المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ الأشراط وعلامات الساعة باب: قیامت کی علامات کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْأَسَدِيُّ ، ثَنَا هَارُونُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي الْجُلَاسِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، يَقُولُ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ سَبَأٍ السَّبَئِيِّ : وَيْلَكَ ! وَاللهِ مَا أَفْضَى إِلَيَّ بِشَيْءٍ كَتَمَهُ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ ، وَاللهِ سَمِعْتُهُ يَقُولُ : إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ كَذَّابِينَ ثَلَاثِينَ ، وَإِنَّكَ أَحَدُهُمْ .
4510 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، بِهَذَا .
4510 \ 3 - وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْأَسَدِيُّ ، بِهِ .ابو الجلاس بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو عبداللہ بن سبأ سبئی کو (تنبیہ کرتے ہوئے) یہ فرماتے ہوئے سنا: ”تیرا ناس ہو! اللہ کی قسم، رسول اللہ ﷺ نے میرے ساتھ ایسی کوئی بات مخصوص نہیں فرمائی تھی جسے آپ ﷺ نے دیگر لوگوں سے چھپا کر رکھا ہو، اور بخدا! میں نے آپ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: ”قیامت کے برپا ہونے سے پہلے تیس کذاب (پرلے درجے کے جھوٹے فتنہ پرور) ظاہر ہوں گے، اور تو یقیناً انھی میں سے ایک ہے۔“ “
امام ابو یعلیٰ موصلی نے کہا کہ ہم سے ابوبکر نے اسی سند کے ساتھ یہ حدیث بیان کی ہے۔
اور ہمیں ابو کریب نے محمد بن حسن اسدی کے واسطے سے یہی حدیث بیان کی ہے۔