المعجم الكبير للطبراني
باب الألف— حرف الف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب ما جاء في التداوي وترك الغيبة وحسن الخلق باب: علاج کروانے، غیبت چھوڑنے اور حسنِ اخلاق کے بارے میں وارد روایات کا بیان
حدیث نمبر: 468
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنَّ عَلَى رُءُوسِنَا الطَّيْرَ، مَا يَتَكَلَّمُ مِنَّا مُتَكَلِّمٌ إِذْ جَاءَهُ أُنَاسٌ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، أَفْتِنَا فِي كَذَا، أَفْتِنَا فِي كَذَا، فَقَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ وَضَعَ اللهَ الْحَرَجَ إِلَّا مَنِ اقْتَرَضَ مِنْ أَخِيهِ قَرْضًا فَذَلِكَ الَّذِي حَرِجَ وَهَلَكَ، أَفَنَتَدَاوَى يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «نَعَمْ، إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يُنْزِلْ دَاءً إِلَّا أَنْزَلَ لَهُ دَوَاءً غَيْرَ دَاءٍ وَاحِدٍ» . قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، وَمَا هُوَ؟ قَالَ: " الْهَرَمُ، قَالُوا: فَمَنْ أَحَبُّ عِبَادِ اللهِ إِلَى اللهِ؟ قَالَ: «أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا»ترجمہ
…ہمیں فلاں فلاں معاملے میں فتویٰ دیجیے، فتویٰ دیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے لوگو! اللہ نے حرج ختم کر دیا ہے، سوائے اس شخص کے جو اپنے بھائی کی عزت پر ڈاکہ ڈالے، وہی ہے جو حرج میں پڑا اور ہلاک ہوا۔“ (عرض کیا گیا:) یا رسول اللہ! کیا ہم علاج کروائیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، اللہ عزوجل نے کوئی بیماری نہیں اتاری مگر اس کے لیے دوا بھی اتاری ہے سوائے ایک بیماری کے۔“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بڑھاپا۔“ انہوں نے عرض کیا: تو اللہ کے بندوں میں اللہ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو ان میں سب سے اچھے اخلاق والا ہو۔“