حدیث نمبر: 469
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرٌ، كِلَاهُمَا عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجًّا، فَكَانَ النَّاسُ يَأْتُونَهُ، فَقَالَ قَائِلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، سَعَيْتُ قَبْلَ أَنْ أَطُوفَ، أَوْ أَخَّرْتُ شَيْئًا، فَكَانَ يَقُولُ لَهُمْ: «لَا حَرَجَ إِلَّا عَلَى رَجُلٍ اقْتَرَضَ مِنْ عِرْضِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ وَهُوَ ظَالِمٌ، فَذَلِكَ الَّذِي حَرِجَ وَهَلَكَ»
ترجمہ

…وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ حج کے لیے نکلا، لوگ آپ کے پاس آتے رہتے، کسی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے طواف سے پہلے سعی کر لی، یا کوئی چیز مؤخر کر دی؟ آپ ﷺ ان سے فرماتے: ”کوئی حرج نہیں، سوائے اس شخص کے جو ظلماً کسی مسلمان کی عزت پر ڈاکہ ڈالے، وہی ہے جو حرج میں پڑا اور ہلاک ہوا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 469
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 181، حدیث 472