حدیث نمبر: 479
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَمَّالُ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَامِرِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا النُّعْمَانُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، وَغَيْرِ وَاحِدٍ، ثنا زِيَادُ بْنُ عِلَاقَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ، قَالَ: شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُ نَاسٌ مِنَ الْأَعْرَابِ يَسْأَلُونَهُ عَنْ يَمِينِهِ، وَعَنْ يَسَارِهِ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَلْ عَلَيْنَا حَرَجٌ فِي كَذَا وَكَذَا؟ مَرَّتَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ وَضَعَ الْحَرَجَ إِلَّا مَنِ اقْتَرَضَ امْرَأً مُسْلِمًا ظُلْمًا» أَوْ قَالَ: " بِظُلْمٍ فَذَلِكَ حَرِجَ وَهَلَكَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، أَنَتَدَاوَى مِنْ كَذَا وَكَذَا؟ مَرَّتَيْنِ، قَالَ: " نَعَمْ، تَدَاوَوْا فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يُنْزِلْ دَاءً إِلَّا أَنْزَلَ لَهُ شِفَاءً غَيْرَ دَاءٍ وَاحِدٍ، الْهَرَمُ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا خَيْرُ مَا أُعْطِيَ النَّاسُ؟ قَالَ: «خُلُقٌ حَسَنٌ»
ترجمہ

…اتنے میں بدو دائیں بائیں سے آپ ﷺ کے پاس آئے اور پوچھنے لگے: یا رسول اللہ! کیا ہم پر فلاں فلاں چیز میں حرج ہے؟ (یہ سوال) دو بار (دہرایا)، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ عزوجل نے حرج ختم کر دیا ہے، سوائے اس شخص کے جو کسی مسلمان پر ظلماً ڈاکہ ڈالے“ - یا فرمایا: ”ظلم کے ساتھ“ - ”وہی ہے جو حرج میں پڑا اور ہلاک ہوا۔“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہم فلاں فلاں بیماری کا علاج کروائیں؟ (یہ سوال) دو بار (دہرایا)، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، علاج کرواؤ، اللہ عزوجل نے کوئی بیماری نہیں اتاری مگر اس کی شفا بھی اتاری ہے سوائے ایک بیماری کے، (وہ ہے) بڑھاپا۔“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! لوگوں کو دی گئی چیزوں میں سب سے بہتر چیز کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اچھے اخلاق۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 479
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 184، حدیث 482