حدیث نمبر: 7693
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَيْهَمَ، عَنْ لُقْمَانَ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ: قَالَ: «مَا مِنْ رَجُلٍ يَلِي أَمْرَ عَشْرَةٍ، فَمَا فَوْقَ ذَلِكَ إِلَّا أُتِيَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَدُهُ مَغْلُولَةٌ إِلَى عُنُقِهِ، فَكَّهُ بِرُّهُ، أَوْ أَوْثَقَهُ إِثْمُهُ، أَوَّلُهَا مَلَامَةٌ، وَأَوْسَطُهَا نَدَامَةٌ، وَآخِرُهَا خِزْيٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»
ترجمہ

سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو آدمی بھی دس یا اس سے زیادہ افراد کا ذمہ دار ہو، وہ قیامت کے دن اس حال میں لایا جائے گا کہ اس کا ہاتھ اس کی گردن سے بندھا ہوگا، اسے اس کی نیکی آزاد کرے گی یا اس کا گناہ مزید جکڑ دے گا؛ اس کی ابتدا ملامت ہے، اس کا درمیان ندامت ہے، اور اس کا انجام قیامت کے دن کی رسوائی ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الصاد / حدیث: 7693
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 8، صفحہ 173، حدیث 7724