ، فَإِنْ أمْسَكَ عَلَيْكَ فَكُلْ، وَإِنْ وَجَدْتَهُ قَدْ غَابَ عَنْكَ يَوْمًا فَلَمْ تَجِدْ فِيهِ إِلَّا أَثَرَ سَهْمِكَ فَكُلْ إِنْ شِئْتَ، فَإِنْ وَجَدْتَهُ غَرِيقًا فِي مَاءٍ فَلَا تَأْكُلْ»
ترجمہ
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”جب تم اپنا کتا چھوڑو تو اللہ کا نام لو، پھر اگر وہ تمہارے لیے (شکار) روک لے اور تم اسے زندہ پاؤ تو اسے ذبح کر لو، اور اگر تم اسے مار ڈالے ہوئے اور نہ کھایا ہوا پاؤ تو کھاؤ۔ اور اگر تم اس کے ساتھ دوسرے کتے بھی پاؤ تو مت کھاؤ، کیونکہ تمہیں معلوم نہیں کہ کس نے اسے مارا ہے۔ اور جب تم اپنا تیر چلاؤ تو اس پر اللہ کا نام لو، پھر اگر وہ تمہارے لیے روک لے تو کھاؤ۔ اور اگر تم اسے ایک دن غائب رہنے کے بعد پاؤ اور اس میں اپنے تیر کے نشان کے سوا کچھ نہ پاؤ تو چاہو تو کھاؤ۔ اور اگر تم اسے پانی میں ڈوبا ہوا پاؤ تو مت کھاؤ۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ: قُلْتُ: أَيْ رَسُولَ اللهِ إِنَّ أَرْضِي أَرْضُ صَيْدٍ قَالَ: «إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ الْمُعَلَّمَ وَسَمَّيْتَ فَكُلْ مَا أمْسَكَ عَلَيْكَ الْكَلْبُ، وَإِنْ قَتَلَ فَأَكَلَ مِنْهُ فَلَا تَأْكُلْ فَإِنَّهُ إِنَّمَا أمْسَكَ عَلَى نَفْسِهِ، وَإِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ سَمَّيْتَ فَخَالَطَتْهُ أَكْلُبٌ لَمْ تُسَمِّ عَلَيْهَا فَلَا تَأْكُلْ فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي أَيُّهُمَا قَتَلَهُ» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَرْمِي الصَّيْدَ فَيَغِيبُ عَنِّي اللَّيْلَةَ قَالَ: «فَإِذَا وَجَدْتَ فِيهِ سَهْمَكَ وَلَمْ تَجِدْ فِيهِ غَيْرَهُ فَكُلْهُ»
ترجمہ
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میری زمین شکار کی سرزمین ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم اپنا سدھایا ہوا کتا چھوڑو اور نام لو تو جو کچھ کتا تمہارے لیے روک لے کھاؤ، اور اگر وہ مار کر اس میں سے کھا لے تو مت کھاؤ، کیونکہ اس نے وہ اپنے لیے روکا ہے۔ اور جب تم اپنا کتا چھوڑو، نام لو، پھر اس کے ساتھ دوسرے کتے مل جائیں جن پر تم نے نام نہ لیا ہو تو مت کھاؤ، کیونکہ تمہیں معلوم نہیں کس نے اسے مارا ہے۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں شکار پر تیر مارتا ہوں تو وہ رات بھر میری نظروں سے غائب رہتا ہے (کیا کروں؟) آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم اس میں اپنا تیر پاؤ اور اس کے سوا کوئی نشان نہ پاؤ تو اسے کھا لو۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ قَالَا: ثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، ثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَزِيدَ أَبُو مَعْشَرٍ الْبَرَاءُ، ثَنَا عُمَرُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ: " لَمَّا سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَيْدِ الْكِلَابِ لَمْ يَدْرِ مَا يَقُولُ لِي: حَتَّى نَزَلَتْ {وَمَا عَلَّمْتُمْ مِنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِينَ تُعَلِّمُونَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ اللهُ} [المائدة: ٤] "
ترجمہ
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب میں نے رسول اللہ ﷺ سے کتوں کے شکار کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ کو معلوم نہ تھا کہ مجھے کیا جواب دیں، یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی: ”اور جو شکاری جانور تم نے سدھائے، انہیں وہ سکھاتے ہوئے جو اللہ نے تمہیں سکھایا۔“ [سورۃ المائدہ: 4]
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْأَخْرَمُ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثَنَا أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي السَّفَرِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: سَأَلْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: أُرْسِلُ كَلْبِي فَآخُذُ مَعِي كَلْبًا آخَرَ فَلَا أَدْرِي أَيُّهُمَا أَخَذَهُ؟ قَالَ: «لَا تَأْكُلْ فَإِنَّمَا سَمَّيْتَ عَلَى كَلْبِكَ وَلَمْ تُسَمِّ عَلَى غَيْرِهِ»
ترجمہ
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا، میں نے عرض کیا: میں اپنا کتا چھوڑتا ہوں اور اس کے ساتھ ایک اور کتا بھی لے لیتا ہوں، مجھے معلوم نہیں ہوتا کہ کس نے پکڑا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مت کھاؤ، کیونکہ تم نے صرف اپنے کتے پر نام لیا تھا، دوسرے پر نام نہیں لیا تھا۔“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثَنَا مُسَدَّدٌ، ثَنَا الْمُعْتَمِرُ قَالَ: سَمِعْتُ عِيسَى بْنَ الْمُسَيِّبِ يُحَدِّثُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا بِأَرْضِ صَيْدٍ وَإِنَّا نَخْرَجُ بِنِبَالٍ فَذَكَرَ الْمَعَارِيضَ فَقَالَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا رَمَيْتَ بِالْمِعْرَاضِ وَسَمَّيْتَ فَخَزَقَ فَكُلْهُ فَتِلْكَ ذَكَاتُهُ وَإِنْ أَصَابَ مُعْتَرِضًا فَلَا تَأْكُلْهُ إِلَّا أَنْ تُذَكُّوهُ، وَإِنْ لَمْ تَجِدْ إِلَّا بِمَرْوَةٍ فَإِنَّهَا تُجْزِئُ عَنْكَ»
