کتب حدیث › المعجم الكبير للطبراني › ابواب › باب: علاج کروانے، غیبت چھوڑنے اور حسنِ اخلاق کے بارے میں وارد روایات کا بیان
❮
❯
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: ثنا شُعْبَةُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَاتٍ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ وَكَانَ عَلَى رُءُوسِ أَصْحَابِهِ الطَّيْرُ، فَجَاءَتْهُ الْأَعْرَابُ مِنْ هَهُنَا وَهَهُنَا: يَا رَسُولَ اللهِ عَلَيْنَا حَرَجٌ فِي كَذَا وَكَذَا؟ عَلَيْنَا حَرَجٌ فِي كَذَا وَكَذَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عِبَادَ اللهِ، رَفَعَ اللهُ الْحَرَجَ إِلَّا مَنِ اقْتَرَضَ مِنَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ ظُلْمًا فَذَلِكَ الَّذِي حَرَجَ وَهَلَكَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، نَتَدَاوَى؟ قَالَ: " تَدَاوَوْا فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يُنْزِلْ دَاءً إِلَّا وَضَعَ لَهُ دَوَاءً إِلَّا الْهَرَمَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، فَمَا خَيْرُ مَا أُعْطِيَ النَّاسُ؟ فَقَالَ: «إِنَّ النَّاسَ لَمْ يُعْطَوْا شَيْئًا خَيْرًا مِنْ خُلُقٍ حَسَنٍ»
ترجمہ
سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں عرفات میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور آپ ﷺ کو سلام کیا، اور آپ ﷺ کے صحابہ اتنی خاموشی سے بیٹھے تھے کہ گویا ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں۔ اتنے میں ادھر ادھر سے بدو آنے لگے: یا رسول اللہ! کیا ہم پر فلاں فلاں چیز میں حرج ہے؟ کیا ہم پر فلاں فلاں چیز میں حرج ہے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ کے بندو! اللہ نے حرج ختم کر دیا ہے، سوائے اس شخص کے جو کسی مسلمان (کی عزت) پر ظلماً ڈاکہ ڈالے، وہی ہے جو حرج میں پڑا اور ہلاک ہوا۔“ لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہم علاج کروائیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”علاج کرواؤ، اللہ عزوجل نے کوئی بیماری نہیں اتاری مگر اس کے لیے دوا بھی رکھی ہے سوائے بڑھاپے کے۔“ لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! لوگوں کو دی گئی چیزوں میں سب سے بہتر چیز کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”لوگوں کو اچھے اخلاق سے بہتر کوئی چیز نہیں دی گئی۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 460
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 179، حدیث 463
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ح وَثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارُ، ثنا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالُوا: ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَهُ الْأَعْرَابُ: نَاسٌ كَثِيرٌ مِنْ هَهُنَا وَهَهُنَا، فَأَسْكَتَ النَّاسُ لَا يَتَكَلَّمُ غَيْرُهُمْ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، أَعَلَيْنَا حَرَجٌ فِي كَذَا؟ فِي أَشْيَاءَ مِنْ أُمُورِ النَّاسِ لَا بَأْسَ بِهَا، فَقَالَ: " عِبَادَ اللهِ، وَضَعَ اللهُ الْحَرَجَ إِلَّا مَنِ اقْتَرَضَ امْرَأً ظُلْمًا فَذَلِكَ الَّذِي حَرَجَ وَهَلَكَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، أَعَلَيْنَا حَرَجٌ أَنْ نَتَدَاوَى؟ قَالَ: " تَدَاوَوْا عِبَادَ اللهِ، فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يَضَعْ دَاءً إِلَّا وَضَعَ لَهُ دَوَاءً إِلَّا الْهَرَمَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ مَا خَيْرُ مَا أُعْطِيَ الْمَرْءُ؟ قَالَ: «الْخُلُقُ الْحَسَنُ»
ترجمہ
سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ﷺ کے پاس تھے کہ بہت سے بدو ادھر ادھر سے آ گئے، تو لوگ خاموش ہو گئے اور ان کے سوا کوئی نہیں بولتا تھا۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! کیا فلاں چیز میں ہم پر حرج ہے؟ (یہ سوال) لوگوں کے ایسے معاملات کے بارے میں (تھے) جن میں کوئی حرج نہیں تھا۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ کے بندو! اللہ نے حرج ختم کر دیا ہے سوائے اس شخص کے جو ظلماً کسی پر زیادتی کرے، وہی ہے جو حرج میں پڑا اور ہلاک ہوا۔“ تو انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہمارے لیے علاج کروانے میں کوئی حرج ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ کے بندو! علاج کرواؤ، اللہ عزوجل نے کوئی بیماری نہیں رکھی مگر اس کی دوا بھی رکھی ہے سوائے بڑھاپے کے۔“ لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! انسان کو دی گئی چیزوں میں سب سے بہتر چیز کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اچھے اخلاق۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 461
