حدیث نمبر: 480
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ كَرَامَةَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا شَيْبَانُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ الْأَعْرَابُ مِنْ كُلِّ نَحْوٍ حَتَّى كَثُرُوا عَلَيْهِ، وَسَكَتَ النَّاسُ، فَنَادَوْا: يَا رَسُولَ اللهِ، أَنَتَدَاوَى؟ قَالَ: «نَعَمْ، فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يَضَعْ دَاءً إِلَّا وَضَعَ لَهُ شِفَاءً غَيْرَ وَاحِدٍ» قَالُوا: مَا هُوَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " الْهَرَمُ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا خَيْرُ مَا أُعْطِيَ لِلْإِنْسَانُ؟ قَالَ: " خُلُقٌ حَسَنٌ، فَنَادَوْا: يَا رَسُولَ اللهِ عَلَيْنَا حَرَجٌ فِي كَذَا وَكَذَا؟ مِمَّا يَكُونُ مِنَ النَّاسِ، قَالَ: «يَا عِبَادَ اللهِ، وَضَعَ اللهُ الْحَرَجَ إِلَّا مَنِ اقْتَرَضَ مِنْ عِرْضٍ امْرِئٍ فَذَلِكَ الَّذِي حَرِجَ وَهَلَكَ»
ترجمہ

…راوی کہتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھا تھا کہ ہر طرف سے بدو آنے لگے یہاں تک کہ ان کی تعداد بہت بڑھ گئی، اور لوگ خاموش ہو گئے، پھر انہوں نے پکار کر کہا: یا رسول اللہ! کیا ہم علاج کروائیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، اللہ عزوجل نے کوئی بیماری نہیں رکھی مگر اس کی شفا بھی رکھی ہے سوائے ایک کے۔“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بڑھاپا۔“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! انسان کو دی گئی چیزوں میں سب سے بہتر چیز کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اچھے اخلاق۔“ پھر انہوں نے پکار کر کہا: یا رسول اللہ! لوگوں کے درمیان جو (معاملات) پیش آتے ہیں ان میں فلاں فلاں چیز میں ہم پر حرج تو نہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ کے بندو! اللہ نے حرج ختم کر دیا ہے، سوائے اس شخص کے جو کسی کی عزت پر ڈاکہ ڈالے، وہی ہے جو حرج میں پڑا اور ہلاک ہوا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 480
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 184، حدیث 483