المعجم الكبير للطبراني
باب الصاد— حرف صاد سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سليمان بن عبد الرحمن الحمصي، عن أبي أمامة باب: سلیمان بن عبدالرحمن حمصی کی ابواُمامہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِرْقٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ يَقُولُ: " تَخْرُجُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثُلَّةٌ غُرٌّ مُحَجَّلُونَ يَسُدُّ الْأُفُقَ. نُورُهُمْ مِثْلَ الشَّمْسِ فَيُنَادِي مُنَادٍ: النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ، فَيَتَحَسَّسُ لَهَا كُلُّ نَبِيٍّ أُمِّيٍّ، فَيُقَالُ: مُحَمَّدٌ وَأُمَّتُهُ، فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ لَيْسَ عَلَيْهِمْ حِسَابٌ وَلَا عَذَابٌ، ثُمَّ تَخْرُجُ ثُلَّةٌ أُخْرَى غُرٌّ مُحَجَّلُونَ، نُورُهُمْ مِثْلُ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، يَسُدُّ الْأُفُقَ نُورُهُمْ، فَيُنَادِي مُنَادٍ: النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ، فَيَتَحَسَّسُ لَهَا كُلُّ نَبِيٍّ أُمِّيٍّ، فَيُقَالُ: مُحَمَّدٌ وَأُمَّتُهُ، فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ، ثُمَّ تَخْرُجُ ثُلَّةٌ أُخْرَى غُرٌّ مُحَجَّلُونَ، نُورُهُمْ مِثْلُ أَعْظَمِ كَوْكَبٍ فِي السَّمَاءِ يَسُدُّ الْأُفُقَ نُورُهُمْ، فَيُنَادِي مُنَادٍ: النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ، فَيَتَحَسَّسُ لَهَا كُلُّ نَبِيٍّ أُمِّيٍّ، فَيُقَالُ مُحَمَّدٌ وَأُمَّتُهُ، فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ، ثُمَّ يَجِيءُ رَبُّكَ عَزَّ وَجَلَّ، ثُمَّ يُوضَعُ الْمِيزَانُ وَالْحِسَابُ "سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ”قیامت کے دن ایک جماعت نکلے گی جن کے چہرے، ہاتھ اور پاؤں (وضو کے اثر سے) روشن ہوں گے، وہ افق کو گھیر لیں گے، ان کا نور سورج جیسا ہو گا۔ ایک پکارنے والا پکارے گا: نبیِ امی (کی امت کہاں ہے)؟ تو ہر امی نبی اسے تلاش کرے گا، تو کہا جائے گا: محمد ﷺ اور ان کی امت۔ تو وہ بغیر حساب اور بغیر عذاب کے جنت میں داخل ہو جائیں گے۔ پھر ایک اور جماعت نکلے گی جن کے چہرے، ہاتھ اور پاؤں روشن ہوں گے، ان کا نور چودھویں رات کے چاند جیسا ہو گا، وہ اپنے نور سے افق کو گھیر لیں گے، تو ایک پکارنے والا پکارے گا: نبیِ امی؟ تو ہر امی نبی اسے تلاش کرے گا، تو کہا جائے گا: محمد ﷺ اور ان کی امت۔ تو وہ بغیر حساب اور بغیر عذاب کے جنت میں داخل ہو جائیں گے۔ پھر ایک اور جماعت نکلے گی جن کے چہرے، ہاتھ اور پاؤں روشن ہوں گے، ان کا نور آسمان کے سب سے بڑے ستارے جیسا ہو گا، وہ اپنے نور سے افق کو گھیر لیں گے، تو ایک پکارنے والا پکارے گا: نبیِ امی؟ تو ہر امی نبی اسے تلاش کرے گا، تو کہا جائے گا: محمد ﷺ اور ان کی امت۔ تو وہ بغیر حساب اور بغیر عذاب کے جنت میں داخل ہو جائیں گے۔ پھر تیرا رب عزوجل تشریف لائے گا، پھر میزان اور حساب قائم کیا جائے گا۔“