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 179، حدیث 464
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْقَطِرَانِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، قَالَا: أَنَا زَائِدَةُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَتِ الْأَعْرَابُ فَسَأَلُوهُ: مَا خَيْرُ مَا أُعْطِيَ النَّاسُ؟ قَالَ: خُلُقٌ حَسَنٌ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ أَنَتَدَاوَى؟ قَالَ: «نَعَمْ، عِبَادَ اللهِ، تَدَاوَوْا فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يَضَعْ فِي الْأَرْضِ دَاءً إِلَّا وَضَعَ لَهُ شِفَاءً غَيْرَ دَاءٍ وَاحِدٍ» قَالُوا: وَمَا هُوَ؟ قَالَ: «الْهَرَمُ»
ترجمہ
سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کے پاس تھا کہ بدو آئے اور پوچھا: لوگوں کو دی گئی چیزوں میں سب سے بہتر چیز کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اچھے اخلاق۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہم علاج کروائیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، اے اللہ کے بندو! علاج کرواؤ، اللہ عزوجل نے زمین میں کوئی بیماری نہیں رکھی مگر اس کی شفا بھی رکھی ہے سوائے ایک بیماری کے۔“ انہوں نے عرض کیا: وہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بڑھاپا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 462
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 180، حدیث 465
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ، أَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ، قَالَ: شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَتَاهُ الْأَعْرَابُ، فَقَالُوا: عَلَيْنَا حَرَجٌ فِي كَذَا، عَلَيْنَا حَرَجٌ فِي كَذَا فِي أَشْيَاءَ مِنْ أُمُورِهِمْ لَا بَأْسَ بِهَا؟ فَقَالَ: «عِبَادَ اللهِ، وَضَعَ اللهُ الْحَرَجَ إِلَّا مِنْ رَجُلٍ اقْتَرَضَ مِنْ عِرْضِ امْرِئٍ مُسْلِمٍ، فَذَلِكَ الَّذِي حَرَجَ وَهَلَكَ» ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، أَنَتَدَاوَى؟ قَالَ: " نَعَمْ، تَدَاوَوْا فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يُنْزِلْ دَاءً إِلَّا وَضَعَ لَهُ شِفَاءً غَيْرَ دَاءٍ وَاحِدٍ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا خَيْرُ مَا أُعْطِيَ الْإِنْسَانُ؟ قَالَ: «خُلُقٌ حَسَنٌ»
ترجمہ
سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کے پاس حاضر تھا کہ بدو آئے اور کہنے لگے: فلاں فلاں چیز میں ہم پر کوئی حرج تو نہیں، اپنے ایسے معاملات میں جن میں کوئی حرج نہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ کے بندو! اللہ نے حرج ختم کر دیا ہے، سوائے اس شخص کے جو کسی مسلمان کی عزت پر ڈاکہ ڈالے، وہی ہے جو حرج میں پڑا اور ہلاک ہوا۔“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہم علاج کروائیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، علاج کرواؤ، اللہ عزوجل نے کوئی بیماری نہیں اتاری مگر اس کی شفا بھی رکھی ہے سوائے ایک بیماری کے۔“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! انسان کو دی گئی چیزوں میں سب سے بہتر چیز کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اچھے اخلاق۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 463
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 180، حدیث 466
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا زِيَادُ بْنُ عِلَاقَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَتِ الْأَعْرَابُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، عَلَيْنَا حَرَجٌ فِي كَذَا وَكَذَا؟ الْحَدِيثَ
ترجمہ
سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھا تھا کہ ہر طرف سے بدو آئے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ! فلاں فلاں چیز میں ہم پر حرج تو نہیں؟ پھر راوی نے آگے (پوری) حدیث بیان کی۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 464
