المعجم الكبير للطبراني
باب الألف— حرف الف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب ما جاء في التداوي وترك الغيبة وحسن الخلق باب: علاج کروانے، غیبت چھوڑنے اور حسنِ اخلاق کے بارے میں وارد روایات کا بیان
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، وَأَبُو حَنِيفَةَ مُحَمَّدُ بْنُ حَنِيفَةَ الْوَاسِطِيُّ، قَالَا: ثنا مَعْمَرُ بْنُ سَهْلٍ الْأَهْوَازِيُّ، حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ مُدْرِكٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمٌ مِنَ الْأَعْرَابِ مُتَقَلِّدِي السُّيُوفِ، فَأَكَبُّوا عَلَيْهِ يَسْأَلُونَهُ، فَأَشْفَقْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَنَوْنَا مِنْهُمْ، قَالَ: وَسَمِعْتُهُمْ يَقُولُونَ: هَلْ عَلَيْنَا حَرَجٌ فِي كَذَا؟ هَلْ عَلَيْنَا حَرَجٌ فِي كَذَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ وَضَعَ اللهُ الْحَرَجَ إِلَّا رَجُلٌ اقْتَرَضَ مِنْ عِرْضِ أَخِيهِ مُسْلِمًا فَذَلِكَ الَّذِي حَرِجَ وَهَلَكَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، نَتَدَاوَى مِنْ كَذَا؟ نَتَدَاوَى مِنْ كَذَا؟ قَالَ: " تَدَاوَوْا فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يُنْزِلْ دَاءً إِلَّا أَنْزَلَ لَهُ دَوَاءً إِلَّا الْهَرَمَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ مَا خَيْرُ مَا أُعْطِيَ الْعَبْدُ الْمُسْلِمُ فِي الدُّنْيَا؟ قَالَ: «الْخُلُقُ الْحَسَنُ»سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم ﷺ کے پاس تلواریں لٹکائے ہوئے بدوؤں کی ایک جماعت آئی اور آپ ﷺ پر جھک کر سوال کرنے لگی، تو ہمیں نبی کریم ﷺ (کی حفاظت) کی فکر ہوئی، چنانچہ ہم ان کے قریب ہو گئے۔ راوی کہتے ہیں: میں نے انہیں یہ کہتے سنا: کیا ہم پر فلاں فلاں چیز میں حرج ہے؟ کیا ہم پر فلاں فلاں چیز میں حرج ہے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے لوگو! اللہ نے حرج ختم کر دیا ہے، سوائے اس شخص کے جو اپنے مسلمان بھائی کی عزت پر ڈاکہ ڈالے، وہی ہے جو حرج میں پڑا اور ہلاک ہوا۔“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہم فلاں فلاں بیماری کا علاج کروائیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”علاج کرواؤ، اللہ عزوجل نے کوئی بیماری نہیں اتاری مگر اس کی دوا بھی اتاری ہے سوائے بڑھاپے کے۔“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مسلمان بندے کو دنیا میں دی گئی چیزوں میں سب سے بہتر چیز کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اچھے اخلاق۔“