❮
❯
حدیث نمبر: 4497
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ : سَمِعْتُ حُصَيْنَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيَّ ، يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ الْحَكَمِ ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ الصَّلْتِ الْبُرْجُمِيِّ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنْ دَارِهِ وَالْإِمَامُ رَاكِعٌ ، فَرَكَعْنَا ، ثُمَّ مَشَيْنَا حَتَّى اتَّصَلْنَا بِالصَّفِّ ، فَمَرَّ رَجُلٌ ، فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، فَقَالَ : اللهُ أَكْبَرُ ، صَدَقَ اللهُ وَرَسُولُهُ ، فَلَمَّا قَضَيْنَا الصَّلَاةَ ، قُلْنَا : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، كَأَنَّهُ رَاعَكَ تَسْلِيمُ الرَّجُلِ ، قَالَ : أَجَلْ ، كَانَ يُقَالُ : إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يُتَّخَذَ الْمَسَاجِدُ طُرُقًا ، وَأَنْ يُسَلِّمَ الرَّجُلُ عَلَى الرَّجُلِ بِالْمَعْرِفَةِ ، وَأَنْ تَتَّجِرَ الْمَرْأَةُ وَالرَّجُلُ جَمِيعًا ، وَأَنْ تَغْلُوَ النِّسَاءُ وَالْخَيْلُ جَمِيعًا ، ثُمَّ تَرْخُصُ ، فَلَا تَغْلُو أَبَدًا .
4497 \ 2 - أَخْبَرَنَا النَّضْرُ : أَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، مِثْلَهُ .
4497 \ 3 - وَقَالَ الطَّيَالِسِيُّ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، نَحْوَهُ .
4497 \ 4 - وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، ثَنَا حُصَيْنٌ ، نَحْوَهُ .
4497 \ 5 - وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ : كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَيْنِي وَبَيْنَ مَسْرُوقٍ ، فَمَرَّ أَعْرَابِيٌّ ، فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ ، فَضَحِكَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَسُئِلَ ، قَالَ : فَذَكَرَهُ نَحْوَهُ .
4497 \ 6 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْخَطَّابِ ، ثَنَا مُؤَمَّلٌ ، ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، نَحْوَهُ .
وَرَوَاهُ أَحْمَدُ مِنْ حَدِيثِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، بِمَعْنَاهُ مُخْتَصَرًا ، وَمِنْ طَرِيقِ طَارِقٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِمَعْنَاهُ أَيْضًا .
ترجمہ

سیدنا خارجہ بن صلت البرجمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ہمراہ ان کے گھر سے نکلے، (جب ہم مسجد پہنچے) تو امام رکوع کی حالت میں تھا، ہم نے بھی رکوع کیا اور (اسی حالت میں) چلتے ہوئے صف سے جا ملے، اسی دوران ایک شخص پاس سے گزرا اور اس نے کہا: ”السلام علیک یا ابا عبدالرحمن“ (اے ابو عبدالرحمن! آپ پر سلامتی ہو)۔ اس پر ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «اللهُ أَكْبَرُ ، صَدَقَ اللهُ وَرَسُولُهُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا“۔ جب ہم نماز مکمل کر چکے تو ہم نے عرض کیا: ”اے ابو عبدالرحمن! ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس شخص کے سلام نے آپ کو چونکا دیا ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: ”ہاں، دراصل یہ کہا جاتا تھا کہ بے شک قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ مساجد کو (عبادت گاہ کے بجائے) گزرگاہوں کے طور پر اختیار کیا جائے گا، اور یہ کہ ایک آدمی دوسرے کو صرف جان پہچان کی بنیاد پر سلام کرے گا، اور یہ کہ مرد اور عورت دونوں مل کر تجارت کریں گے، اور یہ کہ عورتیں (مہر کے لحاظ سے) اور گھوڑے (قیمت کے لحاظ سے) بہت مہنگے ہو جائیں گے، پھر وہ اتنے سستے ہوں گے کہ دوبارہ کبھی مہنگے نہیں ہوں گے“۔
اسے نضر نے شعبہ سے، انہوں نے حصین سے اسی سند کے ساتھ اسی کی مانند روایت کیا ہے۔
امام طیالسی نے شعبہ سے، انہوں نے حصین سے اس کی مثل نقل کیا ہے۔
احمد بن منیع نے ہشیم سے، انہوں نے حصین سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
حارث نے داؤد سے، انہوں نے حماد بن سلمہ سے، انہوں نے ابوحمزہ سے، انہوں نے ابراہیم سے اور انہوں نے علقمہ سے روایت کیا کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ میرے اور مسروق کے درمیان (چل رہے) تھے کہ ایک دیہاتی گزرا اور اس نے کہا: ”السلام علیک یا ابن ام عبد“ (اے ابنِ امِ عبد! آپ پر سلامتی ہو)۔ اس پر ابن مسعود رضی اللہ عنہ مسکرا دیے، جب ان سے اس بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی۔
ابویعلیٰ نے محمد بن خطاب سے، انہوں نے مؤمل سے، انہوں نے سفیان سے اور انہوں نے حصین سے اس کی مانند روایت کی ہے۔
امام احمد نے اسے اسود بن یزید کے واسطے سے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے ان کے الفاظ میں مختصراً، اور طارق کے واسطے سے بھی ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے انہی معنوں میں روایت کیا ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الفتوح / حدیث: 4497
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف »
«أخرجه صحيح ابن خزيمة برقم: 1326، وأخرجه المستدرك للحاكم برقم: 7135، وأخرجه السنن الكبرى للبيهقي برقم: 3379، وأخرجه مسند أحمد برقم: 3738، وأخرجه مسند الطيالسي برقم: 393، وأخرجه مسند البزار برقم: 1459، وأخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 4497 / 2، وأخرجه مصنف عبد الرزاق برقم: 1678، وأخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 3439، وأخرجه شرح مشكل الآثار للطحاوي برقم: 1591، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 9485»