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 180، حدیث 467
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ، قَالَ: حَضَرْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسُئِلَ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «حُسْنُ الْخُلُقِ»
ترجمہ
سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر تھا کہ آپ سے پوچھا گیا: کون سا عمل سب سے افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اچھا اخلاق۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 465
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 180، حدیث 468
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ، قَالَ: شَهِدْتُ الْأَعْرَابَ يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَحَرَجٌ فِي كَذَا وَكَذَا؟ فَقَالَ لَهُمْ: " عِبَادَ اللهِ، وَضَعَ اللهُ الْحَرَجَ إِلَّا مَنِ اقْتَرَضَ مِنْ عِرْضِ أَخِيهِ شَيْئًا، فَذَلِكَ الَّذِي حَرَجَ، وَقَالَ: " تَدَاوَوْا عِبَادَ اللهِ، فَإِنَّ اللهَ لَمْ يَضَعْ دَاءً إِلَّا وَضَعَ مَعَهُ شِفَاءً إِلَّا الْهَرَمَ، يَا رَسُولَ اللهِ مَا خَيْرُ مَا أُعْطِيَ الْعَبْدُ قَالَ: «خُلُقٌ حَسَنٌ»
ترجمہ
سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ بدو رسول اللہ ﷺ سے پوچھ رہے تھے: کیا ہم پر فلاں فلاں چیز میں حرج ہے؟ تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اے اللہ کے بندو! اللہ نے حرج ختم کر دیا ہے سوائے اس شخص کے جو اپنے بھائی کی عزت سے کچھ چھینے، وہی ہے جو حرج میں پڑا۔“ اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ کے بندو! علاج کرواؤ، اللہ نے کوئی بیماری نہیں رکھی مگر اس کے ساتھ شفا بھی رکھی ہے سوائے بڑھاپے کے۔“ (عرض کیا گیا:) یا رسول اللہ! بندے کو دی گئی چیزوں میں سب سے بہتر چیز کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اچھے اخلاق۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 466
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 181، حدیث 469
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ، قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَفْضَلُ مَا أُعْطِيَ الْمُسْلِمُ؟ قَالَ: «خُلُقٌ حَسَنٌ»
ترجمہ
سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مسلمان کو دی گئی چیزوں میں سب سے افضل چیز کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اچھے اخلاق۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 467
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 181، حدیث 470
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنَّ عَلَى رُءُوسِنَا الطَّيْرَ، مَا يَتَكَلَّمُ مِنَّا مُتَكَلِّمٌ إِذْ جَاءَهُ أُنَاسٌ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، أَفْتِنَا فِي كَذَا، أَفْتِنَا فِي كَذَا، فَقَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ وَضَعَ اللهَ الْحَرَجَ إِلَّا مَنِ اقْتَرَضَ مِنْ أَخِيهِ قَرْضًا فَذَلِكَ الَّذِي حَرِجَ وَهَلَكَ، أَفَنَتَدَاوَى يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «نَعَمْ، إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يُنْزِلْ دَاءً إِلَّا أَنْزَلَ لَهُ دَوَاءً غَيْرَ دَاءٍ وَاحِدٍ» . قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، وَمَا هُوَ؟ قَالَ: " الْهَرَمُ، قَالُوا: فَمَنْ أَحَبُّ عِبَادِ اللهِ إِلَى اللهِ؟ قَالَ: «أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا»
ترجمہ
سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھے تھے، گویا ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں، ہم میں سے کوئی بات نہیں کرتا تھا کہ کچھ لوگ آئے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ! ہمیں فلاں فلاں معاملے میں فتویٰ دیجیے، فتویٰ دیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے لوگو! اللہ نے حرج ختم کر دیا ہے، سوائے اس شخص کے جو اپنے بھائی (کی عزت) پر ڈاکہ ڈالے، وہی ہے جو حرج میں پڑا اور ہلاک ہوا۔“ (عرض کیا گیا:) یا رسول اللہ! کیا ہم علاج کروائیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، اللہ عزوجل نے کوئی بیماری نہیں اتاری مگر اس کے لیے دوا بھی اتاری ہے سوائے ایک بیماری کے۔“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بڑھاپا۔“ انہوں نے عرض کیا: تو اللہ کے بندوں میں اللہ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو ان میں سب سے اچھے اخلاق والا ہو۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 468
