حدیث نمبر: 463
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ، أَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ، قَالَ: شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَتَاهُ الْأَعْرَابُ، فَقَالُوا: عَلَيْنَا حَرَجٌ فِي كَذَا، عَلَيْنَا حَرَجٌ فِي كَذَا فِي أَشْيَاءَ مِنْ أُمُورِهِمْ لَا بَأْسَ بِهَا؟ فَقَالَ: «عِبَادَ اللهِ، وَضَعَ اللهُ الْحَرَجَ إِلَّا مِنْ رَجُلٍ اقْتَرَضَ مِنْ عِرْضِ امْرِئٍ مُسْلِمٍ، فَذَلِكَ الَّذِي حَرَجَ وَهَلَكَ» ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، أَنَتَدَاوَى؟ قَالَ: " نَعَمْ، تَدَاوَوْا فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يُنْزِلْ دَاءً إِلَّا وَضَعَ لَهُ شِفَاءً غَيْرَ دَاءٍ وَاحِدٍ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا خَيْرُ مَا أُعْطِيَ الْإِنْسَانُ؟ قَالَ: «خُلُقٌ حَسَنٌ»
ترجمہ

سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کے پاس حاضر تھا کہ بدو آئے اور کہنے لگے: فلاں فلاں چیز میں ہم پر کوئی حرج تو نہیں، اپنے ایسے معاملات میں جن میں کوئی حرج نہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ کے بندو! اللہ نے حرج ختم کر دیا ہے، سوائے اس شخص کے جو کسی مسلمان کی عزت پر ڈاکہ ڈالے، وہی ہے جو حرج میں پڑا اور ہلاک ہوا۔“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہم علاج کروائیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، علاج کرواؤ، اللہ عزوجل نے کوئی بیماری نہیں اتاری مگر اس کی شفا بھی رکھی ہے سوائے ایک بیماری کے۔“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! انسان کو دی گئی چیزوں میں سب سے بہتر چیز کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اچھے اخلاق۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 463
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 180، حدیث 466