کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: قاسم بن عبدالرحمن بن یزید شامی، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام، کنیت ابوعبدالرحمن، کی ابواُمامہ رضی اللہ عنہ سے روایات؛ یحییٰ بن حارث ذماری کی قاسم سے روایات
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ دُحَيْمٍ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: «لَقِيتُ مِائَةً مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ»
ترجمہ
قاسم ابو عبدالرحمٰن رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ﷺ کے سو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ملاقات کی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدُهُ الْمِصِّيصِيُّ، ثنا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، ح، وحَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَا: ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ: «مَنْ مَشَى إِلَى صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ وَهُوَ مُتَطَهِّرٌ، فَأَجْرُهُ كَأَجْرِ الْحَاجِّ الْمُحْرِمِ، وَمَنْ مَشَى إِلَى تَسْبِيحِ الضُّحَى، فَأَجْرُهُ كَأَجْرِ الْمُعْتَمِرِ»
«وَصَلَاةٌ عَلَى أَثَرِ صَلَاةٍ، لَا لَغْوَ بَيْنَهُمَا كِتَابٌ فِي عِلِّيِّينَ»
«وَصَلَاةٌ عَلَى أَثَرِ صَلَاةٍ، لَا لَغْوَ بَيْنَهُمَا كِتَابٌ فِي عِلِّيِّينَ»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص باوضو ہو کر فرض نماز کی طرف چل کر جائے، اس کا اجر حج کے احرام باندھنے والے کے برابر ہے، اور جو چاشت کی تسبیح (نماز) کی طرف چل کر جائے، اس کا اجر عمرہ کرنے والے کے برابر ہے“
”اور ایک نماز کے فوراً بعد دوسری نماز، جس کے درمیان کوئی لغو بات نہ ہو، علیین میں لکھی جاتی ہے۔“
”اور ایک نماز کے فوراً بعد دوسری نماز، جس کے درمیان کوئی لغو بات نہ ہو، علیین میں لکھی جاتی ہے۔“
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ دُحَيْمٍ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ الْحَارِثِ، وأَبُو مُعَيْدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ الْأَنْمَاطِيُّ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، ثنا مَسْلَمَةُ بْنُ عُلَيٍّ الْخُشَنِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ الذِّمَارِيِّ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ كَانَ يَكْرَهُ أَنْ يَرَى الرَّجُلَ جَهِيرًا رَفِيعَ الصَّوْتِ، وَكَانَ يُحِبُّ أَنْ يَرَاهُ خَفِيضَ الصَّوْتِ»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ”رسول اللہ ﷺ ناپسند فرماتے تھے کہ کسی آدمی کو بلند آواز اور اونچے لہجے والا دیکھیں، اور پسند فرماتے تھے کہ اسے دھیمی آواز والا دیکھیں۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ حَسَّانَ الْأَنْمَاطِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ الْحَارِثِ الذِّمَارِيُّ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ قَالَ: «مَنْ أَحَبَّ لِلَّهِ، وَأَبْغَضَ لِلَّهِ، وَأَعْطَى لِلَّهِ، وَمَنَعَ لِلَّهِ فَقَدِ اسْتَكْمَلَ الْإِيمَانَ، وَإِنَّ مِنْ أَقْرَبُكُمْ إِلَيَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَحَاسِنُكُمْ أَخْلَاقًا»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اللہ کے لیے محبت کرے، اللہ کے لیے بغض رکھے، اللہ کے لیے دے اور اللہ کے لیے روکے، اس نے ایمان مکمل کر لیا، اور بیشک قیامت کے دن مجھ سے سب سے قریب تم میں سے وہ لوگ ہوں گے جن کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ هَاشِمٍ الْبَعْلَبَكِّيُّ، ثنا أَبِي، ثنا سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عنْ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ الْعَسْقَلَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ: «الْغُدُوُّ وَالرَّوَاحُ إِلَى الْمَسَاجِدِ مِنَ الْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللهِ»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”صبح و شام مسجدوں کی طرف چل کر جانا اللہ کے راستے میں جہاد میں سے ہے۔“