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 181، حدیث 471
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرٌ، كِلَاهُمَا عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجًّا، فَكَانَ النَّاسُ يَأْتُونَهُ، فَقَالَ قَائِلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، سَعَيْتُ قَبْلَ أَنْ أَطُوفَ، أَوْ أَخَّرْتُ شَيْئًا، فَكَانَ يَقُولُ لَهُمْ: «لَا حَرَجَ إِلَّا عَلَى رَجُلٍ اقْتَرَضَ مِنْ عِرْضِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ وَهُوَ ظَالِمٌ، فَذَلِكَ الَّذِي حَرِجَ وَهَلَكَ»
ترجمہ
سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ حج کے لیے نکلا، لوگ آپ کے پاس آتے رہتے، کسی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے طواف سے پہلے سعی کر لی، یا کوئی چیز مؤخر کر دی؟ آپ ﷺ ان سے فرماتے: ”کوئی حرج نہیں، سوائے اس شخص کے جو ظلماً کسی مسلمان کی عزت پر ڈاکہ ڈالے، وہی ہے جو حرج میں پڑا اور ہلاک ہوا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 469
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 181، حدیث 472
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَسْبَاطٌ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ أُسَامَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ حَلَقَ قَبْلَ أَنْ يَذْبَحَ، قَالَ: «لَا حَرَجَ فَلْيَحْلِقْ»
ترجمہ
سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے قربانی سے پہلے سر منڈوا لیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں، وہ سر منڈوا لے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 470
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 182، حدیث 473
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرٌ، جَمِيعًا عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَاهُ نَاسٌ مِنَ الْأَعْرَابِ فَسَأَلُوهُ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ أَنَتَدَاوَى؟ قَالَ: «نَعَمْ، إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يُنْزِلْ دَاءً إِلَّا أَنْزَلَ لَهُ شِفَاءً»
ترجمہ
سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے کہ کچھ بدو آئے اور پوچھا: یا رسول اللہ! کیا ہم علاج کروائیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، اللہ عزوجل نے کوئی بیماری نہیں اتاری مگر اس کی شفا بھی اتاری ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 471
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 182، حدیث 474
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ مِسْعَرٍ، وَلَيْثٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ يُقَالُ لَهُ: أُسَامَةُ بْنُ شَرِيكٍ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّتِهِ مَا أَفْضَلُ مَا أُوتِيَ النَّاسُ قَالَ: «خُلُقٌ حَسَنٌ»
ترجمہ
سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ سے آپ ﷺ کے حج کے موقع پر پوچھا گیا: لوگوں کو دی گئی چیزوں میں سب سے افضل چیز کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اچھے اخلاق۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 472
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 182، حدیث 475
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْأَسْلَمِيُّ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ، قَالَ: شَهِدْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ يَسْأَلُونَهُ، وَهَذَا يَقُولُ: حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ، وَهَذَا يَقُولُ: فَعَلْتُ كَذَا وَكَذَا قَبْلُ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا حَرَجَ لَا حَرَجَ»
ترجمہ
سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ لوگ آپ سے سوال کر رہے تھے، کوئی کہتا: میں نے قربانی سے پہلے سر منڈوا لیا، اور کوئی کہتا: میں نے فلاں فلاں کام پہلے کر لیا، تو رسول اللہ ﷺ فرماتے جاتے: ”کوئی حرج نہیں، کوئی حرج نہیں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 473
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 182، حدیث 476