ترجمہ
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم شکار کی سرزمین میں رہتے ہیں اور تیروں سے نکلتے ہیں، پھر معاریض (کند تیروں) کا ذکر کیا۔ نبی اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم معراض سے مارو اور نام لو، پھر وہ چھید ڈالے تو اسے کھاؤ، یہی اس کا ذبح ہے۔ اور اگر وہ چوڑائی سے لگے تو اسے مت کھاؤ، الا یہ کہ تم اسے ذبح کر لو۔ اور اگر تمہیں (چھری کے علاوہ) صرف تیز پتھر ہی ملے تو وہ بھی کافی ہے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ، ثَنَا آدَمُ، ثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَيْدِ الْمِعْرَاضِ؟ فَقَالَ: «إِذَا أَصَبْتَ بِحَدِّهِ فَكُلْ وَإِذَا أَصَبْتَ بِعَرْضِهِ فَلَا تَأْكُلْ فَإِنَّهُ وَقِيذٌ»
ترجمہ
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے معراض کے شکار کے بارے میں پوچھا؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم دھار سے لگاؤ تو کھاؤ، اور اگر چوڑائی سے لگاؤ تو مت کھاؤ، کیونکہ وہ وقیذ ہے۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَيْدِ الْمِعْرَاضِ؟ فَقَالَ: «لَا تَأْكُلْ مِنْهُ إِلَّا مَا ذَكَّيْتَ»
ترجمہ
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے معراض کے شکار کے بارے میں پوچھا؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس میں سے صرف وہی کھاؤ جسے تم نے ذبح کیا ہو۔“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثَنَا مُسَدَّدٌ، ثَنَا حُصَيْنُ بْنُ نُمَيْرٍ، ثَنَا حُصَيْنٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمِعْرَاضِ؟ فَقَالَ: «إِذَا أَصَابَ بِحَدِّهِ فَخَزَقَ فَكُلْ، وَإِذَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَلَا تَأْكُلْ»
ترجمہ
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے معراض کے بارے میں پوچھا؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر وہ دھار سے لگ کر چھید ڈالے تو کھاؤ، اور اگر چوڑائی سے لگے تو مت کھاؤ۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ، ثَنَا عُبَيْدَةُ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمِعْرَاضِ؟ فَقَالَ: «إِذَا خَزَقَ فَكُلْ وَإِذَا صَابَ بِعَرْضِهِ فَلَا تَأْكُلْ»
ترجمہ
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے معراض کے بارے میں پوچھا؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر وہ چھید ڈالے تو کھاؤ، اور اگر چوڑائی سے لگے تو مت کھاؤ۔“
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ، أَنَا آدَمُ، ثَنَا شُعْبَةُ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي السَّفَرِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَيْدِ الْمِعْرَاضِ؟ فَقَالَ: «إِذَا أَصَبْتَ بِحَدِّهِ فَكُلْ، وَإِذَا أَصَبْتَ بِعَرْضِهِ فَقَتَلَ فَإِنَّهُ وَقِيذٌ فَلَا تَأْكُلْ»
ترجمہ
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے معراض کے شکار کے بارے میں پوچھا؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم دھار سے لگاؤ تو کھاؤ، اور اگر چوڑائی سے لگا کر مار ڈالو تو وہ وقیذ ہے، مت کھاؤ۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الْحُلْوَانِيُّ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ قَالَا: ثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، أَخْبَرَنِي عَاصِمُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا وَقَعَتْ رَمِيَّتُكَ فِي مَاءٍ فَغَرِقَ فَلَا تَأْكُلْهُ»
ترجمہ
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جب تمہارا شکار پانی میں گر کر ڈوب جائے تو اسے مت کھاؤ۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْعَبَّاسِ الطَّيَالِسِيُّ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي أَرْمِي الصَّيْدَ فَأَجِدُ بَعْدَ ثَلَاثٍ؟ فَقَالَ: «كُلْ مَا وَجَدْتَ عَلَيْهِ أَثَرَ سَهْمِكَ مَا لَمْ تَجِدْ فِيهِ سَبُعًا أَو تَجِدْهُ غَرِقًا»
ترجمہ
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں شکار کو تیر مارتا ہوں اور اسے تین دن بعد پاتا ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس پر تم اپنے تیر کا نشان پاؤ اسے کھاؤ، جب تک اس میں کسی درندے کے کھانے کا نشان نہ پاؤ یا اسے ڈوبا ہوا نہ پاؤ۔“
حَدَّثَنَا أَبُو حُصَيْنٍ الْقَاضِي، ثَنَا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، وَابْنُ الْمُبَارَكِ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، ثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَيْدِ الْبَازِي فَقَالَ: «مَا أمْسَكَ عَلَيْكَ فَكُلْ»
ترجمہ
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے باز کے شکار کے بارے میں پوچھا؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو وہ تمہارے لیے روک لے اسے کھاؤ۔“