حدیث نمبر: 14222
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ مُوسَى شيران الرامهرمزي، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، ثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى الْفُضَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ أَبِي جَرِيرٍ، أَنَّ عَامِرًا الشَّعْبِيَّ، قَالَ: انْطَلَقْنَا إِلَى عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ نَسْأَلُهُ عَنِ الصَّيْدِ وَفِينَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ؟ فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّكُمْ أَهْلُ الصَّيْدِ فَحَدِّثْنَا عَنِ الصَّيْدِ فَقَالَ عَدِيٌّ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: إِنَّا أَهْلُ جَبَلَيْنِ وَعَامَّةُ طَعَامِنَا الصَّيْدُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بِمَ تَصِيدُونَهُ؟» فَقُلْتُ: بِالْكِلَابِ والنَّبْلِ، فَقَالَ: «إِذَا أَمْسَكَتْ كِلَابُكَ فَسَمِّهِ فَمَا أَمْسَكْنَ فَكُلْ، فَإِنْ دَخَلَ فِيهَا كَلْبٌ غَيْرُهُ مُعَلَّمٌ، فَلَا تَأْكُلْ حَتَّى تُذَكِّيَهُ، فَإِنْ أَخْرَجْتَهُ مِنْ مَاءٍ فَلَا تَأْكُلْهُ حَتَّى تُذَكِّيَهُ فَإِنَّهُ وَقِيذٌ»
ترجمہ

سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: (شکار کے بارے میں لوگوں کے استفسار پر) میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: ہم دو پہاڑوں کے رہنے والے ہیں اور ہماری اکثر غذا شکار ہی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم اسے کس چیز سے شکار کرتے ہو؟“ میں نے عرض کیا: کتوں اور تیروں سے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تمہارے کتے (شکار کو) پکڑ لیں تو اس پر اللہ کا نام لو، پھر جو وہ روک لیں اسے کھاؤ۔ اور اگر اس میں کوئی اور سدھایا ہوا کتا بھی شامل ہو جائے تو اسے ذبح کیے بغیر مت کھاؤ۔ اور اگر تم اسے پانی سے نکالو تو ذبح کیے بغیر مت کھاؤ، کیونکہ وہ وقیذ ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14222
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 73، حدیث 150