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْبَزَّارُ، ثنا عُمَرُ بْنُ يَحْيَى الْأُبُلِّيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ جَمِيعٍ، ثنا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ، قَالَ: جَاءَتِ الْأَعْرَابُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُونَهُ: عَلَيْنَا حَرَجٌ فِي كَذَا؟ فَقَالَ: " وَضَعَ اللهُ الْحَرَجَ إِلَّا عَلَى رَجُلٍ اقْتَرَضَ مِنْ عِرْضِ أَخِيهِ فَذَلِكَ الَّذِي حَرِجَ وَهَلَكَ، وَقَالَ: «مَا أَنْزَلَ اللهُ مِنْ دَاءٍ إِلَّا أَنْزَلَ لَهُ شِفَاءً إِلَّا الْهَرَمَ»
ترجمہ
سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: بدو نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور پوچھنے لگے: کیا فلاں فلاں چیز میں ہم پر حرج ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ نے حرج ختم کر دیا ہے، سوائے اس شخص کے جو اپنے بھائی کی عزت پر ڈاکہ ڈالے، وہی ہے جو حرج میں پڑا اور ہلاک ہوا۔“ اور فرمایا: ”اللہ نے کوئی بیماری نہیں اتاری مگر اس کی شفا بھی اتاری ہے سوائے بڑھاپے کے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 474
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 182، حدیث 477
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمٍ الرَّازِيُّ، ثنا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الْأَجْلَحِ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ، قَالَ: جَاءَتِ الْأَعْرَابُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ؟ قَالَ: " أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، أَنَتَدَاوَى؟ قَالَ: «نَعَمْ، تَدَاوَوْا فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يُنْزِلْ دَاءً إِلَّا أَنْزَلَ لَهُ الشِّفَاءَ»
ترجمہ
اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: بدو رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! سب سے بہتر شخص کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو ان میں سب سے اچھے اخلاق والا ہو۔“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہم علاج کروائیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، علاج کرواؤ، اللہ عزوجل نے کوئی بیماری نہیں اتاری مگر اس کی شفا بھی اتاری ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 475
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 183، حدیث 478
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْأَصْبَهَانِيُّ الْأَخْرَمُ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ النَّشَائِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ شَبِيبٍ الْمُسْلِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ الْمُلَائِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ، فَقَالَ: أَتَى الْأَعْرَابُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، عَلَيْنَا حَرَجٌ فِي كَذَا؟ عَلَيْنَا حَرَجٌ فِي كَذَا؟ قَالَ: " لَا حَرَجَ وَضَعَ اللهُ الْحَرَجَ إِلَّا امْرِءاٌ اقْتَرَضَ مِنْ عِرْضِ أَخِيهِ فَذَلِكَ الْحَرَجُ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، أَنَتَدَاوَى؟ قَالَ: " تَدَاوَوْا، فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يُنْزِلْ دَاءً أَلَا وَقَدْ أَنْزَلَ لَهُ شِفَاءً إِلَّا الْهَرَمَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا خَيْرُ مَا أُعْطِيَ الْإِنْسَانُ؟ قَالَ: «الْخُلُقُ الْحَسَنُ»
ترجمہ
سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: بدو رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ! کیا ہم پر فلاں فلاں چیز میں حرج ہے؟ کیا ہم پر فلاں فلاں چیز میں حرج ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں، اللہ نے حرج ختم کر دیا ہے، سوائے اس شخص کے جو اپنے بھائی کی عزت پر ڈاکہ ڈالے، یہی حرج ہے۔“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہم علاج کروائیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”علاج کرواؤ، اللہ عزوجل نے کوئی بیماری نہیں اتاری مگر اس کی شفا بھی اتاری ہے سوائے بڑھاپے کے۔“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! انسان کو دی گئی چیزوں میں سب سے بہتر چیز کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اچھے اخلاق۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 476
