حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَيْهَمَ، عَنْ لُقْمَانَ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ: قَالَ: «مَا مِنْ رَجُلٍ يَلِي أَمْرَ عَشْرَةٍ، فَمَا فَوْقَ ذَلِكَ إِلَّا أُتِيَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَدُهُ مَغْلُولَةٌ إِلَى عُنُقِهِ، فَكَّهُ بِرُّهُ، أَوْ أَوْثَقَهُ إِثْمُهُ، أَوَّلُهَا مَلَامَةٌ، وَأَوْسَطُهَا نَدَامَةٌ، وَآخِرُهَا خِزْيٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو آدمی بھی دس یا اس سے زیادہ افراد کا ذمہ دار ہو، وہ قیامت کے دن اس حال میں لایا جائے گا کہ اس کا ہاتھ اس کی گردن سے بندھا ہوگا، اسے اس کی نیکی آزاد کرے گی یا اس کا گناہ مزید جکڑ دے گا؛ اس کی ابتدا ملامت ہے، اس کا درمیان ندامت ہے، اور اس کا انجام قیامت کے دن کی رسوائی ہے۔“
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِرْقٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُصَفَّى، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْعَطَّارُ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ لُقْمَانَ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، رَفَعَهُ قَالَ: «إِذَا أَرَادَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ بِعَبْدٍ خَيْرًا عَسَّلَهُ قَبْلَ مَوْتِهِ» . قِيلَ: مَا عَسَّلَهُ؟ قَالَ: «يَرْزُقُهُ عَمَلًا صَالِحًا قَبْلَ مَوْتِهِ»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جب اللہ عزوجل کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے مرنے سے پہلے شیریں کر دیتا ہے۔“ عرض کیا گیا: اسے شیریں کرنے سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”اسے موت سے پہلے نیک عمل کی توفیق عطا فرماتا ہے۔“
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَوْصِلِيُّ، ثنا فَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ لُقْمَانَ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: «نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ عَنْ قَتْلِ عَوَامِرِ الْبُيُوتِ إِلَّا مَا كَانَ مِنْ ذِي الطُّفَتَيْنِ وَالْأَبْتَرِ، فَإِنَّهُمَا يُسْقِطَانِ الْحَمْلَ، وَيَطْمِسَانِ الْأَبْصَارَ»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے گھروں میں رہنے والے سانپوں (جنہیں عربوں میں عوامر کہا جاتا تھا) کو مارنے سے منع فرمایا، سوائے دو دھاری والے اور دم کٹے سانپ کے، کیونکہ یہ دونوں حمل گرا دیتے ہیں اور بینائی زائل کر دیتے ہیں۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَوْصِلِيُّ، ثنا فَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ لُقْمَانَ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ: «إِنَّ اللهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الصَّفِّ الْأَوَّلِ، سَوُّوا صُفُوفَكُمْ، وَسَوُّوا بَيْنَ مَنَاكِبِكُمْ، وَلِينُوا لِأَيْدِي إِخْوَانِكُمْ، وَسَدِّدُوا الْخَلَلَ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ بَيْنَكُمْ مِثْلَ الْحَذَفِ» وَالْحَذَفُ: وَلَدُ الضَّأْنِ الصِّغَارِ
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بیشک اللہ اور اس کے فرشتے پہلی صف پر رحمت بھیجتے ہیں، اپنی صفیں سیدھی رکھو، اپنے کندھے برابر رکھو، اپنے بھائیوں کے ہاتھوں کے لیے نرم رہو، اور خالی جگہیں پر کر دو، کیونکہ شیطان تمہارے درمیان حذف کی طرح گھس آتا ہے۔“
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حذف چھوٹے دنبے کے بچے کو کہتے ہیں۔
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حذف چھوٹے دنبے کے بچے کو کہتے ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ السَّقَطِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ح وحَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ ثَعْلَبَةَ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا فَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ لُقْمَانَ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَخَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ فِي مَوْعِظَتِهِ: «أَلَا لَعَلَّكُمْ لَا تَرَوْنِي بَعْدَ عَامِكُمْ هَذَا» - ثَلَاثَ مَرَّاتٍ - فَقَامَ رَجُلٌ طَوِيلٌ أَشْعَثُ كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ، فَقَالَ: فَمَا الَّذِي نَفْعَلُ يَا رَسُولَ اللهِ؟ فَقَالَ: «اعْبُدُوا رَبَّكُمْ، وَصَلُّوا خَمْسَكُمْ، وَصُومُوا شَهْرَكُمْ، وَأَدُّوا زَكَاةَ أَمْوَالِكُمْ طَيِّبَةٌ بِهَا أَنْفُسُكُمْ تَدْخُلُوا جَنَّةَ رَبِّكُمْ»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں حجۃ الوداع میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا، تو آپ ﷺ نے لوگوں کو خطبہ دیا اور اپنی نصیحت میں فرمایا: ”سن لو! شاید تم مجھے اپنے اس سال کے بعد نہ دیکھ سکو“ — تین بار فرمایا — تو ایک لمبا، پراگندہ بالوں والا آدمی کھڑا ہوا جیسے وہ قبیلہ شنوءہ کے لوگوں میں سے ہو، اس نے کہا: تو ہم کیا کریں، یا رسول اللہ؟ فرمایا: ”اپنے رب کی عبادت کرو، اپنی پانچ نمازیں پڑھو، اپنے مہینے کا روزہ رکھو، اور اپنے مالوں کی زکاۃ دل کی خوشی سے ادا کرو، تم اپنے رب کی جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ مُسَاوِرٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ السَّقَطِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَا: ثنا فَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ لُقْمَانَ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا كَانَ بُدُوُّ أَمْرِكَ؟ فَقَالَ: «دَعْوَةُ أَبِي إِبْرَاهِيمَ، وَبُشْرَى عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ، وَرَأَتْ أُمِّي أَنَّهُ خَرَجَ مِنْهَا نُورٌ أَضَاءَتْ لَهُ قُصُورُ الشَّامِ»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! آپ کے معاملے کی ابتدا کیا تھی؟ فرمایا: ”میرے والد ابراہیم علیہ السلام کی دعا، اور عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کی بشارت، اور میری والدہ نے دیکھا کہ ان سے ایک نور نکلا جس سے شام کے محلات روشن ہو گئے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ السَّقَطِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا فَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ لُقْمَانَ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: " لَا يَبْقَى أَحَدٌ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ إِلَّا مَنْ شَرِدَ عَلَى اللهِ كَشِرَادِ الْبَعِيرِ السُّوءِ عَلَى أَهْلِهِ، فَمَنْ يُصَدِّقُنِي، فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: {لَا يَصْلَاهَا إِلَّا الْأَشْقَى الَّذِي كَذَّبَ وَتَوَلَّى} [الليل: ١٦] ، كَذَّبَ بِمَا جَاءَ بِهِ مُحَمَّدٌ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، وَتَوَلَّى عَنْهُ "
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ”اس امت میں کوئی بھی ایسا نہیں رہے گا جو جنت میں داخل نہ ہو، سوائے اس کے جو اللہ سے یوں بدکے جیسے برا اونٹ اپنے مالکوں سے بدک جاتا ہے، تو کون میری تصدیق کرے گا؟ بیشک اللہ عزوجل فرماتا ہے: ”اس میں صرف وہی سب سے بدبخت داخل ہو گا جس نے جھٹلایا اور منہ پھیرا“ [سورۃ اللیل: 16] — جس نے محمد ﷺ کی لائی ہوئی چیز کو جھٹلایا اور اس سے منہ پھیرا۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَدَقَةَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادِ بْنِ زَبَّارٍ الْكَلْبِيُّ، ثنا شَرْقِيُّ بْنُ الْقِطَامِيُّ، عَنْ لُقْمَانَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: جِئْتُ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ فَقُلْتُ: حَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ: «لَوْ أَنَّ صَخْرَةً وَزَنَتْ عَشْرَ خَلِفَاتٍ، قُذِفَ بِهَا مِنْ شَفِيرِ جَهَنَّمَ مَا بَلَغَتْ قَعْرَهَا سَبْعِينَ خَرِيفًا حَتَّى يَنْتَهِيَ إِلَى غَيٍّ، وَأَثَامٍ» . قِيلَ: وَمَا غَيٌّ، وَأَثَامٌ؟ قَالَ: «بِئْرَانِ فِي أَسْفَلِ جَهَنَّمَ يَسِيلُ مِنْهُمْا صَدِيدُ أَهْلِ النَّارِ، وَهُمْا اللَّذَانِ ذَكَرَهُمَا اللهُ فِي كِتَابِهِ» : {أَضَاعُوا الصَّلَاةَ، وَاتَّبَعُوا الشَّهَوَاتِ، فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا} [مريم: ٥٩] {وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ يَلْقَ أَثَامًا} [الفرقان: ٦٨]
ترجمہ
لقمان بن عامر رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: ہمیں وہ حدیث سنائیے جو آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہو، تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر ایک چٹان، جس کا وزن دس حاملہ اونٹنیوں کے برابر ہو، جہنم کے کنارے سے پھینکی جائے، تو ستر سال تک بھی اس کی تہہ تک نہ پہنچے، یہاں تک کہ وہ غی اور اثام تک جا پہنچے۔“ عرض کیا گیا: غی اور اثام کیا ہیں؟ فرمایا: ”جہنم کے سب سے نیچے دو کنویں ہیں جن سے جہنمیوں کی پیپ بہتی ہے، اور یہی وہ دونوں ہیں جن کا ذکر اللہ نے اپنی کتاب میں کیا ہے: ”جنہوں نے نماز ضائع کی اور خواہشات کی پیروی کی، تو عنقریب وہ غی سے دوچار ہوں گے“ [سورۃ مریم: 59]، ”اور جو ایسا کرے وہ اثام سے دوچار ہو گا“ [سورۃ الفرقان: 68]۔“
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ سَلَمَةَ الْخَبَائِرِيُّ، ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سَلَامَةُ بْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ لُقْمَانَ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ: «كُلُّ سَارِحَةٍ، وَرَائِحَةٍ عَلَى قَوْمٍ حَرَامٌ عَلَى غَيْرِهِمْ»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”چرنے کے لیے جانے والے اور شام کو لوٹنے والے (کسی قوم کے چراگاہی جانور اور چراگاہیں) جس قوم کے ہوں وہ دوسروں پر حرام ہیں (یعنی ان کے حقوق میں کوئی دخل نہ دے)۔“