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ دُحَيْمٍ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَبِي ح، وحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَكْرٍ السِّرَاجُ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، قَالُوا: ثنا سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ الْحَارِثِ الذِّمَارِيُّ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ: «اغْتَسِلُوا يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَإِنَّهُ مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَلَهُ كَفَّارَةُ مَا بَيْنَ الْجُمُعَةِ إِلَى الْجُمُعَةِ وَزِيَادَةُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جمعہ کے دن غسل کرو، کیونکہ جو جمعہ کے دن غسل کرے، اس کے لیے ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک، اور مزید تین دنوں تک کے گناہوں کا کفارہ ہے۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحَرَّانِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ: «مَنْ صَلَّى صَلَاةَ الْغَدَاةِ فِي جَمَاعَةٍ، ثُمَّ جَلَسَ يَذْكُرُ اللهَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ، انْقَلَبَ بِأَجْرِ حَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص فجر کی نماز باجماعت پڑھے، پھر سورج طلوع ہونے تک اللہ کا ذکر کرتا بیٹھا رہے، پھر کھڑا ہو کر دو رکعتیں پڑھے، وہ حج اور عمرہ کے اجر کے ساتھ لوٹتا ہے۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ السَّمَيْدَعِ الْأَنْطَاكِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ أَيُّوبَ النَّصِيبِيُّ، ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ سَلَمَةَ الْخَبَائِرِيُّ، ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مَالِكٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ: «إِنَّ الَّذِي يَجْهَرُ بِالْقُرْآنِ كَالَّذِي يَجْهَرُ بِالصَّدَقَةِ، وَالَّذِي يُسِرُّ بِالْقُرْآنِ كَالَّذِي يُسِرُّ بِالصَّدَقَةِ»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو قرآن بلند آواز سے پڑھتا ہے وہ علانیہ صدقہ دینے والے کی طرح ہے، اور جو قرآن آہستہ پڑھتا ہے وہ خفیہ صدقہ دینے والے کی طرح ہے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الصَّبَّاحِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعِ بْنِ الْوَلِيدِ، ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ: «مَنْ بَدَأَ بِالسَّلَامِ، فَهُوَ أَوْلَى بِاللهِ وَرَسُولِهِ»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو پہلے سلام کرے وہ اللہ اور اس کے رسول سے زیادہ قریب ہے۔“
حَدَّثَنَا واثِلَةُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعِرْقِيُّ، ثنا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ الْحَذَّاءُ، ثنا بَقِيَّةُ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مَالِكٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، قَالَ: «السِّوَاكُ مَطْيَبَةٌ لِلْفَمِ، مَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ تَعَالَى»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”مسواک منہ کو پاکیزہ کرنے والی اور اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے والی چیز ہے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا بَقِيَّةُ، عَنْ مَسْلَمَةَ بْنِ عُلَيٍّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ: «مَنْ صَلَّى الْعِشَاءَ فِي جَمَاعَةٍ، فَقَدْ أَخَذَ مِنْ حَظِّهِ مِنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے عشاء کی نماز باجماعت پڑھی، اس نے شبِ قدر کا اپنا حصہ پا لیا۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ سَلَمَةَ الْخَبَائِرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ: " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ، يَقُولُ: يَا ابْنَ آدَمَ، ارْكَعْ لِي أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ أَكْفِكَ آخِرَهُ "
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بیشک اللہ عزوجل فرماتا ہے: اے ابنِ آدم! دن کے شروع میں میرے لیے چار رکعتیں پڑھ، میں اس کے باقی حصے میں تیرے لیے کافی ہو جاؤں گا۔“