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 183، حدیث 479
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، وَأَبُو حَنِيفَةَ مُحَمَّدُ بْنُ حَنِيفَةَ الْوَاسِطِيُّ، قَالَا: ثنا مَعْمَرُ بْنُ سَهْلٍ الْأَهْوَازِيُّ، حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ مُدْرِكٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمٌ مِنَ الْأَعْرَابِ مُتَقَلِّدِي السُّيُوفِ، فَأَكَبُّوا عَلَيْهِ يَسْأَلُونَهُ، فَأَشْفَقْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَنَوْنَا مِنْهُمْ، قَالَ: وَسَمِعْتُهُمْ يَقُولُونَ: هَلْ عَلَيْنَا حَرَجٌ فِي كَذَا؟ هَلْ عَلَيْنَا حَرَجٌ فِي كَذَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ وَضَعَ اللهُ الْحَرَجَ إِلَّا رَجُلٌ اقْتَرَضَ مِنْ عِرْضِ أَخِيهِ مُسْلِمًا فَذَلِكَ الَّذِي حَرِجَ وَهَلَكَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، نَتَدَاوَى مِنْ كَذَا؟ نَتَدَاوَى مِنْ كَذَا؟ قَالَ: " تَدَاوَوْا فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يُنْزِلْ دَاءً إِلَّا أَنْزَلَ لَهُ دَوَاءً إِلَّا الْهَرَمَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ مَا خَيْرُ مَا أُعْطِيَ الْعَبْدُ الْمُسْلِمُ فِي الدُّنْيَا؟ قَالَ: «الْخُلُقُ الْحَسَنُ»
ترجمہ
سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم ﷺ کے پاس تلواریں لٹکائے ہوئے بدوؤں کی ایک جماعت آئی اور آپ ﷺ پر جھک کر سوال کرنے لگی، تو ہمیں نبی کریم ﷺ (کی حفاظت) کی فکر ہوئی، چنانچہ ہم ان کے قریب ہو گئے۔ راوی کہتے ہیں: میں نے انہیں یہ کہتے سنا: کیا ہم پر فلاں فلاں چیز میں حرج ہے؟ کیا ہم پر فلاں فلاں چیز میں حرج ہے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے لوگو! اللہ نے حرج ختم کر دیا ہے، سوائے اس شخص کے جو اپنے مسلمان بھائی کی عزت پر ڈاکہ ڈالے، وہی ہے جو حرج میں پڑا اور ہلاک ہوا۔“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہم فلاں فلاں بیماری کا علاج کروائیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”علاج کرواؤ، اللہ عزوجل نے کوئی بیماری نہیں اتاری مگر اس کی دوا بھی اتاری ہے سوائے بڑھاپے کے۔“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مسلمان بندے کو دنیا میں دی گئی چیزوں میں سب سے بہتر چیز کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اچھے اخلاق۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 477
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 183، حدیث 480
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ الثَّعْلَبِيِّ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ، قَالَ: قَالَ أَعْرَابِيٌّ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَخْبِرْنِي مَا لِلْمَرْءِ الْمُسْلِمِ؟ قَالَ: «الْخُلُقُ الْحَسَنُ»
ترجمہ
سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک اعرابی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے بتائیے مسلمان شخص کے لیے کیا (بہتر) ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اچھے اخلاق۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 478
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 184، حدیث 481
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَمَّالُ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَامِرِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا النُّعْمَانُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، وَغَيْرِ وَاحِدٍ، ثنا زِيَادُ بْنُ عِلَاقَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ، قَالَ: شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُ نَاسٌ مِنَ الْأَعْرَابِ يَسْأَلُونَهُ عَنْ يَمِينِهِ، وَعَنْ يَسَارِهِ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَلْ عَلَيْنَا حَرَجٌ فِي كَذَا وَكَذَا؟ مَرَّتَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ وَضَعَ الْحَرَجَ إِلَّا مَنِ اقْتَرَضَ امْرَأً مُسْلِمًا ظُلْمًا» أَوْ قَالَ: " بِظُلْمٍ فَذَلِكَ حَرِجَ وَهَلَكَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، أَنَتَدَاوَى مِنْ كَذَا وَكَذَا؟ مَرَّتَيْنِ، قَالَ: " نَعَمْ، تَدَاوَوْا فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يُنْزِلْ دَاءً إِلَّا أَنْزَلَ لَهُ شِفَاءً غَيْرَ دَاءٍ وَاحِدٍ، الْهَرَمُ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا خَيْرُ مَا أُعْطِيَ النَّاسُ؟ قَالَ: «خُلُقٌ حَسَنٌ»
