المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ الأشراط وعلامات الساعة باب: قیامت کی علامات کا بیان۔
أَخْبَرَنَا الْمُلَائِيُّ ، ثَنَا الْوَلِيدُ وَهُوَ ابْنُ جُمَيْعٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الْجَهْمِ الْقُرَشِيُّ ، قَالَ : أَقْبَلْتُ أَنَا وَزَيْدُ بْنُ الْحَسَنِ وَابْنُ رُمَّانَةَ مَوْلَى عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مَرْوَانَ قَدْ نَصَبْنَا لَهُ أَيْدِيَنَا وَهُوَ مُتَّكِئٌ عَلَيْنَا ، فَدَخَلْنَا مَسْجِدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِيهِ ابْنُ نِيَارٍ ، رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَرْسَلَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنِ ائْتِنِي ، فَأَتَاهُ ، فَقَالَ : رَأَيْتُكُمَا ، وَابْنُ رُمَّانَةَ بَيْنَكُمَا مُتَّكِئٌ عَلَيْكَ وَعَلَى زَيْدِ بْنِ الْحَسَنِ ، وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَكُونَ الدُّنْيَا عِنْدَ لُكَعِ بْنِ لُكَعٍ .ابوبکر بن ابی الجہم القرشی بیان کرتے ہیں کہ میں، زید بن الحسن اور عبدالعزیز بن مروان کے آزاد کردہ غلام ابن رمانہ اکٹھے آ رہے تھے، ہم نے ابن رمانہ کو سہارا دینے کے لیے اپنے ہاتھ اور بازو پھیلا رکھے تھے اور وہ ہم پر ٹیک لگائے ہوئے چل رہا تھا، جب ہم رسول اللہ ﷺ کی مسجد میں داخل ہوئے تو وہاں نبی کریم ﷺ کے جلیل القدر صحابی سیدنا ابن نیار رضی اللہ عنہ موجود تھے، انہوں نے ابوبکر (راوی) کی طرف پیغام بھیجا کہ میرے پاس آؤ، پس جب وہ ان کے پاس آئے تو انہوں نے فرمایا: ”میں نے تم دونوں کو دیکھا کہ ابن رمانہ تمہارے درمیان تم پر اور زید بن الحسن پر سہارا لیے ہوئے (بڑے فخر سے) چل رہا تھا، حالانکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک کہ دنیا کی زمامِ اقتدار کسی ذلیل و خوار شخص کے ذلیل و خوار بیٹے (یعنی انتہائی نااہل اور کم ظرف شخص) کے ہاتھ میں نہ چلی جائے۔““
امام حاکم نے اس حدیث کو روایت کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے مگر انہوں نے اسے نقل نہیں کیا، نیز علامہ ذہبی نے بھی تلخیص میں اس کی تائید و موافقت کی ہے۔