حدیث نمبر: 462
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْقَطِرَانِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، قَالَا: أَنَا زَائِدَةُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَتِ الْأَعْرَابُ فَسَأَلُوهُ: مَا خَيْرُ مَا أُعْطِيَ النَّاسُ؟ قَالَ: خُلُقٌ حَسَنٌ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ أَنَتَدَاوَى؟ قَالَ: «نَعَمْ، عِبَادَ اللهِ، تَدَاوَوْا فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يَضَعْ فِي الْأَرْضِ دَاءً إِلَّا وَضَعَ لَهُ شِفَاءً غَيْرَ دَاءٍ وَاحِدٍ» قَالُوا: وَمَا هُوَ؟ قَالَ: «الْهَرَمُ»
ترجمہ

سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کے پاس تھا کہ بدو آئے اور پوچھا: لوگوں کو دی گئی چیزوں میں سب سے بہتر چیز کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اچھے اخلاق۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہم علاج کروائیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، اے اللہ کے بندو! علاج کرواؤ، اللہ عزوجل نے زمین میں کوئی بیماری نہیں رکھی مگر اس کی شفا بھی رکھی ہے سوائے ایک بیماری کے۔“ انہوں نے عرض کیا: وہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بڑھاپا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 462
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 180، حدیث 465