ترجمہ
سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر تھا، اتنے میں بدو دائیں بائیں سے آپ ﷺ کے پاس آئے اور پوچھنے لگے: یا رسول اللہ! کیا ہم پر فلاں فلاں چیز میں حرج ہے؟ (یہ سوال) دو بار (دہرایا)، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ عزوجل نے حرج ختم کر دیا ہے، سوائے اس شخص کے جو کسی مسلمان پر ظلماً ڈاکہ ڈالے“ - یا فرمایا: ”ظلم کے ساتھ“ - ”وہی ہے جو حرج میں پڑا اور ہلاک ہوا۔“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہم فلاں فلاں بیماری کا علاج کروائیں؟ (یہ سوال) دو بار (دہرایا)، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، علاج کرواؤ، اللہ عزوجل نے کوئی بیماری نہیں اتاری مگر اس کی شفا بھی اتاری ہے سوائے ایک بیماری کے، (وہ ہے) بڑھاپا۔“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! لوگوں کو دی گئی چیزوں میں سب سے بہتر چیز کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اچھے اخلاق۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 479
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 184، حدیث 482
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ كَرَامَةَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا شَيْبَانُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ الْأَعْرَابُ مِنْ كُلِّ نَحْوٍ حَتَّى كَثُرُوا عَلَيْهِ، وَسَكَتَ النَّاسُ، فَنَادَوْا: يَا رَسُولَ اللهِ، أَنَتَدَاوَى؟ قَالَ: «نَعَمْ، فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يَضَعْ دَاءً إِلَّا وَضَعَ لَهُ شِفَاءً غَيْرَ وَاحِدٍ» قَالُوا: مَا هُوَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " الْهَرَمُ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا خَيْرُ مَا أُعْطِيَ لِلْإِنْسَانُ؟ قَالَ: " خُلُقٌ حَسَنٌ، فَنَادَوْا: يَا رَسُولَ اللهِ عَلَيْنَا حَرَجٌ فِي كَذَا وَكَذَا؟ مِمَّا يَكُونُ مِنَ النَّاسِ، قَالَ: «يَا عِبَادَ اللهِ، وَضَعَ اللهُ الْحَرَجَ إِلَّا مَنِ اقْتَرَضَ مِنْ عِرْضٍ امْرِئٍ فَذَلِكَ الَّذِي حَرِجَ وَهَلَكَ»
ترجمہ
سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھا تھا کہ ہر طرف سے بدو آنے لگے یہاں تک کہ ان کی تعداد بہت بڑھ گئی، اور لوگ خاموش ہو گئے، پھر انہوں نے پکار کر کہا: یا رسول اللہ! کیا ہم علاج کروائیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، اللہ عزوجل نے کوئی بیماری نہیں رکھی مگر اس کی شفا بھی رکھی ہے سوائے ایک کے۔“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بڑھاپا۔“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! انسان کو دی گئی چیزوں میں سب سے بہتر چیز کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اچھے اخلاق۔“ پھر انہوں نے پکار کر کہا: یا رسول اللہ! لوگوں کے درمیان جو (معاملات) پیش آتے ہیں ان میں فلاں فلاں چیز میں ہم پر حرج تو نہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ کے بندو! اللہ نے حرج ختم کر دیا ہے، سوائے اس شخص کے جو کسی کی عزت پر ڈاکہ ڈالے، وہی ہے جو حرج میں پڑا اور ہلاک ہوا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 480
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 184، حدیث 483
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، وَحَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، ثنا أَبُو الْعَوَّامِ عِمْرَانُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَهُوَ يَقُولُ: «أُمَّكَ وَأَبَاكَ، وَأُخْتَكَ وَأَخَاكَ، ثُمَّ أَدْنَاكَ» قَالَ: فَجَاءَ قَوْمٌ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ قَتَلَنَا بَنُو يَرْبُوعٍ؟ فَقَالَ: «لَا تَجْنِي نَفْسٌ عَلَى أُخْرَى» قَالَ: ثُمَّ سَأَلَهُ رَجُلٌ نَسِيَ أَنْ يَرْمِيَ الْجِمَارَ، قَالَ: «ارْمِ وَلَا حَرَجَ» ثُمَّ أَتَاهُ آخَرُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ نَسِيتُ الطَّوَافَ، فَقَالَ: «طُفْ وَلَا حَرَجَ» ثُمَّ أَتَاهُ آخَرُ: حَلَقَ قَبْلَ أَنْ يَذْبَحَ. قَالَ: «اذْبَحْ وَلَا حَرَجَ» قَالَ: فَمَا سَأَلُوهُ يَوْمَئِذٍ عَنْ شَيْءٍ إِلَّا قَالَ: «لَا حَرَجَ وَلَا حَرَجَ» ثُمَّ قَالَ: " أَذْهَبَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ الْحَرَجَ إِلَّا رَجُلٌ اقْتَرَضَ مُسْلِمًا فَذَلِكَ الَّذِي حَرِجَ وَهَلَكَ، وَقَالَ: «مَا أَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ دَاءً إِلَّا أَنْزَلَ لَهُ دَوَاءً إِلَّا الْهَرَمَ»
