المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عامر الشعبي، عن عدي بن حاتم باب: عامر شعبی کی سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ مُوسَى شيران الرامهرمزي، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، ثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى الْفُضَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ أَبِي جَرِيرٍ، أَنَّ عَامِرًا الشَّعْبِيَّ، قَالَ: انْطَلَقْنَا إِلَى عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ نَسْأَلُهُ عَنِ الصَّيْدِ وَفِينَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ؟ فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّكُمْ أَهْلُ الصَّيْدِ فَحَدِّثْنَا عَنِ الصَّيْدِ فَقَالَ عَدِيٌّ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: إِنَّا أَهْلُ جَبَلَيْنِ وَعَامَّةُ طَعَامِنَا الصَّيْدُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بِمَ تَصِيدُونَهُ؟» فَقُلْتُ: بِالْكِلَابِ والنَّبْلِ، فَقَالَ: «إِذَا أَمْسَكَتْ كِلَابُكَ فَسَمِّهِ فَمَا أَمْسَكْنَ فَكُلْ، فَإِنْ دَخَلَ فِيهَا كَلْبٌ غَيْرُهُ مُعَلَّمٌ، فَلَا تَأْكُلْ حَتَّى تُذَكِّيَهُ، فَإِنْ أَخْرَجْتَهُ مِنْ مَاءٍ فَلَا تَأْكُلْهُ حَتَّى تُذَكِّيَهُ فَإِنَّهُ وَقِيذٌ»امام شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہم سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کے پاس شکار کے بارے میں پوچھنے گئے، ہمارے ساتھ محمد بن سیرین رحمہ اللہ بھی تھے۔ میں نے ان سے کہا: آپ لوگ شکار والے ہیں، ہمیں شکار کے بارے میں بتائیے۔ تو سیدنا عدی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا اور عرض کیا: ہم دو پہاڑوں کے رہنے والے ہیں اور ہماری اکثر غذا شکار ہی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم اسے کس چیز سے شکار کرتے ہو؟“ میں نے عرض کیا: کتوں اور تیروں سے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تمہارے کتے (شکار کو) پکڑ لیں تو اس پر اللہ کا نام لو، پھر جو وہ روک لیں اسے کھاؤ۔ اور اگر اس میں کوئی اور سدھایا ہوا کتا بھی شامل ہو جائے تو اسے ذبح کیے بغیر مت کھاؤ۔ اور اگر تم اسے پانی سے نکالو تو ذبح کیے بغیر مت کھاؤ، کیونکہ وہ وقیذ ہے۔“