المعجم الكبير للطبراني
باب الألف— حرف الف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب ما جاء في التداوي وترك الغيبة وحسن الخلق باب: علاج کروانے، غیبت چھوڑنے اور حسنِ اخلاق کے بارے میں وارد روایات کا بیان
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ السُّلَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْأَحْمَسِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْأَسَدِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ قُطْبَةَ، قَالَ: كَانَ الْأَعْرَابُ إِذَا جَاءُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اغْتَنَمْنَاهُمْ لِجَفَائِهِمْ، فَجَاءُوا، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، عَلَيْنَا حَرَجٌ فِي كَذَا؟ قَالَ: " لَا حَرَجَ، وُضِعَ الْحَرَجُ عِبَادَ اللهِ، إِلَّا مَنِ اقْتَرَضَ مِنْ عِرْضِ أَخِيهِ بِظُلْمٍ فَذَلِكَ الَّذِي حَرِجَ وَهَلَكَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا خَيْرُ مَا أُعْطِيَ الْإِنْسَانُ؟ قَالَ: «خُلُقٌ حَسَنٌ» هَكَذَا رَوَاهُ وَهْبُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ وَهِمَ فِيهِ، وَالصَّوَابُ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍقطبہ کہتے ہیں: بدو جب نبی کریم ﷺ کے پاس آتے تو ہم ان کی بےباکی کے باعث (سوال پوچھنے کا) موقع غنیمت جانتے، تو وہ آئے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ! کیا ہم پر فلاں چیز میں حرج ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں، اے اللہ کے بندو! حرج ختم کر دیا گیا ہے، سوائے اس شخص کے جو ظلماً اپنے بھائی کی عزت پر ڈاکہ ڈالے، وہی ہے جو حرج میں پڑا اور ہلاک ہوا۔“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! انسان کو دی گئی چیزوں میں سب سے بہتر چیز کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اچھے اخلاق۔“
اس حدیث کو وہب بن اسماعیل نے محمد بن قیس سے اسی طرح روایت کیا ہے، جس میں انہیں وہم ہوا ہے، درست روایت سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ سے ہے۔