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ دُحَيْمٍ، ثنا أَبِي ح، وحَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا دُحَيْمٌ، ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْبَاقِي الْمِصِّيصِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْحِمْصِيُّ، قَالُوا: ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ قَالَ: «مَنْ لَمْ يَغْزُ، أَوْ يُجَهِّزْ غَازِيًا، أَوْ يَخْلُفْ غَازِيًا فِي أَهْلِهِ أَصَابَهُ اللهُ بِقَارِعَةِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص نہ خود جہاد کرے، نہ کسی مجاہد کو سامان مہیا کرے، اور نہ کسی مجاہد کے پیچھے اس کے گھر والوں کی نگہداشت کرے، اللہ اسے قیامت کے دن سخت آفت میں مبتلا کرے گا۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، ثنا جُبَارَةُ بْنُ مُغَلِّسٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي الْعَيْزَارِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ الدِّمَشْقِيِّ، عَنِ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ: " مَنْ قَرَأَ عَشْرَ آيَاتٍ فِي لَيْلَةٍ لَمْ يُكْتَبْ مِنَ الْغَافِلِينَ، وَمَنْ قَرَأَ مِائَةَ آيَةٍ كُتِبَ لَهُ قُنُوتُ لَيْلَةٍ، وَمَنْ قَرَأَ مِئَتَيْ آيَةٍ كُتِبَ مِنَ الْقَانِتِينَ، وَمَنْ قَرَأَ أَرْبَعَمِائَةِ آيَةٍ كُتِبَ مِنَ الْعَابِدِينَ، وَمَنْ قَرَأَ خَمْسَمِائَةِ آيَةٍ كُتِبَ مِنَ الْحَافِظِينَ، وَمَنْ قَرَأَ سِتَّمِائَةِ آيَةٍ كُتِبَ مِنَ الْخَاشِعِينَ، وَمَنْ قَرَأَ ثَمَانِمِائَةِ آيَةٍ كُتِبَ مِنَ الْمُخْبِتِينَ، وَمَنْ قَرَأَ أَلْفَ آيَةٍ أَصْبَحَ لَهُ قِنْطَارٌ، وَالْقِنْطَارُ أَلْفٌ وَمِئَتَا أُوقِيَّةٍ، الْأُوقِيَّةُ خَيْرٌ مِمَّا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ - أَوْ قَالَ: مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ - وَمَنْ قَرَأَ أَلْفَيْ آيَةٍ كَانَ مِنَ الْمُوجِبِينَ "
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص رات میں دس آیات پڑھے وہ غافلوں میں نہیں لکھا جاتا، اور جو سو آیات پڑھے اس کے لیے ایک رات کا قنوت (پوری رات عبادت کا ثواب) لکھا جاتا ہے، اور جو دو سو آیات پڑھے وہ فرمانبرداروں میں لکھا جاتا ہے، اور جو چار سو آیات پڑھے وہ عبادت گزاروں میں لکھا جاتا ہے، اور جو پانچ سو آیات پڑھے وہ حافظوں میں لکھا جاتا ہے، اور جو چھ سو آیات پڑھے وہ عاجزی کرنے والوں میں لکھا جاتا ہے، اور جو آٹھ سو آیات پڑھے وہ منکسر المزاج لوگوں میں لکھا جاتا ہے، اور جو ایک ہزار آیات پڑھے اسے صبح ایک قنطار (بہت بڑے خزانے) کا ثواب ملتا ہے، اور قنطار ایک ہزار دو سو اوقیہ کا ہوتا ہے، ایک اوقیہ اس سے بہتر ہے جو آسمان اور زمین کے درمیان ہے — یا فرمایا: جس پر سورج طلوع ہوتا ہے — اور جو دو ہزار آیات پڑھے وہ ان لوگوں میں سے ہو جاتا ہے جن کے لیے جنت واجب ہو جاتی ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ سُفْيَانَ الرَّقِّيُّ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزَّانُ، ح وحَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الْخَلَّالُ الدِّمَشْقِيُّ، قَالَا: ثنا الْوَلِيدُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا ابْنُ ثَوْبَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ: «لَا يَحِلُّ بَيْعُ الْمُغَنِّيَاتِ وَلَا شِرَاؤُهُنَّ، وَلَا تِجَارَةٌ فِيهِنَّ وَثَمَنُهُنَّ حَرَامٌ» وَقَالَ: «إِنَّمَا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي ذَلِكَ» {وَمَنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ} [لقمان: ٦] حَتَّى فَرَغَ مِنَ الآيَةِ
ثُمَّ أَتْبَعَهَا، «وَالَّذِي بَعَثَنِي بِالْحَقِّ مَا رَفَعَ رَجُلٌ عَقِيرَتَهُ بِالْغِنَاءِ إِلَّا بَعَثَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عِنْدَ ذَلِكَ شَيْطَانَيْنِ يَرْتَقِدَانِ عَلَى عَاتِقَيْهِ، ثُمَّ لَا يَزَالَانِ يَضْرِبَانِ بِأَرْجُلِهِمَا عَلَى صَدْرِهِ - وَأَشَارَ إِلَى صَدْرِ نَفْسِهِ - حَتَّى يَكُونَ هُوَ الَّذِي يَسْكُتُ»
ثُمَّ أَتْبَعَهَا، «وَالَّذِي بَعَثَنِي بِالْحَقِّ مَا رَفَعَ رَجُلٌ عَقِيرَتَهُ بِالْغِنَاءِ إِلَّا بَعَثَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عِنْدَ ذَلِكَ شَيْطَانَيْنِ يَرْتَقِدَانِ عَلَى عَاتِقَيْهِ، ثُمَّ لَا يَزَالَانِ يَضْرِبَانِ بِأَرْجُلِهِمَا عَلَى صَدْرِهِ - وَأَشَارَ إِلَى صَدْرِ نَفْسِهِ - حَتَّى يَكُونَ هُوَ الَّذِي يَسْكُتُ»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”گانے والی باندیوں کا خریدنا اور بیچنا حلال نہیں، اور نہ ہی ان میں تجارت جائز ہے، اور ان کی قیمت حرام ہے۔“ اور فرمایا: ”یہ آیت اسی بارے میں نازل ہوئی ہے“: ”اور لوگوں میں سے کچھ ایسے ہیں جو لغو باتوں (گانے بجانے) کو خرید لیتے ہیں“ [سورۃ لقمان: 6] یہاں تک کہ پوری آیت پڑھی
