کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: جماعت کو لازم پکڑنے اور اس سے جدا ہونے کی ممانعت وغیرہ کے بارے میں وارد روایات کا بیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّمَا رَجُلٍ خَرَجَ يُفَرِّقُ بَيْنَ أُمَّتِي فَاضْرِبُوا عُنُقَهُ» هَكَذَا رَوَاهُ زَيْدُ بْنُ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ أُسَامَةَ، وَالصَّوَابُ عَنْ عَرْفَجَةَ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ مُجَالِدٍ
ترجمہ
سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص بھی میری امت میں تفرقہ ڈالنے کے لیے نکلے، اس کی گردن اڑا دو۔“
اس حدیث کو زید بن عطاء بن سائب نے زیاد بن علاقہ سے، انہوں نے اسامہ سے اسی طرح روایت کیا ہے، جبکہ درست روایت سیدنا عرفجہ رضی اللہ عنہ سے ہے، اور اسی طرح محمد بن بشر نے مجالد سے روایت کی ہے۔
اس حدیث کو زید بن عطاء بن سائب نے زیاد بن علاقہ سے، انہوں نے اسامہ سے اسی طرح روایت کیا ہے، جبکہ درست روایت سیدنا عرفجہ رضی اللہ عنہ سے ہے، اور اسی طرح محمد بن بشر نے مجالد سے روایت کی ہے۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ أُمَّتِي وَهُمْ جَمِيعٌ فَاضْرِبُوا رَأْسَهُ كَائِنًا مَنْ كَانَ»
ترجمہ
سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص میری امت میں تفرقہ ڈالے جبکہ وہ سب متحد ہوں، تو اس کا سر اڑا دو، خواہ وہ کوئی بھی ہو۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ السَّقَطِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ أَبِي الْمُسَاوِرِ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَدُ اللهِ عَلَى الْجَمَاعَةِ، فَإِذَا شَذَّ الشَّاذُّ مِنْهُمُ اخْتَطَفَهُ الشَّيْطَانُ كَمَا يَخْتَطِفُ الذِّئْبُ الشَّاةَ مِنَ الْغَنَمِ»
ترجمہ
سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کا ہاتھ جماعت پر ہے، جو اس سے الگ ہو جائے، شیطان اسے اسی طرح اچک لیتا ہے جیسے بھیڑیا ریوڑ سے کسی الگ بکری کو اچک لیتا ہے۔“
ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنِ أَبِي الْمُسَاوِرِ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ: «وُزِنَ أَصْحَابِي اللَّيْلَةَ فَوُزِنَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، ثُمَّ وُزِنَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، ثُمَّ وُزِنَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ» هَكَذَا رَوَاهُ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، وَرَوَاهُ سَعْدَوَيْهِ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ أَبِي الْمُسَاوِرِ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ قُطْبَةَ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عَرْفَجَةَ
ترجمہ
سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ایک دن فرمایا: ”آج رات میرے صحابہ کو تولا گیا، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ (سب سے زیادہ) وزنی نکلے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ۔“
اسے یزید بن ہارون نے اسی طرح روایت کیا ہے، جبکہ سعدویہ نے اسے عبدالاعلیٰ بن ابی المساور سے، انہوں نے زیاد بن علاقہ سے، انہوں نے قطبہ بن مالک سے، انہوں نے سیدنا عرفجہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔
اسے یزید بن ہارون نے اسی طرح روایت کیا ہے، جبکہ سعدویہ نے اسے عبدالاعلیٰ بن ابی المساور سے، انہوں نے زیاد بن علاقہ سے، انہوں نے قطبہ بن مالک سے، انہوں نے سیدنا عرفجہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔
ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فِي الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ دَاءٍ إِلَّا السَّامَ»
ترجمہ
سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کلونجی میں ہر بیماری کی شفا ہے سوائے موت کے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ زَنْجَلَةَ الرَّازِيُّ، ثنا الصَّبَّاحُ بْنُ مُحَارِبٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، وَعَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ: «لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةٌ، وَلِلْمُقِيمِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ»
ترجمہ
سیدنا یعلیٰ بن مرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں فرمایا: ”مسافر کے لیے تین دن (تین راتیں) اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات (کی اجازت) ہے۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ صَالِحٍ الدَّهَّانُ الْكُوفِيُّ، ثنا مُفَضَّلُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا مِنْ أَحَدٍ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ بِعَمَلٍ» . قُلْنَا: وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «لَا وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللهُ عَزَّ وَجَلَّ بِرَحْمَةٍ مِنْهُ» وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ
ترجمہ
سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”کوئی شخص محض اپنے عمل کی بنیاد پر جنت میں داخل نہیں ہوگا۔“ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ بھی نہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہ میں بھی نہیں، سوائے اس کے کہ اللہ عزوجل مجھے اپنی رحمت سے ڈھانپ لے“، اور آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ اپنے سر پر رکھا۔
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَمَعَهُ شَيْطَانٌ» قُلْنَا: وَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «وَأَنَا، إِلَّا أَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ أَعَانَنِي عَلَيْهِ فَأَسْلَمَ»
ترجمہ
اسی سند سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”تم میں سے ہر ایک کے ساتھ ایک شیطان مقرر ہے۔“ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اور آپ کے ساتھ بھی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور میرے ساتھ بھی، مگر اللہ عزوجل نے اس کے مقابلے میں میری مدد کی، تو وہ مسلمان ہو گیا۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا مَعْمَرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَامِرُ بْنُ مُدْرِكٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْأَقْمَرِ، حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ شَرِيكٍ الثَّعْلَبِيُّ، قَالَ: إِنِّي لَمَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ قُرِّبَتْ إِلَيْهِ جِنَازَةٌ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهَا، فَالْتَفَتَ فَبَصُرَ بِامْرَأَةٍ مُقْبِلَةٍ، فَقَالَ: «رُدُّوهَا» فَرَدُّوهَا مِرَارًا حَتَّى تَوَارَتْ، فَلَمَّا رَآهَا تَوَارَتْ كَبَّرَ عَلَيْهَا
ترجمہ
سیدنا اسامہ بن شریک ثعلبی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا کہ آپ کے سامنے ایک جنازہ لایا گیا تاکہ آپ اس پر نماز پڑھیں، آپ ﷺ نے مڑ کر دیکھا تو ایک عورت کو آتے دیکھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے واپس بھیجو۔“ چنانچہ اسے بار بار واپس بھیجا گیا یہاں تک کہ وہ اوجھل ہو گئی، جب آپ ﷺ نے اسے اوجھل ہوتے دیکھا تو جنازے پر تکبیر کہی۔