المعجم الكبير للطبراني
باب الصاد— حرف صاد سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
لقمان بن عامر، عن أبي أمامة باب: لقمان بن عامر کی ابواُمامہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَدَقَةَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادِ بْنِ زَبَّارٍ الْكَلْبِيُّ، ثنا شَرْقِيُّ بْنُ الْقِطَامِيُّ، عَنْ لُقْمَانَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: جِئْتُ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ فَقُلْتُ: حَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ: «لَوْ أَنَّ صَخْرَةً وَزَنَتْ عَشْرَ خَلِفَاتٍ، قُذِفَ بِهَا مِنْ شَفِيرِ جَهَنَّمَ مَا بَلَغَتْ قَعْرَهَا سَبْعِينَ خَرِيفًا حَتَّى يَنْتَهِيَ إِلَى غَيٍّ، وَأَثَامٍ» . قِيلَ: وَمَا غَيٌّ، وَأَثَامٌ؟ قَالَ: «بِئْرَانِ فِي أَسْفَلِ جَهَنَّمَ يَسِيلُ مِنْهُمْا صَدِيدُ أَهْلِ النَّارِ، وَهُمْا اللَّذَانِ ذَكَرَهُمَا اللهُ فِي كِتَابِهِ» : {أَضَاعُوا الصَّلَاةَ، وَاتَّبَعُوا الشَّهَوَاتِ، فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا} [مريم: ٥٩] {وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ يَلْقَ أَثَامًا} [الفرقان: ٦٨]لقمان بن عامر رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: ہمیں وہ حدیث سنائیے جو آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہو، تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر ایک چٹان، جس کا وزن دس حاملہ اونٹنیوں کے برابر ہو، جہنم کے کنارے سے پھینکی جائے، تو ستر سال تک بھی اس کی تہہ تک نہ پہنچے، یہاں تک کہ وہ غی اور اثام تک جا پہنچے۔“ عرض کیا گیا: غی اور اثام کیا ہیں؟ فرمایا: ”جہنم کے سب سے نیچے دو کنویں ہیں جن سے جہنمیوں کی پیپ بہتی ہے، اور یہی وہ دونوں ہیں جن کا ذکر اللہ نے اپنی کتاب میں کیا ہے: ”جنہوں نے نماز ضائع کی اور خواہشات کی پیروی کی، تو عنقریب وہ غی سے دوچار ہوں گے“ [سورۃ مریم: 59]، ”اور جو ایسا کرے وہ اثام سے دوچار ہو گا“ [سورۃ الفرقان: 68]۔“