ترجمہ
سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”تیری ماں اور تیرا باپ، تیری بہن اور تیرا بھائی، پھر جو تجھ سے قریب تر ہو۔“ کہتے ہیں: پھر کچھ لوگ آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! بنو یربوع نے ہمیں قتل کر دیا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی جان دوسری جان پر (اس کے جرم کا) بوجھ نہیں اٹھائے گی۔“ پھر ایک شخص نے پوچھا جو جمرات کو کنکری مارنا بھول گیا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کنکری مار دو، کوئی حرج نہیں۔“ پھر ایک اور آیا اور کہا: یا رسول اللہ! میں طواف بھول گیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”طواف کر لو، کوئی حرج نہیں۔“ پھر ایک اور آیا جس نے قربانی سے پہلے سر منڈوا لیا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”قربانی کر لو، کوئی حرج نہیں۔“ کہتے ہیں: اس دن انہوں نے جس بھی چیز کے بارے میں پوچھا، آپ ﷺ نے یہی فرمایا: ”کوئی حرج نہیں، کوئی حرج نہیں۔“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ عزوجل نے حرج دور کر دیا ہے سوائے اس شخص کے جو کسی مسلمان (کی عزت) پر ڈاکہ ڈالے، وہی ہے جو حرج میں پڑا اور ہلاک ہوا۔“ اور فرمایا: ”اللہ عزوجل نے کوئی بیماری نہیں اتاری مگر اس کی دوا بھی اتاری ہے سوائے بڑھاپے کے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 481
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 184، حدیث 484
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ السُّلَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْأَحْمَسِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْأَسَدِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ قُطْبَةَ، قَالَ: كَانَ الْأَعْرَابُ إِذَا جَاءُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اغْتَنَمْنَاهُمْ لِجَفَائِهِمْ، فَجَاءُوا، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، عَلَيْنَا حَرَجٌ فِي كَذَا؟ قَالَ: " لَا حَرَجَ، وُضِعَ الْحَرَجُ عِبَادَ اللهِ، إِلَّا مَنِ اقْتَرَضَ مِنْ عِرْضِ أَخِيهِ بِظُلْمٍ فَذَلِكَ الَّذِي حَرِجَ وَهَلَكَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا خَيْرُ مَا أُعْطِيَ الْإِنْسَانُ؟ قَالَ: «خُلُقٌ حَسَنٌ» هَكَذَا رَوَاهُ وَهْبُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ وَهِمَ فِيهِ، وَالصَّوَابُ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ
ترجمہ
قطبہ کہتے ہیں: بدو جب نبی کریم ﷺ کے پاس آتے تو ہم ان کی بےباکی کے باعث (سوال پوچھنے کا) موقع غنیمت جانتے، تو وہ آئے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ! کیا ہم پر فلاں چیز میں حرج ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں، اے اللہ کے بندو! حرج ختم کر دیا گیا ہے، سوائے اس شخص کے جو ظلماً اپنے بھائی کی عزت پر ڈاکہ ڈالے، وہی ہے جو حرج میں پڑا اور ہلاک ہوا۔“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! انسان کو دی گئی چیزوں میں سب سے بہتر چیز کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اچھے اخلاق۔“
اس حدیث کو وہب بن اسماعیل نے محمد بن قیس سے اسی طرح روایت کیا ہے، جس میں انہیں وہم ہوا ہے، درست روایت سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ سے ہے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 482
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 185، حدیث 485
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا وَكِيعٌ، عَنِ الْمَسْعُودِيِّ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ، قَالَ: «أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا أَصْحَابُهُ كَأَنَّ عَلَى رُءُوسِهِمُ الطَّيْرَ»
ترجمہ
سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا تو دیکھا کہ آپ کے صحابہ اس طرح (خاموش، پُروقار) بیٹھے تھے گویا ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 483
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 185، حدیث 486