پھر فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا! جو آدمی بھی گانے میں اپنی آواز بلند کرتا ہے، اللہ عزوجل اس پر اسی وقت دو شیطان بھیج دیتا ہے جو اس کے دونوں کندھوں پر بیٹھ جاتے ہیں، پھر وہ اپنے پیروں سے اس کے سینے پر مارتے رہتے ہیں“ — اور آپ ﷺ نے اپنے سینے کی طرف اشارہ کیا — ”یہاں تک کہ وہی خاموش ہو جائے۔“
پھر فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا! جو آدمی بھی گانے میں اپنی آواز بلند کرتا ہے، اللہ عزوجل اس پر اسی وقت دو شیطان بھیج دیتا ہے جو اس کے دونوں کندھوں پر بیٹھ جاتے ہیں، پھر وہ اپنے پیروں سے اس کے سینے پر مارتے رہتے ہیں“ — اور آپ ﷺ نے اپنے سینے کی طرف اشارہ کیا — ”یہاں تک کہ وہی خاموش ہو جائے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، قَالَا: ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ثنا سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامةَ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ كَانَ يَصِلُ شَعْبَانَ بِرَمَضَانَ»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ شعبان کو رمضان سے ملا کر (روزے رکھا) کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِرْقٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَضْرَمِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ يَحْيَى، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ: «مَا مِنْ قَوْمٍ جَلَسُوا مَجْلِسًا، ثُمَّ قَامُوا مِنْهُ لَمْ يَذْكُرُوا اللهَ، وَلَمْ يُصَلُّوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ إِلَّا كَانَ ذَلِكَ الْمَجْلِسُ عَلَيْهِمْ تِرَةً»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو لوگ بھی کسی مجلس میں بیٹھیں، پھر اس سے اٹھیں بغیر اس کے کہ انہوں نے اللہ کا ذکر کیا ہو اور نبی کریم ﷺ پر درود بھیجا ہو، تو وہ مجلس ان پر حسرت و نقصان کا سبب ہو گی۔“
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ دُحَيْمٍ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ الْحَارِثِ، وأَبُو مُعَيْدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ قَالَ: «صَلَاةٌ عَلَى أَثَرِ صَلَاةٍ، لَا لَغْوَ بَيْنَهُمَا، كِتَابٌ فِي عِلِّيِّينَ»
ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ایک نماز کے فوراً بعد دوسری نماز، جس کے درمیان کوئی لغو بات نہ ہو، علیین میں لکھی جاتی ہے۔“
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عِرْقٍ، ثنا أَبِي، ثنا الْوَلِيدُ، عَنْ يَحْيَى، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، مِثْلَهُ
ترجمہ
یہ حدیث اسی طرح ایک اور سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْبَاقِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُصَفَّى، ثنا بَقِيَّةُ، ثنا الْوَلِيدُ، عَنْ يَحْيَى، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، مِثْلَهُ
ترجمہ
یہ حدیث اسی طرح ایک اور سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِرْقٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ قَالَ: «مَنْ خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ مُتَطَهِّرًا، كَانَ لَهُ كَأَجْرِ الْحَاجِّ الْمُحْرِمِ، وَمَنْ مَشَى إِلَى سُبْحَةِ الضُّحَى، لَا يَنْصِبُهُ إِلَّا ذَلِكَ كَانَ لَهُ كَأَجْرِ الْمُعْتَمِرِ»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص باوضو ہو کر اپنے گھر سے نکلے، اس کا اجر حج کے احرام باندھنے والے کے برابر ہے، اور جو چاشت کی نماز کی طرف چل کر جائے، اور اسے صرف یہی چیز تھکائے، تو اس کا اجر عمرہ کرنے والے کے برابر ہے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ هَاشِمٍ الْبَعْلَبَكِّيُّ، ثنا أَبِي، ثنا سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ قَالَ: «إِنَّ مِنَ الْإِيمَانِ حُسْنُ الْخُلُقِ، وَأَفْضَلُكُمْ إِيمَانًا أَحْسَنُكُمْ خُلُقًا»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”بیشک اچھا اخلاق ایمان میں سے ہے، اور تم میں سب سے کامل ایمان والا وہ ہے جس کا اخلاق سب سے اچھا ہو۔“